شاہد آفریدی کس جماعت سے سیاسی کیریئر کا آغاز کریں گے؟

وزیر اعظم عمران خان کو اپنا آئیڈیل قرار دینے والے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے فلاحی کاموں کے ذریعے سیاسی میدان میں قدم رکھنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے کے لئے وہ عمران خان کی زیر قیادت تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کریں گے یا اپنی کوئی علیحدہ جماعت بنائیں گے؟
تاہم فلاحی کاموں کے ذریعہ لوگوں کے دلوں میں گھر کرنے کی اپنی کوششوں کے دوران بلوچستان میں سیاستدانوں کو ہدف تنقید بنانے پر شاہد آفریدی سوشل میڈیا پرعوامی غیض و غضب کا شکار ہو گئے۔
یاد ریے کہ شاہد آفریدی فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ’شاہد آفریدی فاﺅنڈیشن‘ بھی بنا رکھی ہے۔ گذشتہ دنوں سابق کرکٹر لاک ڈاﺅن کے باعث متاثر ہونے والے افراد کی امداد کے لیے بلوچستان گے اور خضدار، مستونگ، پشین، زیارت اور کوئٹہ میں پولیس شہداء کے لواحقین سمیت سینکڑوں افراد میں راشن اور نقد رقوم تقسیم کیں۔ شاہد آفریدی کے اس عمل کو جہاں لوگوں نے سراہا وہیں مستونگ کے کیڈٹ کالج میں راشن تقسیم کرنے کی تقریب کے دوران جب سابق کرکٹر نے صوبے کی پسماندگی کا ذمہ دار بلوچستان کے حکمرانوں کو قرار دیا، تو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شاہد آفریدی پر تنقید شروع ہوگئی۔ صارفین نے لکھا کہ شاہد آفریدی دراصل عمران خان کی پیروی کرتے ہوئے فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے سیاست میں آنا چاہتے ہیں تاکہ مال بھی بنتا رہے اور سیاست بھی چلتی رہے۔
شاہد آفریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’بلوچستان ہمارا ہے کا نعرہ لگانے والوں نے بلوچستان کے ساتھ بہت زیادتی کی ہے، ان سے پوچھنا پڑے گا کہ اتنے عرصے میں انہوں نے بلوچستان کے لیے کیا کیا؟ شاہد آفریدی نے بلوچستان کی خوبصورتی کا موازانہ امریکی ریاست ٹیکساس اور فلوریڈا سے کرتے ہوئے کہا کہ ‘اللہ تعالیٰ نے بلوچستان کو خوبصورتی، ماربل، گیس اور تیل سمیت ہر نعمت سے نوازا ہے۔ اس کے باوجود پورے پاکستان میں سب سے زیادہ غربت بلوچستان میں نظر آتی ہے۔ سابق کرکٹر کی طرف سے حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بنانے پر سوشل میڈیا صارفین نے شاہد آفریدی کو آڑے ہاتھوں لیا۔
ایک ٹوئٹر صارف قاسم خان نے شاہد آفریدی کی ویڈیو شیئر کی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ بلوچستان کے پسماندہ علاقے کے لوگوں میں راشن تقسیم کر رہے ہیں۔ تصویر پر طلال بلوچ نے لکھا ’ہم اہل بلوچستان شاہد آفریدی کو بلوچستان کی سرزمین پر اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کرنے پر تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔‘
معروف اینکر ثنا بُچہ نے شاہد آفریدی کی سرگرمیوں پر مشتمل نیوز رپورٹ ’شکریہ لالہ‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ شیئر کی تو ایک صارف نے سوالیہ انداز میں تبصرہ کیا کہ ‘شاید آفریدی بھی وزیراعظم بننے کی لائن میں لگ گئے ہیں؟’
جہاں ان پر تنقید ہوئی وہیں کچھ صارفین نے شاہد آفریدی کی فلاحی سرگرمیوں کی تعریف بھی کی اور ان کے بیان کا دفاع بھی کیا۔
ایک صارف سراج جٹک نے لکھا کہ جو کام جام کمال، اختر مینگل اور ثناء اللہ زہری کو کرنا چاہیے وہ شاہد آفریدی کر کے چلے گئے۔ ایمل ترین نے لکھا کہ ’شاید آفریدی کی بلوچستان آمد پر کچھ قوم پرست اور مذہبی ٹھیکیدار ڈر گئے کہ ایسا نہ ہو کہ لالہ ہماری دکان بند کروا دے۔‘جاوید کاکڑ نے تبصرہ کیا کہ ’اگر سیاست میں پیرا شوٹرز کا راستہ روکنا ہے تو سیاسی جماعتوں کے اندر خاندانی اور موروثی سیاست ترک کرنا ہوگی۔‘
شاہد آفریدی نے بلوچستان میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھنے اور وہاں کے بچوں کو کرکٹ کھیلنے اور پڑھانے کے لیے کراچی لے جانے کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ وہ صرف بلوچستان نہیں بلکہ پورے ملک میں خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ شاہد آفریدی کی جانب سے ملک بھر میں عوام کی خدمت کے عزم کا اظہار ظاہر کرتا ہے کہ جلد یا بدیر وہ سیاسی میدان میں قدم رکھنے والے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ وہ سیاست کے لیے تحریک انصاف کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہیں یا اپنی کوئی جماعت لانچ کرتے ہیں۔
