شکست کے بعد امریکی بدھو گھر کو واپس لوٹ گئے

افغانستان میں طالبان کے خلاف بیس برس طویل جنگ لڑنے کے بعد امریکہ اور اسکی اتحادی افواج نے 30 اگست کے روز اپنا انخلا مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم بین الاقوامی دفاعی مبصرین اسے انخلا نہیں بلکہ شکست کے بعد فرار قراردے رہے ہیں۔
نائن الیون حملوں کے بعد افغانستان پر چڑھائی کرنے والے دو دہائیوں تک طالبان کے خلاف نبرد آزما رہے لیکن انہیں پچھاڑنے میں ناکام رہے اور بالآخر فیس سیونگ کے لیے انہیں طالبان سے ایک امن معاہدہ کر کے افغانستان سے نکل گئے۔ 31 اگست 2021 کو آخری امریکی فوجی بھی افغانستان سے روانہ ہوگیا، جس کے باعث کابل کی گلیاں خوشی میں ہونے والی ہوائی فائرنگ سے گونج اٹھیں۔
برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق طالبان کی جانب سے تقسیم کردہ ویڈیو فوٹیجز میں جنگجوؤں کو رات گئے امریکی فوجیوں کے جانے کے بعد کابل ایئرپورٹ میں داخل ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔ افغان طالبان نے کہا ہے کہ ’آخری امریکی فوجی بھی کابل سے جاچکا ہے اور ہمارے ملک نے مکمل آزادی حاصل کرلی ہے‘۔
اگرچہ نائن الیون کے حملوں کے بعد امریکہ اور اسکی اتحادی افواج نے طالبان کو اقتدار سے نکالنے میں کامیابی حاصل کی اور افغانستان کو القاعدہ کی جانب سے امریکا پر حملے کے لیے اڈے کے طور پر استعمال ہونے سے روک دیا لیکن اس کا جنگ کا اختتام ایسے ہورہا ہے کہ آج طالبان عسکریت پسند 1996 سے 2001 تک کے اپنے سابقہ دورِ حکمرانی سے زیادہ افغانستان پر کنٹرول حاصل کرچکے ہیں۔ امریکا اور اس کے اتحادی گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران ایک وسیع مگر افراتفری والی ایئرلفٹ کے ذریعے کابل سے ایک لاکھ 22 ہزار سے زائد افراد کو نکالنے میں کامیاب رہے۔ اس کے باوجود ہزاروں ایسے افغان شہری پیچھے رہ گئے ہیں جنہوں نے مغربی ممالک کی مدد کی اور طالبان کی طرف سے انتقامی کارروائیوں سے خوفزدہ ہیں۔
امریکی فوج نے کابل سے باہر نکلنے والی آخری پرواز پر سوار ہونے والے آخری امریکی فوجی کی نائٹ ویژن آپٹکس کے ساتھ لی گئی تصویر شیئر کی جو 82ویں ایئربورن ڈویژن کے میجر جنرل کرس ڈونا تھے۔ امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے فوجی مشن کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب سفارتی مشن قطر میں دوحہ کے مقام سے جاری رہے گا۔ یوں امریکی انخلا کے لیے صدر جو بائیڈن کی مقرر کردہ 31 اگست کی تاریخ سے کچھ گھنٹے قبل ہی امریکہ کی طویل ترین جنگ اپنے اختتام کو پہنچی۔ جنگ اور انخلا کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل فرینک مک کینزی نے کہا آخری امریکی طیارے کابل ہوائی اڈے سے امریکی وقت پیر کی دوپہر تین بج کر 29 منٹ (یعنی کابل میں رات 12 بجے سے ایک منٹ پہلے) پر اڑے۔ تاہم انکا کہنا تھا کہ کچھ امریکی پیچھے رہ گئے ہیں جو جلد ہی واپس آجائیں گے۔
امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے پیچھے رہ جانے والے امریکیوں کی تعداد ممکنہ طور پر سو کے قریب بتائی اور کہا کہ ان کا محکمہ انہیں نکالنے کے لیے کام جاری رکھے گا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل فرینک میک کینزی نے پینٹاگون کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں چیف امریکی سفارت کار راس ولسن، اڑان بھرنے والی آخری سی -17 فلائٹ میں تھے۔ جنرل میکنزی نے کہا کہ اس روانگی سے بہت سے دل ٹوٹے ہیں، ہر کوئی جانا چاہتا تھا لیکن ہم ہر ایک کو نہیں نکال سکے۔ میرے خیال میں اگر ہم مزید 10 روز بھی کابل میں رہتے تب بھی ہر ایک کو نہیں نکال سکتے تھے۔ لیکن پیچھے رہ جانے والوں کو بھی جلد نکال لیا جائے گا۔
یاد رہے کہ امریکا کی تاریخ کی طویل ترین جنگ کے دوران تقریباً ڈھائی ہزار امریکی فوجی، 2 لاکھ 40 ہزار افغان شہری ہلاک ہوئے اور اس پر 20 کھرب ڈالر لاگت آئی۔ تاہم امریکی افواج کے لیے انخلا کا آخری ہفتہ اس طرح افسوس ناک رہا کہ داعش کے ایک خود کش بمبار نے کابل ایئر پورٹ پر خود کو اڑا۔لیا جس سے 160 سے زائد لوگوں سمیت 13 امریکی فوجی بھی مارے گے۔
