شکر ہے میرے بال سفید ہوئے، خون سفید نہیں ہوا

اپنے خاندان کے بیشتر افراد کے سفید بالوں کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے معروف لکھاری اور مزاح نگار انور مقصود نے کہا ہے کہ جب تقسیم ہند کے بعد ہمارا خاندان پاکستان پہنچا تو ہمارے سامنے دو راستے تھے، ایک وہ جس پر چل کر خون سفید ہوتا ہے اور دوسرا وہ جس پر چل کر بال سفید ہوتے لہذا ہم نے بال سفید ہونے والے راستے کو ترجیح دی کیونکہ یہ خون سفید ہونے سے ہزار درجہ بہتر تھا۔ انور نے کہا کہ وہ آج بھی خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ان کے بال سفید ہوئے ہیں، خون نہیں۔ جب انور سے محبت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ’میرا دل ایک بار ٹوٹا تھا اسکے بعد میرا بائی پاس ہوگیا تھا۔
آنگن ٹیڑھا، ستارہ اور مہرالنسا، نادان نادیہ جیسے مشہور ڈرامے لکھنے والے معروف مصنف اور ڈرامہ نگار انور مقصود ایک عرصے سے ڈرامہ انڈسٹری سے دوری اختیار کیے ہوئے ہیں۔ انور مقصود کے معین اختر کے ساتھ مزاح پر مبنی پروگرام ’لوز ٹاک‘ نے مقبولیت کے نئے ریکارڈز قائم کیے تھے۔ ان کے تحریر کردہ تھیٹر پلے تو سامنے آتے رہتے ہیں لیکن ایک طویل عرصے سے پاکستانی ڈرامے کے لیے ان کا قلم خاموش ہے۔ انور مقصود نے اب ایک انٹرویو میں ڈرامہ نہ لکھنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’میں خود اس کام سے پیچھے ہٹ گیا ہوں کیونکہ ابھی جو کچھ ٹی وی پر چل رہا ہے اس کے مطابق میری جگہ بن نہیں سکتی۔ انور مقصود کہتے ہیں کہ ’اب ریٹنگ کا چکر آ گیا ہے، ڈائریکٹر، پروڈیوسر ہر معاملے میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ اب تو مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ سب کچھ طے کرتا ہے کہ کون سا اداکار چاہیے کون سا نہیں اور ڈرامہ کیسا ہونا چاہئے۔‘
انور سے جب پوچھا گیا کہ انہیں آج کے ڈرامے ماضی میں لکھے گئے ڈراموں سے کس طرح مختلف لگتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ’شروع میں اشفاق احمد، بانو قدسیہ، منو بھائی، اور فاطمہ ثریا بجیا نے ڈرامے لکھے۔ نورالہدی شاہ نے بھی بہت اچھے ڈرامے لکھے اوراپنی جگہ بنائی۔ پھر یہ ہوا کہ انڈیا کے ڈرامے آئے تو ہمیں لگا کہ وہ ہمارے ڈراموں سے کچھ سیکھیں گے لیکن کام الٹا ہو گیا، ہمارے لکھنے والوں نے ان سے سیکھنا شروع کر دیا، بس یہیں سے ہمارے ڈرامے کی تباہی اور بربادی کا آغاز ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اسکے بعد ڈائجسٹ لکھنے والوں کی اینٹری ہوئی، ہمارے ملک کی 70 فیصد آبادی چونکہ پڑھی لکھی نہیں ہے اس لیے انہوں نے ساس بہو کے جھگڑوں کو پسند کیا اور ایسا لکھنا ٹرینڈ بن گیا۔ پھر کہیں دیور بھابھی تو کہیں بڑی بہن کے منگیتر سے چھوٹی بہن کا عشق نظر آیا اب لوگ اگر یہ سب کچھ پسند کررہے ہیں تو کیا کہا جائے۔‘
انور مقصود کے بقول اچھا لکھنے والے تو ایسا لکھنے کا سوچ بھی نہیں سکتے اس لیے وہ ڈرامے سے دور ہو گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں تو آج کے ڈرامے کو اچھا برا کہتا ہی نہیں ہوں میں سمجھتا ہوں کہ آج ڈرامہ ہے ہی نہیں یہ کیا چیز ہے بس آپ سوچیں۔‘ آج کے ڈرامے کی سب سے بڑی خامی بارے انہوں نے کہا کہ ’آج سب کچھ جلدی جلدی اور ڈیمانڈ پر لکھا جا رہا ہے، لکھنے والوں پر پریشر ہے ایک ڈرامے میں جو باتیں لکھی جا رہی ہیں وہی اگلے درامے میں بھی دہرائی جا رہی ہیں۔ یکسانیت اس قدر ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے ہر چینل پر ایک ہی ڈرامہ چل رہا ہے۔‘ انور مقصود کہتے ہیں کہ ’آج کل جو ڈرامہ لکھنے والے ہیں ایسا لگتا ہے شاید ان کے گھر میں کوئی کتاب ہی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کے خدا کے لیے ڈرامہ لکھنے والے ساس بہو کے جھگڑوں اور گھریلو سازشوں کو موضوع بنایا چھوڑ دیں۔‘ مزاح نگاری کے حوالے سے اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئے انور مقصود نے کہا کہ ’مزاح لکھنا آسان نہیں ہے، یہ تو تلوار کی دھار پر چلنے کا نام ہے، سمجھ لیں آگ کا دریا ہے جسے پار کرنا ہے۔ کسی کی تضحیک بھی نہیں ہونی چاہیے اور تہذیب کے دائرے میں رہ کر لکھا جانا چاہیے ورنہ بیہودہ مزاح لکھنا تو بہت آسان ہے، تین دن میں 20 ڈرامے لکھے جا سکتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی یہ سوچ کر نہیں لکھا کہ مجھے ایوارڈ ملے گا بلکہ میں تو ان لوگوں کو خوش نصیب سمجھتا ہوں جنہیں ایوارڈ نہیں ملتا کیونکہ ان سے اچھے کام کی توقع کی جا سکتی ہے۔ آج کسی ڈرامہ نگار کا ایک ڈرامہ کامیاب ہو جائے تو وہ اسے ہی اپنی کامیابی سمجھ لیتا ہے۔‘ انور مقصود کو حکومت وقت اور اہم عہدوں پر براجمان شخصیات پر تنقید کی وجہ سے دباؤ کا سامنا بھی رہا، اس حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ’کہا جاتا تھا کہ ہماری تعریف میں بھی کچھ لکھیں تو میں کہتا تھا کہ آپ اچھا کام کریں جس دن اچھا کام کیا میں خود لکھوں گا کہنے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔‘ انور کا ماننا ہے کہ میزبان جس شخصیت کا انٹرویو کرے اس کے بارے میں پہلے آگاہی حاصل کرے۔ ’آج کل تو میزبان کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کے سامنے جو شخصیت بیٹھی ہے اس نے کیا کام کیا ہوا ہے اور کیا نہیں بلکہ آج کل تو شوز میں باقاعدہ بدتمیزی ہو رہی ہوتی ہے۔‘
انور مقصود کے نام سے ٹوئٹر پر بہت سارے فیک اکاؤنٹس موجود ہیں جن کے حوالے سے وہ پہلے بھی وضاحت کر چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’میرے پاس نہ تو واٹس ایپ ہے نہ ہی جدید فون۔ میرے 11 فیک اکاؤنٹس چل رہے ہیں جن سے بدتہذیبی پھیلائی جارہی ہے۔ میں نے رپورٹ کرکے بھی دیکھا لیکن کچھ نہیں بنا۔ میرے بیٹے نے میرس ایک اکاؤنٹ بنا کر دیا تھا لیکن اس کو بھی میں نے بند کروا دیا۔‘ انور مقصود کہتے ہیں کہ انہوں نے ’آج تک جو کچھ لکھا وہ انکی آپا فاطمہ ثریا بجیا کی بدولت ہے، جن سے انہوں نے لکھنا سیکھا۔‘
