شدید گرمی اور ہیٹ ویو سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

ملک بھر میں شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے دوران ہر کوئی پریشان دکھائی دیتا ہے اور اس سے بچنے کے لیے جس کے پاس جیسی سہولت میسر ہوتی ہے وہ اس کا استعمال کرتا ہے اس دوران جسم کو اندرونی اور بیرونی طور پر گرمی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کےلیے مختلف طریقہ کار، ٹوٹکے، مشروبات اور خوراک کا استعمال کیا جاتا ہے، تاہم یہ جاننا ضروری ہے کہ کیا یہ تمام طریقے سائنسی اور طبی اعتبار سے قابل عمل ہیں بھی یا نہیں؟
طبی ماہرین کے مطابق ہیٹ ویو کے دوران زیادہ پانی پینے اور مشروبات کے استعمال سے ہم جسم میں پانی کی مودار کو پورا کر سکتے ہیں اور اپنے گردے فیل ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ کچھ ماہرین گرمی کے دنوں میں ٹھنڈا مشروب پینا تجویز کرتے ہیں تو کچھ گرم مشروب استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ گرم مشروبات پینے کے پیچھے یہ تھیوری کارفرما ہے کہ اس سے آپ کا جسم اندر سے عارضی طور پر گرم ہوجاتا ہے۔ آپ کو زیادہ پسینہ آتا ہے اور اس سے جسم ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔ انسانی جسم ہر گھنٹے میں قریب دو لیٹر پسینہ خارج کر سکتا ہے۔ جسم کے درجۂ حرارت کو کم کرنے کےلیے اسے اچھا مشورہ سمجھا جاتا ہے۔
لیکن اگر پسینہ خارج ہونے کے بعد اس کی جگہ اور مائع جسم میں داخل نہیں کیا جاتا تو آپ کے جسم میں پانی کی کمی واقع ہوسکتی ہے۔ اس لیے کچھ لوگ مشورہ دیتے ہیں کہ گرمی میں گرم مشروبات استعمال کرنے سے مکمل گریز کریں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آپ کو زیادہ چائے یا کافی نہیں پینی چاہیے کیوں کہ ان میں سے کچھ میں پانی کی قلت پیدا کرنے والی کیفین شامل ہوتی ہے۔ لیکن اس بات کے شواہد کم ہیں کہ کیفین کی درمیانی مقدار زیادہ پیشاب آنے کا باعث بنتی ہے۔ تاہم ذیادہ تر تحقیقات میں گرمی میں ٹھنڈے مشروب کے استعمال کو بہتر سمجھا گیا ہے۔ بعض ماہرین نے ایسے لوگوں پر تحقیق کی ہے جو زیادہ ورزش کرتے ہیں۔ ان کے جسم کے درجۂ حرارت کا جائزہ گرم اور ٹھنڈے مشروبات کے بعد لیا گیا، جس میں پتا چلا کہ ٹھنڈے مشروبات نے انہیں اندر سے ٹھنڈا کرنے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کیا۔ لیکن ان نتائج میں ایک مسئلہ اس طریقہ کار کا ہے جس کے ذریعے ہم درجہ حرارت کی پیمائش کرتے ہیں۔
ایسی ہی ایک تحقیق کے دوران رضاکاروں کو ریکٹل تھرمامیٹر دیے گئے تھے۔ ماہرین کے مطابق ٹھنڈے مشروبات سیدھا معدے میں داخل ہوتے ہیں جو ریکٹل تھرما میٹر سے زیادہ دور نہیں۔ اس لیے درجۂ حرارت کم معلوم ہونا کوئی حیرانی کی بات نہیں۔ ماہرین کی ٹیم نے آٹھ تھرما میٹرز کی مدد سے جسم کے مختلف حصوں سے درجۂ حرارت کی پیمائش کی تو معلوم ہوا کہ گرم مشروبات سے جسم زیادہ ٹھنڈا ہوتا ہے کیوں کہ اس سے زیادہ پسینہ آتا ہے۔ اس لیے ماہرین سمجھتے ہیں کہ ٹھنڈے کے بجائے گرم مشروبات سے آپ کو زیادہ پسینہ آتا ہے اور جسم کا درجۂ حرارت کم ہوتا ہے۔
گرمی سے محفوظ رہنے کےلیے پنکھوں کا استعمال عام سی بات ہے، پنکھے کی ہوا ہمیں اکثر سکون دیتی ہے۔ مگر پنکھے ہوا کو ٹھنڈا نہیں کرتے۔ ان کی حرکت سے ہوا چلتی ہے اور پسینہ خشک ہوتا ہے جس سے جسم کا درجۂ حرارت کم ہوتا ہے۔ پنکھوں کی افادیت کے حوالے سے ماہرین کی رائے منقسم ہے۔ کچھ کے مطابق یہ مددگار ثابت ہوتے ہیں مگر کچھ کا کہنا ہے کہ درجۂ حرارت کافی زیادہ ہونے پر ان سے جسم کو ٹھنڈا کرنا ممکن نہیں۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ 35 ڈگری سیلسیئس تک پنکھے کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ اس سے زیادہ درجۂ حرارت ہونے پر پنکھے کی گرم ہوا جسم کے خودکار نظام کےلیے رکاوٹ بن جاتی ہے۔ صورت حال زیادہ خراب ہونے پر لوگوں کو ہیٹ اسٹروک بھی ہوسکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ شدید گرم موسم میں پنکھا چلائے رکھنے پر جسم میں پانی کی قلت بڑھ بھی سکتی ہے۔ مرطوب موسم میں پنکھے کم مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ پنکھوں سے ہوا چلتی ہے مگر ہوا میں نمی کی وجہ سے پسینہ خشک ہونا مشکل ہوجاتا ہے۔ لیکن جب تک مزید تحقیق نہیں ہوجاتی، یہ کہنا مشکل ہے کہ شدید گرمی میں پنکھوں کی افادیت کتنی ہے۔ اس لیے بعض ماہرین یہ مشورہ دیتے ہیں کہ درجۂ حرارت 37 ڈگری سیلسیئس سے زیادہ ہونے پر پنکھے بند رکھیں۔
طبی ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا درجہ حرارت 36 سے 37.5 ڈگری سیلسیئس کے درمیان ہو تو جسم بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ جسم میں جِلد، ڈیپ ٹشو اور اعضا ایک ڈگری سیلسیئس کی تبدیلی کا بھی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اگر بیرونی درجہ حرارت ہمارے جسم کے درجہ حرارت سے زیادہ ہو تو ہمیں پسینہ آنے لگتا ہے تاکہ جسم ٹھنڈا رہے۔
ہمارا جسم ہاتھوں اور پیروں کی جانب زیادہ خون بھیج کر بھی گرمی خارج کرتا ہے۔ اسی لیے رات کے وقت ہمیں گرمی محسوس ہوتی ہے۔ شدید گرمی میں درجۂ حرارت کم رکھنے کے ان دونوں طریقوں میں دل کا کردار بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے ایسے موسم میں بعض اوقات معمر افراد دل کے دورے یا ہارٹ فیلیئر سے متاثر ہوتے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ صحت پر سردی کی شدید لہر کے اثرات کے برعکس ہیٹ ویو کے دوران پہلے 24 گھنٹوں میں زیادہ اموات ہوسکتی ہیں۔ معمر افراد کےلیے شدید گرمی میں اپنے جسم کا درجۂ حرارت کم کرنا مشکل ہوتا ہے اور انہیں یہ پتا بھی نہیں چلتا کہ ان کے جسم کا درجۂ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اس لیے نوجوانوں کے مقابلے ان میں پانی کی کمی زیادہ جلدی ہوسکتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ صرف معمر افراد کو ہیٹ ویو سے خطرہ ہے۔ نومولود بچے اور مختلف عارضوں میں مبتلا لوگ بھی اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ مثلاً چلنے پھرنے کی مشکلات کا سامنا کرنے والے لوگوں کےلیے بھی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں کیوں کہ پسینہ آنے پر ان کےلیے کھڑکی کھولنا یا پانی و مشروبات کا انتظام کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔
دن اور رات میں گرمی کی شدت برقرار رہنے سے بھی جسم کےلیے درجۂ حرارت کم کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔
جب زیادہ گرمی ہو تو ہم میں سے اکثر لوگوں کے لیے پہلا کام تمام کھڑکیاں کھولنا ہوتا ہے۔ لیکن دن کے اوقات میں اس کے منفی اثرات بھی ہوسکتے ہیں۔ آپ کو کھڑکیاں صرف تب کھولنی چاہیے جب باہر کی ہوا اندر کی ہوا سے زیادہ سرد ہو۔ ایسا رات میں ہونے کے زیادہ امکان ہوتے ہیں۔ شدید گرم موسم میں آپ کو دن کے اوقات میں کھڑکیاں بند رکھنی چاہیے کیوں کہ اندر چھاؤں ہونے کی وجہ سے اس بات کے امکانات زیادہ ہوجاتے ہیں کہ اندر ہوا کم گرم ہو۔ گرم ہوا چلنے کی صورت میں آپ کا جسم ٹھنڈا نہیں ہوسکتا۔ یعنی اگر باہر کی ہوا اندر کی ہوا سے زیادہ گرم ہو تو کھڑکیاں بند رکھیں۔ عموما رات کے وقت موسم بہتر ہونے پر ایسا کیا جاسکتا ہے۔
