شاطر قیدی نمبر 804 اپوزیشن جماعتوں کو کیسے ماموں بنا رہا ہے؟

تحریک انصاف کی ’’آزاد قیادت‘‘ عمران خان کے’’وژن‘‘ کے مطابق بنے سیاسی اتحاد کے ذرئعے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تحریک کا آغاز کر چکی ہے جس کا مقصد ملک کی خوشحالی، معاشی استحکام یا مہنگائی اور غربت کا خاتمہ نہیں بلکہ صرف عمران خان کی رہائی کیلئے عدالتوں پر دباؤ بڑھانا ہے۔ دوسری جانب عدالتوں کے خوف سے قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش ہیں جس سے امن و امان کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کمپرومائز ہورہی ہے کیونکہ تحریک انصاف حب الوطن سیاسی جماعتوں کو غلط طور پر استعمال کرکے اسلام آباد پر یلغار کرنے اور 2014کی طرح طویل دھرنے کی صورت میں وفاقی دارالحکومت کو مفلوج کرنے کا منصوبہ لے کر اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے. سینئر صحافی شکیل انجم کی ایک تحریر کے مطابق ملک کی ترقی کی راہ میں بارودی سرنگیں بچھانے کے مشن پر کاربند قوتیں ایک بار پھر مظلومیت کا چہرہ پہن کرانسانی حقوق اور جمہوریت کے نام پر عدلیہ کے پیچھے چھپ کر اپنے’’نظریۂ بغاوت‘‘ کی تکمیل کے لئے’’سہاروں‘‘ کی تلاش میں ہیں جبکہ سوشل میڈیا بریگیڈ پوری قوت کے ساتھ غزہ پر اسرائیلی فوج کشی کے خلاف عمران خان کو’’قومی ہیرو‘‘ ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے جس کیلئے جھوٹی کہانیاں گھڑ گھڑ کر عمران خان سے منسوب کیا جارہا ہے۔ یہ ہی تحریک انصاف ایک بار پھر وفاقی دارالحکومت کو مفلوج کرنے کا منصوبہ لے کر اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ان خدشات کے اظہار کو اس لئے مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ 2014کے دھرنے سے ریاست کے خلاف 9؍مئی کی بغاوت تک تحریک انصاف نے اس ملک کے ساتھ وہ سب کچھ کیا جس کے بارے میں کسی محب وطن کے لئے سوچنا بھی ممکن نہیں۔ شکیل انجم بتاتے ہیں کہ 2014میں عمران خان کسی نہ کسی طورلانگ مارچ ریلی کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد کی حدود میں داخل ہو گئے اور ن لیگ کی حکومت سے مذاکرات اور وعدے وعید کے بعد چند گھنٹوں کیلئے ریڈ زون میں پہنچ گئے اور آتے ہی مطالبات پورے ہونے تک ریڈ زون میں دھرنا دینے کا اعلان کردیا .یہ سلسلہ 126روز تک جاری رہا۔ آج تحریک انصاف کی قیادت کسی قسم کی خفت محسوس کئے بغیر یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس طویل دھرنے کے دوران ایک گملہ بھی نہیں ٹوٹا جبکہ یہ دھرنا اصل میں کوئی سیاسی اجتماع نہیں بلکہ آنے والے وقتوں میں طے شدہ بغاوت کی ریہرسل تھی، اس دوران اعلیٰ عدلیہ کے ججوں، پارلیمنٹ اور پارلیمنٹرینز کی توہین اور ان پر گند اچھالنا بھی اس ریہرسل کا حصہ تھی۔پولیس فورس کے خلاف غلیظ زبان استعمال کرنا اور فورس پر بہیمانہ تشدد کر کے یہ ثابت کرنا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی ڈنڈا بردار فورس کی موجودگی میں امن قائم کرنے کے قابل نہیں۔گملہ نہ ٹوٹنے کا دعویٰ کرنے والے یہ نہیں جھٹلا سکتے ہیں کہ اسلام آباد پر یلغار کرنے والوں نے پاکستان ٹیلیویژن کے ہیڈکوارٹر پر حملہ اور پھر قبضہ کر کے قومی نشریات بند کرادی تھیں لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے اس لئے خاموشی کی تصویر بنے رہے کہ عمران خان کا دعویٰ تھا کہ وہ فوج کے کندھوں پر سوار ہیں اس لئے ان کے خلاف طاقت کا استعمال ممکن نہیں۔اس دوران عمران خان نے نیشنل میڈیا کے خلاف بھی طاقت کا استعمال کیا، ا۔لوگوں نے یہ بھی دیکھا کہ عمران خان نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر سول نافرمانی کا اعلان کرتے ہوئے یوٹیلیٹی بل جلائے اور عوام کو ٹیکس ادا نہ کرنے پر اکسایا۔یہ سلسلہ 9؍مئی تک پہنچا جب کورکمانڈر ہاؤس، جی ایچ کیو، مختلف ائر بیس ، شہداء کی یادگاروں اور حساس تنصیبات کو نذرآتش کیا گیا اور ملک کی سلامتی کے اداروں کے خلاف نفرت کا اظہار کیا گیا۔ شکیل انجم کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت اب یہ دعویٰ کررہی ہے کہ 2014کا دھرنا پرامن جمہوری احتجاج تھا، آج 9؍مئی سانحہ کو بھی معمولی واقعہ دے کر عمران خان کے خلاف مقدمات واپس لینے اور ان کی’’باعزت رہائی‘‘ کا مطالبہ کر رہی ہے۔تحریک انصاف کا سوشل میڈیا بریگیڈ ایک بار پھر سرگرم عمل ہے اورفوج اس کے نشانے پرہے۔مختلف طریقوں سے ملک میں انتشار،لاقانونیت اور اشتعال پھیلا کر عوام کو ملک اور فوج کے خلاف اکسانے کی مہم جاری ہے، اداروں کے درمیان تصادم کی فضا پیدا کرکے دشمن کے حوصلے بلند کرنے کے مشن مکمل کیا جا رہا ہے۔کل تک اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں کرنے والے آج عمران خان کو فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کا سب سے بڑا مخالف قرار دے رہے ہیں، لیکن حقیقت میں لانگ مارچ کی آڑ میں ملک گیر تحریک کے ذریعے بغاوت اور انارکی پیدا کرنے کی کوششوں کا آغاز ہو رہا ہے ۔لیکن ان حالات میںجب ایران اسرائیل تنازع سنگین صورت اختیار کرچکا ہے، کیا عمران خان اسرائیلی جارحیت اور صیہونیت کے خلاف واضح بیان دینے کی ہمت کرسکتے ہیں؟؟
