شوبز انڈسٹری کی مضبوط اور دلیر خواتین کی کہانیاں

خواتین کو عموماً صنف نازک اور کمزور اعصاب کی مالک سمجھا جاتا ہے لیکن پاکستانی شوبز انڈسٹری میں کئی ایسی خواتین موجود ہیں جنہوں نے زندگی میں کئی غم، دکھ اور تکلیفیں ایسی جوانمردی سے برداشت کیں کہ دیکھنے اور سننے والے عش عش کر اٹھے۔ آج ہم آپ کو شوبز انڈسٹری کی ایسی حوصلہ مند خواتین کے بارے میں بتائیں گےجنہوں نے اپنے بلند حوصلے سے زندگی کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کو ہمت اور جرات سے عبور کر لیا۔
اپنے ماں باپ کو تکلیف میں دیکھنا دنیا کا سب سے مشکل کام ہے اور زار نور عباس کےلئے وہ وقت بہت کڑا تھا جب ان کی والدہ اور بشری انصاری کی بہن اسماء عباس کو کینسر کی تشخیص ہوئی، زارا نور عباس کچھ عرصہ شادی ختم ہونے کا صدمہ تو سہی چکی تھیں لیکن یہ نئی جنگ ان کے لئے بہت مشکل تھی کیوں کہ اس میں انہیں اپنی جان سے پیاری ماں کو درد میں دیکھنا پڑا، زارا کا کہنا ہے کہ میں نے اس کڑے وقت میں اپنی ماں کےلئے کسی نرس یا کسی ملازم سے کوئی کام نہیں کروایا بلکہ میں اپنی والدہ کے سارے کام خود ہی کرتی تھی۔ زارا کی محبت اور مضبوط اعصاب کی بدولت اسماء عباس اپنی زندگی میں واپس لوٹنے میں کامیاب رہیں، زارا نور نے اس مشکل وقت میں کبھی اپنی ماں کے سامنے نہ تو خود کو بکھرنے دیا اور نا ہی کبھی ٹوٹیں اور نہایت حوصلہ مندی سے والدہ کو کینسر جیسی موذی بیماری سے لڑنے کا حوصلہ دیتی رہیں۔
اداکارہ نادیہ جمیل کا شمار شوبز انڈسٹری کی ان مضبوط ترین خواتین میں ہوتا جو کینسر کی بیماری کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہیں اور کبھی بھی اپنے چہرے پر تکلیف کے آثار نہیں آنے دیتیں، نادیہ نے حال ہی میں ایک پوسٹ لگائی کہ وہ اپنے بریسٹ کینسر کی سرجری کےلئے جارہی ہیں اور انہیں دعاؤں کی ضرورت ہے، یہ وقت ان کےلئے بالکل بھی آسان نہیں تھا، وہ اپنے بچوں کو لے کر پریشان ضرور تھیں لیکن انہوں نے اپنے چہرے سے کسی کو یہ ظاہر نہیں ہونے دیا۔
اب نادیہ جمیل کی سرجری ہوچکی ہے اور وہ کیموتھراپی کے عمل سے گزر رہی ہے لیکن وہ مکمل حوصلے میں ہیں۔
کچھ عرصہ قبل ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں اداکارہ کومل عزیز چیخ چیخ کر اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا بتا رہی تھیں کہ کس طرح ان کے مالک مکان نے اس بات کا لحاظ بھی نہیں کیا کہ وہ اور ان کی بہن اکیلی کسی مرد کے سہارے کے بغیر ایک فلیٹ میں رہ رہی ہیں اور اپنا کرایہ وقت پر ادا کر رہی ہیں، مالک مکان انہیں ڈراتا رہا، دھمکاتا رہا اور ان پر کئی بار قاتلانہ حملے بھی کئے، کومل عزیز کےلئے اس گھر کو چھوڑنا مشکل نہیں تھا لیکن وہ کہتی تھیں کہ بات اصول کی ہے، جب ہم نے بیعانہ دیا ہے اور اس ٹوٹے ہوئے گھر کو پیسہ لگا کر بنوایا ہے تو پھر ہم یہ گھر فوری چھوڑ کر کیوں جائیں، ہم کیوں ڈریں، کومل کا کہنا ہے کہ ایک دن مالک مکان نے ہماری بجلی بھی کاٹ دی اور سختی سے کہہ دیا کہ اگر کوئی الیکٹریشن آیا تو میں اسے جان سے مار دوں گا، تاکہ ہم گھپ اندھیرے میں بغیر بجلی کے ڈر کر بھاگ جائیں، کومل نے بتایا کہ یہ اصول کی جنگ تھی اور میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ میں اس وقت ہی جاؤں گی جب میرا بیعانہ پورا ہوگا، وہ مشکل وقت گزارنے کے بعد کومل نے جب گھر خالی کرنا چاہا اور ان کی امی اور بہن چابی دینے مالک مکان کے پاس گئے تو اس نے ان پر حملہ کردیا، کومل نے اس مشکل وقت کا بھی دلیری سے مقابلہ کیا اور بالآخر ظالم مالک مکان سے اپنی رقم واپس لے کر رہیں۔
پاکستانی شوبز انڈسٹری میں ایسے کئی نام بھی ہیں جنہوں نے اپنے گھر کی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لئے خود اپنی زندگی کی خوشیوں کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا اور اپنی زندگی اپنوں کیلئے وقف کر دی۔ شائستہ جبیں پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا ایک بہت ہی خوبصورت چہرہ جنہیں ہم عموماً ماں کے کردار میں دیکھتے ہیں ۔۔۔حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران شائستہ جبیں نے بتایا کہ میں بہت چھوٹی تھی جب میرے والد کا انتقال ہوا تومجھ سے چھوٹے بہن بھائی بھی تھے۔ میری والدہ کا اور میرا ساتھ بہت ہی گہرا تھا اور میں ان کے بہت قریب تھی۔۔ ۔۔میرے خاندان میں شوبز انڈسٹری کو پسند نہیں کیا جاتا لیکن گھر کو سنبھالنے کی خاطر اور اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی غرض سے میں نے میڈیا انڈسٹری میں قدم رکھا۔ بعدازاں والدہ کے انتقال کے بعد بھی انھوں نے خود کو ٹوٹنے نہیں دیا اور بہادری اور حوصلے کے ساتھ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی تعلیم و تربیت کا سامان کیا اور ان کی شادیاں کیں اور اپنی عمر کے قیمتی ماہ و سال خاموشی سے بغیر کسی کو بتائے اپنے بہن بھائیوں کے نام کردیئے۔
کامیڈی لیجنڈ اور پاکستانی شوبز انڈسٹری کو اپنی زندگی دینے والی زیبا شہناز ایک بہت مضبوط اعصاب کی خاتون ہیں جنہوں نے زندگی میں بہت بڑے بڑے صدمے صبر اور حواصلے کے ساتھ برداشت کئے لیکن ہمیشہ ڈٹ کر کھڑی رہیں۔۔۔اپنے چھوٹے بھائیوں کے لئے اور گھر والوں کے لئے زیبا شہناز نے بہت محنت کی اور ہر طرح کے کردار میں خود کو نا صرف ڈھالا بلکہ نبھایا بھی۔۔۔ اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ میرا بچپن بہت ہی عالیشان تھا، ہر طرف پیسے کی ریل پیل تھی، اتنی گاڑیاں تھیں کہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کس میں جائیں۔۔۔لیکن پھر پل میں سب کچھ بدل گیا۔۔۔میرا چھوٹا بھائی صرف ایک سال کا تھا دودھ پیتا تھا اور ہم دو کمروں کے ایک چھوٹے سے کوارٹر میں آگئے۔۔۔میں نے بہت محنت کی ۔۔۔بائیس بائیس گھنٹے جاگ کر کام کیا۔۔میری ماں بہت معصوم عورت تھی، رشتہ داروں اور دوست احباب انہیں بے وقوف بناتے گئے اور سب کچھ ہڑپ کر گئے۔۔۔میرے والد ہسپتال میں تھے اور ان کے پارٹنرز انگوٹھا لگوا کر ان کے پیسے پر قابض ہوتے گئے۔۔۔پھر میں نے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داری اٹھائی اور آج تک میں ان کے لئے بڑا بھائی بنی ہوئی ہوں۔۔

