شاہی خاندان چھوڑنے والے پرنس ہیری گھر داماد بن گئے

رواں برس کے آغاز میں شاہی حیثیت سے دستبرداری کا اعلان کرنے والے شہزادہ ہیری گھر داماد بنتے ہوئے کینیڈا چھوڑ کر اپنی اہلیہ میگھنا مارکن کے امریکا والے گھر منتقل ہوگئے ہیں۔ تاہم صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کو سرکاری سکیورٹی مہیا نہیں کی جاسکتی اور وہ اپنے خرچے پر اپنی سیکیورٹی کا بندوبست کریں گے۔
یاد رہے کہ ہیری نے جنوری 2020 کے آغاز میں اچانک شاہی حیثیت چھوڑنے کا اعلان کرکے دنیا کو حیران کردیا تھا۔ بعد ازاں ملکہ برطانیہ اور شاہی خاندان کے دیگر افراد نے بھی انہیں ایسا کرنے کی اجازت دی تھی، جس کے بعد مارچ کے آغاز میں انہوں نے باضابطہ طور پر شاہی حیثیت چھوڑ دی تھی اور اپنی اہلیہ اور بچے کے ساتھ کینیڈا منتقل ہوگئے تھے۔ شاہی حیثیت چھوڑے جانے اور کینیڈا منتقل ہونے کے فوری بعد ہی شہزادہ ہیری اور ان کے اہل خانہ کی سیکیورٹی اخراجات کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا تھا اور کینیڈین حکومت نے واضح کردیا تھا کہ وہ شاہی جوڑے کے اخراجات برداشت نہیں کرے گی۔ اس اعلان کے بعد اب اطلاعات ہیں کہ شہزادہ ہیری اپنے اہل خانہ سمیت امریکا اہنی اہلیہ کے گھر منتقل ہوگئے ہیں، جہاں وہ اب گھر داماد بن کر وقت گزاریں گے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے دنوں میں شہزادہ ہیری اپنے اہل خانہ سمیت کینیڈا سے امریکا منتقل ہوچکے ہیں۔ بتایا گیا کہ شاہی جوڑا گزشتہ ہفتے امریکا منتقل ہوا اور ابتدائی طور پر شاہی جوڑا میگھن مارکل کے والدین کے گھر میں ہی رہ رہا ہے۔ ہیری اور میگھن مارکل کے امریکا منتقل ہوتےہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ان کے سیکیورٹی اخراجات برداشت کرنے سے واضح طور پر انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ ملکہ برطانیہ سے ان کے اچھے تعلقات ہیں مگر وہ شاہی جوڑے کے اخراجات برداشت نہیں کریں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک ٹوئٹ میں واضح کیا کہ شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل جنہوں نے کینیڈا میں مکمل سکونت اختیار کر رکھی تھی اب وہ امریکا منتقل ہوچکےہیں مگر وہ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ امریکی حکومت شاہی جوڑے کے سیکیورٹی اخراجات برداشت نہیں کرے گی۔
اسی حوالے سے بی بی سی نے بتایا کہ شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کے ترجمان نے بتایا کہ شاہی جوڑا امریکی حکومت سے سیکیورٹی مانگنے کا خواہاں نہیں۔ جوڑے کے ترجمان کے مطابق میگھن مارکل اور شہزادہ ہیری اپنے ذاتی اخراجات پر سیکیورٹی کا بندوبست کریں گے اور ان کا امریکی حکومت سے سیکیورٹی مانگنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ شاہی جوڑا امریکا میں ایک ایسے وقت میں منتقل ہوا ہے جب کہ امریکا میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور وہاں مریضوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ امریکا میں 30 مارچ کی صبح تک کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 7 لاکھ 23 ہزار سے زائد ہوچکی تھی جب کہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد بھی 2200 سے زائد ہو چکی تھی۔ امریکا کے مقابلے کینیڈا میں کورونا وائرس کی شدت کم ہے جب کہ برطانیہ میں بھی امریکا کے مقابلے کورونا کے مریض کم ہیں، تاہم اس باوجود شاہی جوڑا امریکا منتقل ہوچکا ہے جس پر کئی لوگوں نے حیرانگی کا اظہار بھی کیا ہے۔
