شوکت ترین سینیٹر بن پائیں گے یا گھر چلے جائیں گے؟


عمران خان کی کابینہ کے چوتھے وزیر خزانہ شوکت ترین کو اس وقت یہ پریشانی لاحق ہو چکی ہے کہ اگر وہ 15 اکتوبر 2021 تک سینیٹر منتخب نہ ہو پائے تو انہیں بھی عبدالحفیظ شیخ کی طرح وزارت خزانہ سے ہاتھ دھونا پڑ جائیں گے۔ لہذا اب انہوں نے اس حوالے سے اپنی پریشانی کا اظہار سرعام کرنا شروع کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ آئینی طور پر وزیراعظم کی کابینہ میں کوئی بھی غیر منتخب رکن چھ ماہ سے ذیادہ اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتا۔ شوکت ترین کو 15 اپریل 2021 کو وفاقی کابینہ میں شامل کیا گیا تھا اور ان سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ انہیں چھ ماہ کے اندر سینیٹر منتخب کروا لیا جائے گا۔ تاہم چار ماہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک اس حوالے سے کوئی عملی کاروائی نہیں کی گئی جس وجہ سے شوکت پریشانی کا شکار ہو چکے ہیں ہیں۔ 12 اگست کو اپنی اس پریشانی کا اظہار انہوں نے میڈیا کے ساتھ گفتگو میں بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ وزیراعظم مجھے سینٹر بنوا کر مستقل وزیر خزانہ بنانے کا۔منصوبہ بنا رہے ہوں گے، اب میرے پاس صرف دو ماہ باقی رہ گئے ہیں لیکن مجھے وزیر اعظم کے وعدے پر پختہ یقین ہے۔
تاہم دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ شوکت ترین کو سینیٹر بنوانے کے لیے وزیراعظم عمران خان کو اپنے کسی سینٹر سے استعفی لینا ہو گا جو ابھی ممکن نظر نہیں آتا۔ لہذا شوکت کو بچانے کا واحد راستہ سینیٹر اسحاق ڈار کو ڈی سیٹ کروانا ہے جنہوں نے ابھی تک اپنی رکنیت کا حلف نہیں لیا۔ اسی لیے حکومت پارلیمنٹ کے منتخب اراکین کو حلف نہ اٹھانے کی بنیاد پر ڈی سیٹ کروانے کا قانون متعارف کروانے کے لئے کوشاں ہے اور اس سلسلے میں ایک صدارتی آرڈیننس بھی تیار کر رکھا ہے جس کا ابھی نفاذ نہیں ہو پایا۔ تاہم حکومتی بنچوں سے تعلق رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار کو ڈی سیٹ کروا کر بھی شوکت ترین کو سینیٹر بنوانے کی کوئی گارنٹی نہیں جیسا کہ سابق وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کے معاملے میں دیکھا جا چکا ہے۔ کپتان کے لئے اس وقت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ پنجاب سے کوئی سیٹ خالی کروا کر شوکت ترین کو امیدوار بناتے ہیں تو بھی انہیں جیت کے لیے جہانگیر ترین گروپ کی حمایت درکار ہوگی جو اس وقت حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ ویسے بھی عمران خان کی طرح سے دوبارہ لڑائی کا آغاز تب ہوا تھا جب انہیں بتایا گیا کہ ان کے گروپ نے حفیظ شیخ کی بجائے یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ الیکشن میں ووٹ دیا تھا۔ اسلیے قوی امکان ہے کہ کپتان سے ناراض ترین گروپ کے ارکان پنجاب اسمبلی بغاوت کرتے ہوئے شوکت ترین کے ساتھ بھی حفیظ شیخ والی واردات ڈال دیں۔
آئین کے مطابق اب شوکت ترین کے پاس وفاقی کابینہ میں برقرار رہنے کے لئے رواں برس اکتوبر تک کا وقت ہے کیونکہ وہ چھ ماہ سے زیادہ اس سیٹ پر منتخب ہوئے بغیر برقرار نہیں رہ سکتے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ شوکت ترین کو سینیٹر بنوانے کے لیے مختلف آپشنز پر غور جاری ہے، لیکن اگر کوئی بات نہ بن پائیں تو اس بات کا بھی غالب امکان موجود ہے کہ نئے وزیر خزانہ بھی چھ ماہ بعد کابینہ سے باہر ہو جائیں۔
یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم پرویز اشرف کے ساتھ شوکت ترین کے خلاف رینٹل پاور پراجیکٹ کا قومی احتساب بیورو میں ریفرنس دائر تھے، جس میں سے احتساب عدالت نے انہیں بری کردیا تھا تاہم قومی احتساب بیورو نے اس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔ رینٹل پاور کیس میں راجہ پرویز اشرف سمیت دیگر ملزمان پر سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دور میں کرپشن اور اختیارات سے تجاوز کا الزام تھا۔نیب کا الزام ہے کہ راجہ پرویز اشرف نے اس دور میں بطور وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی کرائے کے بجلی گھروں کے منصوبوں کی منظوری دی تھی جس سے خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں آخری سماعت کے موقعے پر شوکت ترین کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے موکل وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کمیٹی کے رکن ہیں ان کے خلاف نیب کی اپیل کو مسترد کرکے انہیں بری جائے۔ تاہم ابھی اس اپیل کا فیصلہ نہیں ہو پایا اور کہا جا رہا ہے کہ اگر عمران خان شوکت ترین کو سینٹر بنوانے کے لیے کوئی طریقہ نہ نکال پائے تو پھر اس کیس کی آڑ میں بھی ان سے معذرت کی جا سکتی ہے۔

Back to top button