شاہ محمود قریشی کی جاگیردارانہ چھتری تنقید کی زد میں


پاکستان آمد پر روسی وزیرخارجہ نے بارش سے بچنے کے لئے اپنی چھتری خود پکڑی تاہم یہ دیکھنے کے باوجود جاگیردارانہ ذہن رکھنے والے پاکستان کے وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے نہ تو معزز مہمان کی چھتری تھام کر خیر سگالی کا ثبوت دیا اور نہ ہی اپنی چھتری خود پکڑی بلکہ پروٹوکول کا عملہ چھتری تان کر ان کو بارش سے بچاتا رہا۔
قریشی کے اس طرز عمل کو سوشل میڈیا صارفین شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لیوروف دو روزہ دورے پر پاکستان تشریف لائے جس کے دوارن دونوں وزرائے خارجہ کے مابین دو طرفہ تعلقات اور اہم علاقائی و عالمی امور تو زیر بحث آئے۔ لیکن فی الحال شاہ محمود قریشی کا روسی وزیر خارجہ کے استقبال کے موقع پر اپنی چھتری نہ پکڑنا موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ پاکستان کے جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کے ابر آلود موسم میں جب وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی چکلالہ ائیر بیس پر روسی ہم منصب کا خیر مقدم کرنے پہنچے تو اس موقع پر ان کی اپنی جانب سے ہی ٹوئٹر پر شئیر کردہ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لیوروف تو اپنی چھتری خود پکڑ کر طیارے سے باہر آ رہے ہیں لیکن پاکستانی وزیرِ خارجہ کی چھتری ایک دوسرے شخص نے پکڑ رکھی ہے۔ شاہ محمود نے تو دو طرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے، باہمی تعاون اور باہمی وابستگی جیسے الفاظ کے ساتھ روسی وزیرِ خارجہ کے دورے کا خیر مقدم کرتے ہوئے یہ تصاویر شئیر کیں مگر اس سب میں بعض سوشل میڈیا صارفین نے جو چیز نوٹ کی اور ان کی نظریں جس چیز پر ٹھہریں، شاہ صاحب کے اپنی چھتری نہ پکڑنے پر۔
وزیرِ خارجہ کے چھتری خود نہ پکڑنے پر تنقید کرتے ہوئے صحافی اور اینکر پرسن اقرار الحسن نے لکھا ’ہمارے پاس بس یہی شب شبا، ششکے اور پروٹوکولز ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اپنی چھتری خود اُٹھانے والے وزیرِ خارجہ کا ملک ویکسین بنا رہا ہے اور اپنی چھتری دوسروں سے اُٹھوانے والے وزیرِ خارجہ کا ملک اُس ملک سے ویکسین خرید رہا ہے۔‘ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’قوموں کا مزاج ہی اُن کے مقام کا تعین کرتا ہے۔
ایک اور صارف عثمان نے شاہ محمود قریشی کی تصاویر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ’روس کا وزیر خارجہ اپنی چھتری کے ساتھ اور پاکستان کا مخدوم اپنے خادموں کے ہمراہ۔ طاہر کشمیری نامی صارف نے شاہ محمود قریشی کی ٹویٹ کے جواب میں لکھا ’آپ میں اور روسی وزیر خارجہ میں فرق صاف نظر آ رہا ہے۔ جو لوگ ملک و قوم کی خدمت کے لیے آتے ہیں وہ اپنے آپ کو قوم کا ملازم سمجھتے ہیں۔ روسی وزیر خارجہ نے چھتری خود پکڑی ہے اور آپ نے چھتری پکڑنے کے لیے ایک بندہ رکھا ہوا ہے۔‘انھوں نے وزیر خارجہ کو ملک و قوم کی حالت دیکھنے کا مشورہ بھی دیا۔ایک اور صارف نے لکھا کہ تصاویر دیکھ کر لگتا ہے کہ ’شاہ صاحب روس کے دورے پر گئے ہوئے ہیں اور وہاں ان کا استقبال کیا گیا ہے۔
اسی طرح وسیم عباسی نے لکھا کہ ‏دنیا کی بڑی فوجی اور معاشی طاقت روس کے وزیر خارجہ سر گئی لاروف اپنی چھتری خود اٹھا کر جہاز سے باہر آ رہے ہیں جبکہ مقروض ترین ملک کےگدی نشین وزیر خارجہ نے چھتری اٹھانے کے لیے ملازم ساتھ ساتھ رکھا ہوا ہے۔یہی فرق ہوتا ہے امیر ریاست کے حکمران اور غریب ریاست کے حکمران میں ۔ رانا فہد نامی صرف نے تبصرہ کیا کہ ’مہمان نوازی کا حق تو یہ تھا کہ روسی وزیر خارجہ کی چھتری خود تھام کر اسے بارش سے بچاتے لیکن لگتا ہے کہ ان کو اپنا پروٹوکول زیادہ پیارا تھا۔ تصور حسین نے تبصرہ کیا کہ ’دنیا کی سابق سپر پاور کے وزیر خارجہ نے اپنی چھتری خود پکڑی ہوئی ہے اور ہمارے ظل الہیٰ صاحب کے ملازم چھتری لیے کھڑے ہیں۔ ہم لوگ اپنے آپ کو پتہ نہیں کیا سمجھتے ہیں۔ ایک اور صارف بھٹی راجپوت نے لکھا کہ ’ترقی پذیر ممالک کے لوگ کمپلیکس کا شکار ہوتے ہیں جبکہ ترقی یافتہ قوموں کا یہی راز ہے کہ وہ اپنے کام خود کرتے ہیں۔ پھر چاہے کوئی وزیر ہو یا وزیراعظم۔ایک صارف نے تو اس سب صورتحال کو ’چھتری نامہ‘ قرار دیا ہے جبکہ ایک اور نے وزیرِ خارجہ کو مشورہ دیا کہ سر اگر اپنی چھتری آپ خود اٹھائیں گے تو کوئی قیامت نہیں آئے گی۔ نوید چوہدری نامی صارف نے لکھا کہ ‏پیر اور وزیر میں چھتری اٹھانے کا بھی فرق ہوتا ہے ، وزیر چاہیے روس کا ہی کیوں نہ ہو پیر کے لیول تک نہیں پہنچ سکتا۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button