شہباز حکومت کا لمبے عرصے کیلئے چلناناممکن کیوں؟

عام انتخابات میں کسی بھی سیاسی جماعت کو واضح اکثریت نہ ملنے کے بعد نون لیگ نے پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم سمیت 6 سے زائد سیاسی جماعتوں کی حمایت سے اتحادی حکومت بنانے کا فیصلہ تو کیا ہے تاہم یہ حکومت زیادہ عرصے تک چلتی دکھائی نہین دیتی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی اعلان کردہ نئی اتحادی حکومت 2022 کے حکومتی اتحاد کا تسلسل دکھائی دیتی ہے جس نے عمران خان کو اقتدار سے نکالا تھا۔ تاہم انتخابات کے بعد بھی سیاسی منظرنامہ سردست جوں کا توں ہے۔وفاق میں اتحادی حکومت کا قیام پرانا سیٹ اپ ہی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اس پر اب انتخابات کی مہر لگ گئی ہے۔‘
مبصرین کے مطابق وفاق میں اتحادی حکومت کے قیام سے پہلے ہی ایسے اشارے مل رہے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والی حکومت گذشتہ حکومت سے کمزور ہو گی کیونکہ سنہ 2023-2022 کی حکومت میں وزیر خارجہ رہنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ’ان کی پارٹی اس بار وزارتیں نہیں لے گی، تاہم ’ایشو ٹو ایشو‘ وزیراعظم کی حمایت کرے گی۔‘مبصرین کے مطابق ’پاکستان پیپلز پارٹی اگر وزارتیں نہیں لیتی تو ایک اقلیتی حکومت قائم ہوگی جو گذشتہ اتحاد کا تسلسل ہو گی مگر بہت زیادہ ’کمزور‘ ہوگی۔
مبصرین کے مطابق اسٹیبلشمنٹ اور سیاست دانوں میں ذاتی انا اور اقتدار کی ہوس کی اس لڑائی میں ہار پاکستان رہا ہے کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ن لیگ کو حکومت سازی میں اپنی حمایت کا تو کہا ہے لیکن بدلے میں سارے آئینی عہدے مانگ لیے ہیں۔ یعنی اقتدار تو ملے گا، لیکن اپوزیشن بھی رہے گی۔ اقتدار کے مزے بھی اور اپوزیشن کی اپوزیشن بھی۔ اس مک مکاؤ میں جو بھی وزیر اعظم بنے گا، وہ تاریخ کا کمزور ترین وزیر اعظم ہو گا۔ اسٹیبلشمنٹ اپنی مرضی کے فیصلے کروائے گی جبکہ اتحادی پارٹیوں کی بلیک میلنگ الگ سے برداشت کرنی پڑے گی۔اب اگلا مسئلہ یہ بھی ہے کہ آپ کو اگلے کچھ مہینوں میں آئی ایم ایف کے پاس پھر جانا ہے، یعنی بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرنا پڑے گا جس کی وجہ سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا۔ کیا ایک کمزور وفاقی حکومت یہ سخت فیصلے لے سکے گی؟ ہرگز نہیں۔ مبصرین کے مطابق سارا قصور ان سیکٹرز کا ہے جنہوں نے الیکشن نما سلیکشن کے نام پر ایک ایسا رائتہ بنا دیا ہے جو نگلا نہیں جا رہا۔ اگر آپ نواز شریف کو واپس لائے ہی وزیر اعظم بنوانے کے لیے تھے تو کم سے کم سادہ اکثریت تو لے کر دیتے تا کہ کم از کم وہ صرف اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں ہی بلیک میل ہوتا، 80 سیٹیں دے کر اسے دیگر سیاسی جماعتوں کی بھی منتیں کرنے پر لگا دیا گیا ہے۔ اگر کوئی بھی پارٹی وفاقی حکومت مک مکاؤ کے ذریعے بناتی ہے تو اسے تحریک عدم اعتماد کا خوف ہمیشہ رہے گا۔ اس خوف کے سہارے ایک کمزور وفاقی حکومت کیسے چل سکے گی؟
دوسری جانب پاکستان اس وقت معاشی سست روی کا سامنا کر رہا ہے اور نئی حکومت کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔ ’برسراقتدار آنے والی کسی بھی حکومت کو بہت زیادہ غیر مقبول اور سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔‘ تاہم مستقبل میں کسی سیاسی نقصان سے بچنے کیلئے پیپلز پارٹی خود کو طویل المدتی تناظر میں اس صورت حال سے دور رکھ رہی ہے جس کی وجہ سے تمام فیصلوں کا سیاسی نقصان صرف نون لیگ کو اٹھانا پڑے گا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی ازاد امیدواروں کی صورت میں اتحادی حکومت کو ایک مضبوط اپوزیشن کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ جو آنے والی اتحادی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرتی رہے گی۔
مبصرین کے مطابق اس سارے کھیل تماشے میں پاکستان ہار رہا ہے جس کا نوجوان یہاں سے مایوس ہو چکا ہے۔ بے انتہا مہنگائی، بدامنی اور بے روزگاری نے اسے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ بارڈر کے حالات بھی اچھے نہیں۔ ہمسایہ ممالک نے پاکستان کا جینا دوبھر کر رکھا ہے جبکہ طالبان دوبارہ پاکستان میں قدم جمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیا ایک کمزور وفاقی حکومت ان چیلنجز کا مقابلہ کر پائے گی؟
مبصرین کے مطابقسیاست میں ہمیشہ ڈائیلاگ اور مفاہمت کا دروازہ کھلا رکھنا چاہیے۔ اگر تحریک انصاف نے اس اصول پر عمل کیا ہوتا تو آج وہ آسانی سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کر کے وفاقی حکومت بنا سکتی تھی لیکن سیاست دان اقتدار میں آ کر انتقام کی آگ میں اس قدر اندھے ہو جاتے ہیں کہ مفاہمت کا راستہ بند کر دیتے ہیں اور بعد میں پچھتاتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس سارے سیاسی مکس اچکار کا ایک حل یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مسلم لیگ ن پنجاب میں حکومت بنائے، تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں، پیپلزپارٹی سندھ میں، جبکہ بلوچستان میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ مخلوط حکومت بنائیں۔ وفاقی حکومت کے لیے تمام سیاسی جماعتیں مل کر قومی حکومت بنائیں اور پاکستان کو مل کر ان مسائل سے نکالیں۔ قومی اسمبلی کا دوبارہ الیکشن ہم افورڈ نہیں کر سکتے۔ سارے سٹیک ہولڈرز اور سیاست دان یہ بات یاد رکھیں کہ سب سے پہلے پاکستان آتا ہے، پاکستان ہے تو ہم ہیں۔
