شعیب اور ثانیہ مرزا کو بھی اماراتی گولڈن ویزہ مل گیا

پاکستانی کرکٹر شعیب ملک اور ان کی اہلیہ اور بھارتی ٹینس کھلاڑی ثانیہ مرزا کو متحدہ عرب امارات نے گولڈن ویزا جاری کر دیا ہے۔ شعیب سے پہلے پاکستان کی معروف کاروباری شخصیت جاوید آفریدی بھی گولڈن ویزہ حاصل کر چکے ہیں جبکہ گلوکار فخر عالم کو موسیقی کے میدان میں ان کی خدمات کے اعتراف میں گولڈن ویزہ دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ شعیب ملک نے بھارتی ٹینس سٹار ثانیہ مرزا سے 12اپریل 2010ء میں شادی کی۔ پھر آٹھ سال بعد 2018ء میں ان کے ہاں پہلی اولاد اذہان مرزا ملک کی پیدائش ہوئی تھی۔ خیال رہے کہ گولڈن ویزا کے اجرا کے بعد شعیب ملک اور ثانیہ مرزا متحدہ عرب امارات میں 10 سال تک رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا نے ثانیہ مرزا سے منسوب بیان میں کہا کہ دبئی میرا دوسرا گھر ہے اور میرا یہاں زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کا ارادہ ہے۔ انہوں نے گولڈن ویزا ملنے کو ایک اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے انہیں موقع ملے گا کہ وہ ٹینس اور کرکٹ سپورٹس اکیڈمی پر توجہ دیں، جسے وہ دو ماہ میں کھولنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
واضح رہے کہ شعیب ملک کی طرح ثانیہ مرزا بھی بالی ووڈ کے اداکار شاہ رخ خان اور سنجے دت کے بعد تیسری بھارتی شہری ہیں جنہیں متحدہ عرب امارات نے گولڈن ویزا جاری کیا ہے۔ 2019 میں یو اے ای نے طویل مدتی رہائشی ویزوں کے لیے ایک نیا نظام نافذ کیا تھا جو غیر ملکیوں کو کسی قومی سپانسر یعنی کفیل کے بغیر یو اے ای میں رہائش، ملازمت اور تعلیم حاصل کرنے کے قابل بناتا ہے۔
گولڈن ویزا کے حامل افراد متحدہ عرب امارات میں 5 سے 10 سال تک رہائش اختیار کر سکتا ہے جس کی تجدید خود بخود ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیرِ اعظم شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے نامور شخصیات کو گولڈن ویزہ جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔پہلے مرحلے میں ڈاکٹرز، پی ایچ ڈی اسکالرز اور سائنس دانوں سمیت اعلیٰ شخصیات کو یہ ویزہ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کے بعد نامور شخصیات اور فن کاروں کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔
گولڈن ویزہ کے ذریعے امارات میں مقیم غیر ملکی افراد کو پانچ سے 10 سال کا ریزیڈنٹ ویزہ ملے گا جس کے بعد وہ ہر دو سال بعد نہ تو ویزہ لگوانے کے پابند ہوں گے اور نہ ہی انہیں غیر ملکی تصور کیا جائے گا۔ یہ ویزہ اپنے شعبے میں مہارت حاصل کرنے والے افراد کو بھی دیا جاتا ہے جو اپنے پورے خاندان سمیت یو اے ای میں مقیم ہو سکتے ہیں۔ اگر ان شخصیات نے یو اے ای میں مقیم رہنے کے دوران ملک کا نام روشن کیا۔ تو ہر پانچ یا 10 سال کے بعد ان کا ویزہ نئی مدت کے لیے بڑھا دیا جائے گا۔ گولڈن ویزہ کے اجرا سے قبل کسی بھی غیر ملکی فرد کو یو اے ای میں بزنس کرنے کے لیے مقامی اسپانسر کو ساتھ ملانا پڑتا تھا البتہ اب اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ علاوہ ازیں کسی خاص فن میں مہارت، جس میں انتہائی قابل افراد اور مشہور شخصیات شامل ہیں، انہیں ان کی قابلیت و شہرت کے مطابق گولڈن ویزہ جاری کیا جائے گا۔اس ویزہ کو حاصل کرنے کے لیے یو اے ای کی فیڈرل اتھارٹی فار آئی ڈینٹیٹی اینڈ سیٹیزن شپ یا پھر جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریزیڈنسی اینڈ فارن افئیرز کی ویب سائٹ کے ذریعے اپلائی کیا جا سکتا ہے۔ امارات کا گولڈن ویزہ دنیا کی کئی معروف شخصیات حاصل کر چکی ہیں۔ بالی وڈ اداکار شاہ رخ خان اور سنجے دت دونوں ہی گولڈن ویزہ حاصل کر چکے ہیں۔ دیگر مشہور شخصیات جنہیں متحدہ عرب امارات نے گولڈن ویزہ کا حق دار سمجھا ان میں دنیا کے کامیاب ترین کھلاڑی بھی شامل ہیں۔ پرتگال کے کپتان اور عالمی شہرت یافتہ فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو، عالمی نمبر ایک ٹینس اسٹار نوواک جوکووچ، فرانس کے معروف فٹ بالر پال پوگبا، سابق پرتگالی کھلاڑی لوئس فیگو اور برازلین لیجنڈ روبرٹو کارلوس شامل ہیں۔ ان کے علاوہ معروف لبنانی گلوکارہ نجویٰ کرم، مشہور شیف ایزو آنی اور مصر کے میگا اسٹار محمد رمضان پہلے ہی گولڈن ویزہ حاصل کرنے کے بعد یو اے ای میں مقیم ہیں۔
