شریف فیملی کے نیب مقدمات ختم، عمران کیخلاف کارروائیاں جاری

ملکی سیاست میں احتساب کا عمل ہمیشہ سے بحث و مباحثے کا مرکز رہا ہے، لیکن حالیہ دنوں شریف فیملی کے نیب کیسز میں بریت کے فیصلے نے اس معاملے کو ایک نئے تنازع میں بدل دیا ہے،ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز سمیت حکومتی اتحاد میں شامل سیاسی رہنماؤں کے خلاف نیب مقدمات بلاجواز ختم کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف کیسز میں غیر معمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے اور انہیں کئی سنگین مقدمات میں طویل قید کی سزا کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں نیب کو ہمیشہ سیاسی انتقامی کارروائیوں کیلئے کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟ کیا لیگی رہنماؤں کی نیب مقدمات میں بریت اور عمران خان کو سزا محض قانونی تقاضوں کا نتیجہ ہے یا احتساب کے نظام میں کوئی بنیادی تضاد موجود ہے؟ مبصرین کے مطابق پاکستان میں احتساب کا عمل ابھی تک شفاف اور یکساں نہیں، بلکہ اکثر سیاسی ترجیحات اور حکومتی مفادات کے تابع نظر آتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ شریف فیملی کے مقدمات ختم ہونے اور عمران خان کے خلاف کارروائی جاری رہنے کے بعد ملک میں نیب کی قانونی اور اخلاقی حیثیت پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا عمومی خیال ہے کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی جیسی بڑی جماعتیں اقتدار میں آتے ہی نیب قوانین میں ترامیم کر دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں ان کے خلاف زیرِ سماعت مقدمات ختم ہو جاتے ہیں۔ نیب قوانین میں حالیہ ترامیم کے بعد اب وزیراعظم شہباز شریف، سابق وزرائے اعظم نواز شریف، راجا پرویز اشرف، یوسف رضا گیلانی، شوکت عزیز اور صدر آصف علی زرداری کے خلاف مختلف احتساب عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات ختم ہو چکے ہیں، جبکہ دوسری جانب سابق وزیر اعظم عمران خان کو نیب ریفرنسز میں قید کی سزا بھگتنی پڑ رہی ہے۔ 16مارچ کے روز بھی لاہور کی احتساب عدالت نے نیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف چوہدری شوگر ملز کیس میں تحقیقات بند کرنے کی حتمی منظوری دے دی ہے۔
اس سے قبل بھی نواز شریف، یوسف رضا گیلانی، راجا پرویز اشرف اور شوکت عزیز کے خلاف دائر ریفرنس واپس ہوچکے ہیں، توشہ خانہ سے گاڑیاں حاصل کرنے پر سابق وزرائے اعظم اور صدر آصف علی زرداری کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس احتساب عدالت میں زیرِ سماعت تھا۔ تاہم استغاثہ کے مطابق یہ 12 کروڑ روپے کی کرپشن کا ریفرنس ہے جبکہ نیب قوانین کے مطابق 50 کروڑ سے کم مالیت کے مقدمات پر احتساب عدالت کا دائرہ اختیار نہیں بنتا اس لیے ریفرنس نیب کو واپس بھیج دیا گیا تھا۔سابق وزیرِاعظم و اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کے خلاف 6 رینٹل پاور ریفرنسز 7 سال سے زیرِ سماعت تھے تاہم نیب قوانین کے بعد وہ ریفرنس بھی واپس بھجوایا جا چکا ہے
اسی طرح وزیر اعظم شہباز شریف کو بھی کئی نیب کیسز میں ریلیف مل چکا ہے۔نیب نے سنہ 2019 میں بہاولپور میں 14 ہزار 400 کینال سرکاری اراضی منتقل کرنے پر انکوائریاں شروع کی تھیں لیکن اس نے 29 نومبر 2022 کو وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف 2 مقدمات کی انکوائریاں بند کرنے کی منظوری دے دی۔ نیب کی جانب سے یہ کہا گیا کہ 3 سالوں کے دوران تحقیقات کے باوجود کرپشن کے ثبوت نہیں ملے اس لیے گورنر پنجاب بلیغ الرحمان، وزیرِ داخلہ رانا ثنااللہ کے خلاف آمدن سے زیادہ اثاثوں کی تحقیقات، (ن) لیگی رہنما شاہنواز رانجھا اور رانا مشہود کے خلاف بھی انکوائری بند کی جا سکی ہیں
سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کے ساتھی اومنی گروپ کے انور مجید و دیگر کے خلاف اربوں روپے کی مشکوک ٹرانزیکشن پر نیب نے جعلی اکاؤنٹس سے متعلقہ 21 ریفرنس دائر کیے تاہم نیب قوانین میں ترامیم کے بعد 17 جنوری کو 21 میں سے 14 ریفرنس نیب کو واپس بھیج دیے گئے اور بعد ازاں 25 جنوری 2023 کو آصف علی زرداری کے خلاف پارک لین ریفرنس بھی واپس کردیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق احتساب عدالتیں اب تک 300 کرپشن ریفرنسز دائرہ اختیار ختم ہونے پر واپس کرچکی ہیں۔
جبکہ دوسری جانب سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ 2 اور القادر ٹرسٹ کیس میں سزائیں ہو چکی ہیں، گزشتہ سال کے آغاز میں 17 جنوری 2025 کو 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان کو 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ جبکہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید اور 5 لاکھ روپے کی سزا سنا دی گئی تھی۔اس کے بعد دسمبر 2025 میں اسپیشل جج سینٹرل ارجمند شاہ نے اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں توشہ خانہ 2 کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے دونوں کو مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزا سنائی۔
اسی طرح نیب نے صوبائی دارالحکومت لاہور کے ماسٹر پلان کی غیر قانونی منظوری سے سرکاری خزانے کو مبینہ طور پر 300 ارب روپے کا نقصان پہنچانے کے معاملے پر سابق وزیر اعلیٰ اور پاکستان تحریک انصاف کے صدر چوہدری پرویز الہی کے خلاف ریفرنس دائر کر رکھا ہے جبکہ رواں سال جنوری میں احتساب عدالت نے گجرات میں ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن کیس میں سابق وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی سمیت دیگر پر فرد جرم عائد کرچکی ہے۔
نواز شریف کے دیرینہ دوست کی پاکستان ریلویز پر نظریں
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال پاکستان میں احتساب کے نظام میں دوہرے معیار اور سیاسی مفادات کے اثرات کو عیاں کرتی ہے۔ ایک طرف شریف خاندان اور حکومتی اتحادیوں کے کیسز تیزی سے ختم کیے جا رہے ہیں، تو دوسری جانب سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کے قریبی حامیوں کے خلاف نیب کی کارروائیاں بے مثال تیزی سے جاری ہیں،مبصرین کے مطابق موجودہ سیاسی اور قانونی منظرنامہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان میں احتساب کا نظام ابھی تک مکمل طور پر غیر جانبدار نہیں بلکہ نیب جیسا ادارہ آج بھی سیاسی مخالفین کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے کیلئے استعمال ہو رہا ہے۔
