شکاری صرف مادہ ریچھ کا شکار کیوں کر رہے ہیں؟


کیا آپ جانتے ہیں کہ جو ریچھ آپ کو چڑیا گھر میں پنجروں کے اندر یا سڑکوں پر کرتب کرتے دکھائی دیتے ہیں وہ آپ کے سامنے کن حالات سے گزر کر پہنچتے ہیں؟ آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں۔ ریچھ کی مادہ عموماً اپنے بچوں کو اپنے بہت قریب رکھتی ہے اور ان کی دیکھ بھال اپنی جان سے بڑھ کر کرتی ہے۔ مادہ ریچھ کی موجودگی میں اس کا بچہ اس سے کسی صورت چھینا نہیں جاسکتا اس لیے بچے کو پکڑنے کے لیے شکاری پہلے اس کی ماں کو مارتے ہیں اور پھر ریچھ کو پکڑا جاتا ہے۔ اور یہ سلسلہ پاکستان کے مختلف علاقوں خصوصا خیبر پختونخوا اور شمالی علاقہ جات میں بلا روک ٹوک جاری ہے جس سے ریچھ کی نسل پاکستان میں معدومیت کا شکار ہو رہی ہے۔
محکمہ جنگلی حیات کے ذرائع کے مطابق پاکستان کے مختلف علاقوں بالخصوص خیبر پختونخوا اور شمالی علاقہ جات میں ریچھ کے بچوں کی خرید و فروخت کا کام ایک منظم مافیا کر رہی ہے جو انتہائی طاقت ور اور اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ ریچھ کو پکڑنا اور پھر اس کو نچانے، تماشا اور کتوں کے ساتھ لڑائی کے لیے تربیت فراہم کرنا سب کچھ انتہائی ظالمانہ اور سفاکانہ ہوتا ہے۔ ریچھ کو پکڑنا صرف اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب وہ نومولود بچہ ہوتا ہے اور پیدائش کے چند دنوں کے بعد اس کو اسکی ماں اپنے ٹھکانے سے باہر نکلتی ہے۔ اسلام آباد وائلڈلائف بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر انیس الرحمان کے مطابق ریچھ کی ماں اپنے بچوں سے انتہائی محبت کرتی ہے اور اس کی حفاظت کے لیے مرنے مارنے پر تل جاتی ہے لہذا شکاریوں کے پاس ماں کو مارے بغیر اس سے بچہ چھینا ناممکن ہوتا ہے۔ اس لیے بچے کو پکڑنے کے لیے ریچھ کے شکاری پہلے اس کی ماں کو مارتے ہیں اور پھر ریچھ کو پکڑا جاتا ہے۔
ڈاکٹر انیس الرحمن کا کہنا تھا کہ اس میں اب کیا شک ہو سکتا ہے کہ ماں کو مارنے ہی سے نسل کشی شروع ہو جاتی ہے مگر اس کے بعد جو سلوک بچے کے ساتھ کیا جاتا ہے اس کی اجازت کوئی بھی معاشرہ اور قانون نہیں دے سکتا۔ان کے بقول ’ریچھ ایک طاقتور جانور ہے اسی لیے سب سے پہلے اس کے دانت نکالے جاتے ہیں۔ اس کے ناخن انتہائی بے دردی سے زنبور کے ساتھ اکھاڑے جاتے ہیں اور اس کے کان میں بے رحمانہ طریقے سے نکیل ڈالی جاتی ہے تاکہ وہ ہمیشہ قابو میں رہے۔ اس کے بعد بچے کی تربیت کا عمل شروع ہوتا ہے جس میں اس کو ڈنڈوں کے ساتھ مارا جاتا ہے۔ اس کے تلوے جلائے جاتے ہیں، بھوکا رکھا جاتا ہے۔جس کے بعد اس کو ناچنے، تماشا دکھانے یا کتوں کے ساتھ لڑائی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ‘
پاکستان میں ریچھ کی آماجگاہیں کے پی کے سے لے کر وزیرستان، گلگت بلتستان، کشمیر اور بلوچستان میں پائی جاتی ہیں۔ خیبرپختوںخوا کے علاقوں میں کالا ریچھ پایا جاتا ہے جبکہ انتہائی نایاب بھورا ریچھ گلگت بلستان کے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔‘
وائلڈ لائف اہلکاروں کے مطابق سوات میں پایا جانے والا ریچھ انتہائی کم ہوچکا ہے جبکہ اس کی ایک قابل ذکر تعداد مانسہرہ اور کوہستان میں موجود ہیں۔ کوہستان ایک دور دراز علاقہ ہے لیک وہاں بھی پابندی کے باوجود ریچھ کو پکڑنے کی اطلاعات ہیں جس میں زیادہ تر خانہ بندوش اور پھر مقامی لوگ ملوث پائے جاتے ہیں۔ مادہ ریچھ عموماً فروری میں بچے کو جنم دیتی ہے۔ فروری سے لے کر مارچ تک مادہ اپنے بچوں کو انتہائی محفوظ ٹھکانے پر رکھتی ہے جہاں پر رسائی اس وقت تو کسی بھی حال میں ممکن نہیں ہوتی مگر جب مارچ کا آغاز ہوتا ہے اور سردی کچھ کم ہوتی ہے تو اس وقت مادہ اپنے بچوں کو لے کر باہر نکلتی ہے۔ مارچ کے وہ چند دن ہوتے ہیں جب ریچھ کے بچے کو پکڑا جا سکتا ہے اس کے بعد اس کو عملاً زندہ پکڑنا ناممکن ہوتا ہے‘۔
محکمہ وائلڈ لائف کو دستیاب اطلاعات کے مطابق اس وقت ریچھ کی خرید و فروخت کے دو بڑے ٹھکانے پشاور اور گوجرانوالہ ہیں۔ جب ریچھ کو مقامی لوگ یا خانہ بدوش پکڑتے ہیں تو وہ عمومی طور پر اس کی بلیک مارکیٹ سے نا واقف ہوتے ہیں۔ اس موقع پر ان سے مڈل مین رابطہ کرتا ہے جو ان سے 30 سے 50 ہزار روپے میں ریچھ خریدتا ہے جس کے بعد وہ یہ ریچھ پشاور پہنچاتا ہے جہاں اسے گوجرانوالہ پہنچایا جاتا ہے یا اس کو پشاور ہی میں اس دھندے میں ملوث لوگ 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے میں خریدتے ہیں۔ گوجرانوالہ ہی میں ریچھ کی بڑی خفیہ منڈی سجتی ہے۔ وہاں ریچھ کے دانت نکالے اور ناخن اکھاڑے جاتے ہیں۔ گوجرانوالہ ہی میں ایسے مراکز ہیں جہاں پر اسے تربیت دی جاتی ہے جس کے بعد اس کی قیمت دو سے لیکر چار لاکھ اور بعض اوقات اس سے بھی زیادہ تک پہنچ جاتی ہے۔ وہاں سے اس کو پھر پورے ملک میں فروخت کیا جاتا ہے۔ حکومت پاکستان نے 2004 میں وائلڈ لائف پر ایک بین الاقوامی سروے منعقد کروایا تھا جس میں ریچھ کو انتہائی خطرے کا شکار قرار دیا گیا تھا۔ 2012 کی ایک بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بھورے ریچھ کی تعداد 200 جبکہ کالے ریچھ کی تعداد 450 کے لگ بھک ہوسکتی ہے۔ 2004 میں سروے کے بعد اس صورت حال کا تجزیہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ دیگر ماحولیاتی عوامل کے علاوہ ریچھ کی کتوں سے لڑائی اور ناچ تماشا کے لیے استعمال بھی ریچھ کی جان کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
چنانچہ ناچنے اور تماشا دکھانے والے ریچھوں کے خلاف سب سے پہلے 2002 میں صوبہ خیبر پختونخوا میں کاروائی ہوئی اور اس حوالے سے قانون بنایا گیا۔ 2005 میں ایسا ہی قانون بلوچستان میں پاس ہوا جس کے بعد اس دھندے میں ملوث لوگ سندھ پہنچ گئے جن کے خلاف سندھ میں وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت تو کارروائیاں ہوئیں مگر صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی طرح وہاں کوئی قانون نہیں تھا۔ تاہم 2015 میں سندھ میں بھی ریچھ کو رکھنے، نچانے، تماشا دکھانے وغیرہ میں استعمال کرنے کو جرم قرار دے دیا گیا اور وہاں پر بھی کاروائیاں ہوئیں۔
لیکن بزدار کا پنجاب اس وقت وہ واحد صوبہ ہے جہاں پر ریچھ کے ناچ تماشا دکھانے پر پابندی کا کوئی خصوصی قانون موجود نہیں ہے جس کا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ اسوقت پنجاب میں محکمہ وائلڈ لائف جو کارروائی کرتا بھی ہے وہ وائلڈ لائف ایکٹ اور انگریز کے بنے ہوئے دور کے قانون اینمل کریولوٹی ایکٹ کے تحت کرتے ہیں جو جاندار نہیں ہے بلکہ انتہائی کمزور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت پنجاب بھر میں 116 ریچھ ایسے ہیں جو ناچ تماشا دکھانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ پنجاب میں ریچھ کے ناچ تماشا دکھانے کے حوالے سے خصوصی قانون اس وقت پنجاب کابینہ کی منظوری کا منتظر ہے جس کے بعد اس کو اسمبلی میں پیش کیا جانا ہے۔ لوگ اس بات کے منتظر ہیں کہ پنجاب کابینہ کب اس قانون اس کی منظوری دیتی ہے تاکہ یہ اسمبلی میں پیش ہو سکے۔
محکمہ وائلڈ لائف پنجاب کے ذرائع کے مطابق صوبے میں جو 116 ریچھ موجود ہیں ان کو مائیکرو چپ کر دیا گیا ہے اور ان کی نقل و حرکت محدود ہے۔ اب صرف انتظار اس بات کا ہے کہ صوبائی حکومت باقی صوبوں کی طرح خصوصی قانون پاس کرائے اور محکمہ وائلڈ لائف ان کو بازیاب کروائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button