شاہد خاقان کی رہائی کے بعد خواجہ آصف کھڈے لائن لگ گئے

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی ضمانت پر رہائی کے بعد اسٹیبلشمنٹ نواز خواجہ آصف کی پارٹی معاملات سے چھٹی کرا دی گئی ہے اور وہ سائیڈ لائن ہو گئے ہیں۔ اب پارٹی کے تمام معاملات حال میں جھوٹے مقدمات بھگت کر ضمانت پررہائی پانے والے شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال اور رانا ثناء اللہ نے سنبھال لئے ہیں۔
یاد رہے کہ آرمی ترمیمی ایکٹ کے معاملے پر خواجہ آصف اور شاہد خاقان عباسی کے مابین شدید اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور تب بھی احسن اقبال اور رانا ثناء اللہ نے اپنا وزن شاہد خاقان کے پلڑے میں ڈالا تھا۔ شاہدخاقان، احسن اقبال اور رانا ثناء اللہ نے آرمی ترمیمی ایکٹ کے حق میں ووٹ دینے سے انکار کردیا تھا جبکہ خواجہ آصف نے اس کے حق میں ووٹ ڈالا تھا۔ تب خواجہ آصف پر یہ الزام بھی لگایا گیا تھا کہ وہ آرمی ترمیمی ایکٹ کے حق میں ووٹ دے کر خود کو وزیراعظم کا امیدوار بنا رہے ہیں۔ تاہم خواجہ صاحب کا موقف تھا کہ انہوں نے آرمی ترمیمی ایکٹ کو شریف برادران کے کہنے پر سپورٹ کیا۔
اب خبریں یہ ہیں کہ خواجہ آصف اور شاہد خاقان عباسی کے درمیان آرمی ایکٹ کی غیر مشروط حمایت سے شروع ہونے والے اختلافات برقرار ہیں اور دونوں ایک دوسرے سے بات چیت کے بھی روادار نہیں۔ ذرائع کے مطابق ضمانت پر رہائی کے بعد شاہد خاقان عباسی نے پارٹی قیادت پر واضح کیا کہ وہ خواجہ آصف سمیت پاکستان میں موجود کسی رہنما کی اپنے فیصلوں میں مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔ اگر انھیں کھل کر سیاست کرنے کا اختیار دیا جائے تو وہ سیاسی طور پر متحرک ہوں گے ورنہ وہ دیگر پارٹی رہنماؤں کی طرح خاموشی اختیار کر لیں گے۔
چنانچہ پارٹی قائد نواز شریف کی طرف سے انھیں ہر طرح کے سیاسی فیصلوں کے حوالے سے بااختیار بنایا گیا اور اب وہ نواز شریف کی مشاورت سے مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے کر کے معاملات آگے بڑھا رہے ہیں۔ شاہد خاقان نے حال ہی میں احسن اقبال کے ساتھ کراچی جا کر ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی ہے ۔
شاہد خاقان عباسی کے متحرک ہونے کے بعد خواجہ آصف ن لیگ کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے نظر نہیں آ رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے خواجہ آصف کو شاہد خاقان عباسی کی طرف سے لئے جانے والے فیصلوں میں عدم مداخلت کا پیغام پہنچا دیا ہے اور انھیں بتایا گیا ہے کہ شاہد خاقان تمام فیصلے پارٹی قائد کی مشاورت سے کر رہے ہیں اس لئے ان پر کسی قسم کے تحفظات یا اختلافات سے گریز کریں۔
نواز شریف کے قریبی ذرائع کا کہنا یے کہ خواجہ آصف نے نوازشریف کا نام لے کر پارٹی رہنماوٴں کو آرمی ایکٹ کی غیر مشروط حمایت پر رضا مند کیا لیکن بعد میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ آرمی ایکٹ کی غیر مشروط حمایت کی ہدایات پارٹی قائد کی بجائے پارٹی صدر شہباز شریف کی طرف سے آئی تھیں جن کو نوازشریف کا نام لے کر آگے پہنچایا گیا تھا۔ حال ہی میں پارٹی کے پارلیمانی لیڈرخواجہ آصف نواز شریف سے ملاقات کیلئے لندن پہنچے۔ تاہم نواز شریف نے اس معاملے پر گفتگو سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے جو کرنا تھا کر لیا ، اس معاملے پر مزید بات نہیں کرنا چاہتا۔ دوسری طرف آرمی ایکٹ ترمیمی بل کے حوالے سے ان سے مشاورت نہ کرنے پر سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی طرف سے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا جس کے بعد بات یہاں تک بگڑی کہ انھوں نے مسلم لیگ ن کا واٹس ایپ گروپ چھوڑ دیا اور شاہد خاقان عباسی نے خواجہ آصف کے ساتھ صلح کیلئے نہ صرف مریم نواز سے معذرت کر لی بلکہ دیگر پارٹی رہنماوں کی بھی اس حوالے سے بات ماننے سے انکار کر دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ خواجہ آصف کی وجہ سے پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تا حال شاہد خاقان عباسی اور خواجہ آصف کے مابین اختلافات برقرار ہیں اسی لئےجہاں شاہد خاقان عباسی ہوتے ہیں وہاں خواجہ آصف نہیں ہوتے۔دونوں کے درمیان بول چال مکمل طور پر بند ہے۔ شہباز شریف نے کچھ لوگوں کی ڈیوٹی لگائی ہے کہ ان کی صلح کرائی جائے لیکن انھیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے تاہم اب لگتا یہی ہے کہ شریف برادران کی ملک واپسی تک خواجہ آصف اور شاہد خاقان عباسی کے درمیان صلح نہیں ہو گی۔
