شرلاک ہومز ناکام: لوٹی دولت واپس لانے کا ٹاسک فروغ نسیم کے سپرد

بیرسٹر شہزاد اکبر عرف پاکستانی شرلاک ہومزکی ناکامی کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے بیرون ملک سے لوٹی ہوئی رقم واپس لانے کا ٹاسک وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کو سونپ دیا ہے. وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ بیرون ملک دولت کا پتا لگایا جائے اوررقم کی واپسی کا طریقہ کار وضع کیا جائے، کرپشن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعظم عمران خان سے وزیرقانون فروغ نسیم کی ملاقات کے دوران لوٹی دولت کی واپسی کیلئے اہم قانونی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے فروغ نسیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ لوٹی دولت ہر حال میں پاکستان واپس لائی جائے۔ کرپشن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ لوٹی دولت کی واپسی کے راستے میں جتنی بھی قانونی پیچیدگیاں ہیں۔ ان کو فوری دور کیا جائے۔ وزیراعظم نے فروغ نسیم کو ہدایت کی کہ بیرون ملک دولت کا پتا لگایا جائے اور رقم کی واپسی کا طریقہ کار وضع کیا جائے۔ مزید برآں وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مختلف شعبوں میں حکومت کی جانب سے سبسڈی اور مالی سپورٹ کی فراہمی کا مقصد کمزور طبقے کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سبسڈی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہ رقم متعلقہ افراد اور متعلقہ مقصد کے لئے فائدہ مند ثابت ہو۔ اس حوالے سے وزیرِ اعظم نے سبسڈی کے اثرات کے جائزے کی اہمیت پر زور دیا۔ توانائی اور دیگر شعبوں میں صورتحال اور عوام پر سے بوجھ کم کرنے کے حوالے سے حکومتی کوششوں پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت اداروں کی کرپشن اور انتظامی بد عنوانی اور غفلت کا بوجھ عوام پر ڈالنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پہلو پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وزیراعظم نے آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدے کی کامیابی پر بھی اطمینا ن کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مالی سال کیدوران عوام کو منی بجٹ سے محفوظ رکھنا حکومت کی اہم کامیابی ہے اور فنڈ کی جانب سے حکومت کی معاشی پالیسیوں اور ان کی سمت پر اعتماد کا مظہر ہے ۔وزیرِ اعظم نے وزیرِ توانائی کو ہدایت کی کہ بڑے بجلی چوروں کو پکڑنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ کارٹیلز اور ناجائز منافع خوری کا سبب بننے والے عناصر کے خلاف ایکشن پر بھی بھرپور توجہ دی جائے تاکہ عوام کو چوری ، سسٹم کی کوتاہیوں اور استحصال سے بچایا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button