شاہی قلعہ میں نصب رنجیت سنگھ کا مجسمہ دوبارہ توڑ دیا گیا

جون 2019 میں شاہی قلعہ لاہور میں نصب کئے جانے والے پنجاب کے سکھ حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دھاتی مجسمے کو مذہبی شدت پسندوں نے قلعہ انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے دوسری مرتبہ ڈنڈوں کے وار کر کے توڑ ڈالا ہے۔ شاہی قلعہ کی انتظامیہ نے یہ افسوسناک واقعہ میڈیا سے چھپانے کی کوشش کی لیکن ایسا ہو نہ پایا۔
ہربنس پورہ کا ڈنڈا بردار رہائشی زبیر مجسمے کے ارد گرد کوئی حفاظتی باڑ نہ ہونے کی وجہ سے آسانی سے اس تک جا پہنچا اور پھر ڈنڈوں کے مسلسل وار کر کے اس کا بایاں بازو توڑ ڈالا۔ سکیورٹی کے موقع پر پہنچنے تک شدت پسند نوجوان واردات ڈال چکا تھا۔ قلعہ انتظامیہ نے زبیر کو حراست میں لینے کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا، مقدمہ کے اندراج کے بعد ملزم کو انویسٹی گیشن سیل کے حوالے کر دیا جس نے اپنے ابتدائی بیان میں یہ غلط العام کہانی دہرا دی کہ چونکہ رنجیت سنگھ مسلمانوں کا قاتل تھا، اس لئے اس نے اسکا مجسمہ توڑا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے اگست 2019 میں بی جماعت الدعوہ سے تعلق رکھنے والے دو مذہبی شدت پسندوں نے ڈنڈوں کے وار کر کے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے مجسمے کے دونوں بازو توڑ ڈالے تھے۔ باریش حملہ آوروں کا کہنا تھا کہ وہ بت شکن مسلمان حکمران سلطان محمود غزنوی کے پیروکار ہیں اور شاہی قلعہ میں ایک سکھ حکمران کا مجسمہ نصب کئے جانے کا فیصلہ ان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ یہ مجسمہ شاہی قلعہ کی مائی جندہ حویلی میں 28 جون 2019 کو نصب کیا گیا تھا اور اسے پہلی مرتبہ 12 اگست 2019 کے حملے میں توڑا گیا۔ اس مجسمے پر ڈنڈوں سے حملے کا دوسرا واقعہ 10 دسمبر 2020 کو پیش آیا۔ یاد رہے کہ یہ قیمتی مجسمہ ایک برطانوی سکھ بوبی سنگھ بنسال نے تحفہ کیا تھا جس کی اونچائی نو فٹ ہے اور اس میں سنہری دھات دے بنا مہاراجہ رنجیت سنگھ ایک گھوڑے پر سوار دیکھا جا سکتا ہے۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ سے نفرت کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تاریخ پڑھیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ رنجیت سنگھ بنیادی طور پر ایک ایسا سیکولر حکمران تھا جو تمام مذاہب کی برابر عزت کرتا تھا خصوصا اسلام کی۔ رنجیت سنگھ نے اپنی حکومت بابا گرونانک کے فلسفے پر چلائی اور کہا جاتا ہے کہ وہ پنجاب کی تاریخ کا واحد حکمران تھا جس کی فوج میں مسلمان ہندو اور سکھ تینوں مذاہب کے لوگ اہم عہدوں پر فائز تھے۔ رنجیت سنگھ کے قریب ترین لوگوں میں ان کے وزیرخارجہ فقیر عزیز الدین کے علاوہ نور الدین’ امام الدین’ محی الدین’ سلطان محمود اور دیگر کئی نامی گرامی مسلمان بھی شامل تھے جنہوں نے اس کے دور میں اہم عہدے سنبھالے رکھے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ سے نفرت کرنے والوں اور شاہی قلعہ کی مائی جندہ حویلی میں نصب اس کا مجسمہ توڑنے والوں کو ایک واقعہ سنانا بہت ضروری ہے۔
ایک مرتبہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اپنے وزیر خارجہ فقیر عزیز الدین سے کہا ‘رب چاہتا ہے کہ میں ہر مذہب کو ایک نظر سے دیکھوں اس لیے رب نے مجھے صرف ایک آنکھ ہی دی ہے’ فقیر عزیز الدین اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی اس بات چیت کا ذکر کرتار سنگھ دوگل کی کتاب ‘ رنجیت سنگھ ، دی لاسٹ ٹو لے آرم میں کیا گیا ہے۔ فقیر عزیز الدین کی طرح کئی اور مسلمان بھی مہاراجہ رنجیت کے دربار میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے جنھیں ان کے مذہب کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی خصوصی صلاحیتوں کی وجہ سے ان عہدوں پر فائز کیا گیا تھا۔ مہاراجہ رنجیت خود ایک پکے سکھ تھے اور ان کا عقیدہ گروہ گرنتھ صاحب پر تھا۔ اس کے باوجود مہاراجہ رنجیت سنگھ کا رحجان کسی ایک مذہب کی طرف نہیں تھا۔
برصغیر کی تاریخ میں رنجیت سنگھ کو ایک بہترین سیکولر حکمران قرار دیا جاتا ہے۔۔ وہ خود ایک پکے سکھ تھے لیکن انھوں نے اپنی حکومت، فوج میں اور اپنے رویے میں مذہب کو کبھی رکاوٹ نہیں بننے دیا تھا۔ مہاراجہ رنجبت سنگھ کی حکومت باباگرونانک کے فلسفے پر چلائی جاتی تھی۔ گرونانک کے فلسفے کا سب سے اہم جزو سماجی مساوات اور مذہبی آزادی تھا۔ سماجی مساوات کا اثر رنجیت سنگھ کی حکومت اور ان کی فوج میں صاف دیکھا جا سکتا تھا۔
رنجیت سنگھ کے دربار میں سکھوں کے علاوہ ہندو اور مسلمان افسر بھی تھے۔ مسلمان افسروں میں خاص نام عزیز الدین، نور الدین، امام الدین اور ان کی اولادیں ہیں جو مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت میں اعلی عہدوں پر فائز رہے ۔ جالندھر اور دوابا کے گورنر محی الدین، جنرل سلطان محمود، اور کئی اور مسلمان رنجیت کے دور میں اعلی عہدوں پر فائز تھے۔ مہاراجہ رنجیت کے دربار میں مختلف اوقات میں تقریباً ساٹھ یورپی لوگوں نے بھی اہم ذمہ داریاں نبھائی تھی۔ اندو بانگا نے بتایا کہ ہندوؤں میں دیوان محکم چند اور مصل دیوان چند فوج میں جرنیل تھے۔ دیوان بھوانی داس اور دینا ناتھ حساب کتاب دیکھتے تھے۔ مصر بیلی رام خزانے سےمتلعق کام پر مامور تھے۔
کرتار سنگھ دوگل اپنی کتاب ‘رنجیت سنگھ، دی لاسٹ ٹو لے آرمز’ میں لکھتے ہیں کہ فقیر امام الدین کو امرتسر کے گوبند گڑھ قلعے اور اس کے اردگرد کےعلاقوں کی ذمہ داری دی ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی امام الدین امرتسر میں اسلحہ کے ذخیرے اور شاہی اصطبل کے بھی انچارج تھے۔ کئی جنگی مہموں پر امام الدین کو بھیجا گیا تھا۔ امرتسر جیسے سکھ مذہب سے جڑے اہم شہر کے اہم قلعے کی ذمہ داری دے کر مہاراجہ نے واضح کر دیا تھا کہ وہ مذہب کے حوالے کوئی فرق روا نہیں رکھتے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت کے نظام انصاف میں شریعت اور شاستر دونوں کا برابری کا درجہ حاصل تھا۔ اگر کسی مسلمان کا مقدمہ ہوتا تو اس کے ساتھ شریعت کی روشنی میں فیصلہ ہوتا جب کہ ہندوؤں کے معاملات میں شاستر کا استعمال ہوتا تھا۔
ہندوؤں اور مسلمانوں کی جائیداد سے متعلق تمام فیصلے شریعت کے حساب سے کیے جاتے تھے۔ مہاراجہ جب حکومت میں آئے تو سکھ اکال تخت صاحب پر اکٹھا ہو کر فیصلے کرتے تھے جنھیں گرمت کہا جاتا تھا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے سروت خالصہ کی جگہ وزیروں کی کابینہ کو دی اور تمام فیصلے ان کی جانب سے لیے جانے لگے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں ہندوؤں اور مسلمانوں کو اعلی عہدوں پر فائز کیا گیا۔ رنجیت نے جہاں جہاں جنگی مہمیں بھیجیں، جس کو بھی ہرایا، اس کو راستے میں نہیں چھوڑا۔ رنجیت سنگھ کی طرف سے ہارے ہوئے بادشاہ کو حکومت کا حصہ بننے یا جاگیر کی پیشکش کی جاتی تھی۔مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ملتان کے صوبیدار مظفر خان کو بھی یہی پیش کش کی تھی۔ ایسی پیشکش کرتے وقت مذہب کو کبھی ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔
مشہور کتاب ‘ملٹری آفیرز آف مہاراجہ رنجیت سنگھ’ میں مہاراجہ رنجیت کی طرف سے ایک ہی افسر کو دیئےگئے چار سو سے زیادہ احکامات کی تفیصل موجود ہے۔ اس کتاب کو اندو بانگا اور جے ایس گریول نے ادارت کی ہے۔ اس کتاب میں دیئے گئے احکامات کے ذکر کرتے ہوئے اندو بانگا کہتی ہیں:’ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی طرف سے اپنے افسروں کو ہدایت دی جاتی تھی کہ فوجی مہم کے دوران عام لوگوں کو کوئی مشکل نہ ہو۔ کسانوں سے زبردستی کچھ نہ لیا جائے اور اگر لیا جائے تو اس کی پوری قیمت ادا کی جائے۔ ان احکامات سے پتا چلتا ہے کہ فوج کے لیے ساری عوام ایک برابر تھی۔ اندو بانگا کے مطابق سکھ صرف آبادی کا دس فیصد تھے اور زیادہ آبادی والے دوسرے مذاہب کو اگر سکھ راج قبول نہ ہوتا تو ان پر حکومت نہیں ہو سکتی تھی، اور اگر انھیں دبانے کی کوشش کی جاتی تو بغاوت کے بھی امکانات پیدا ہو سکتے تھے۔ ان کے مطابق اس بات کے پختہ ثبوت موجود ہیں کہ اس وقت کوئی بڑی بغاوت نہیں ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی پنجاب سے لوگوں نے ہجرت نہیں کی بلکہ باہر سے آ کر لوگ پنجاب میں بسے تھے۔مہاراجہ رنجیت سنگھ سے نفرت کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تاریخ کا مطالعہ کریں اور رنجیت سنگھ کے اصل مقام کو جانیں۔
