شہباز حکومت کو فوج اورIMF کے دوہرے دباؤ کا سامنا


اتحادی حکومت کو اس وقت نہ صرف شدید ترین معاشی چیلنج کا سامنا ہے بلکہ طاقتور اسٹیبلشمنٹ کا ایک تگڑا دھڑا بھی اس پر الیکشن کے اعلان کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز حکومت کے مستقبل کا فیصلہ اب دوحہ میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین ہونے والے مذاکرات کی کامیابی سے مشروط نظر آتا ہے۔ ذرائع تصدیق کر رہے ہیں کہ دوحہ میں آئی ایم ایف سے جاری مذاکرات کا نتیجہ مثبت آنے کی صورت میں حکومت برقرار رہے گی چاہے پھر الیکشن سال کے آخر میں ہی کیوں نہ کرانا پڑیں۔

اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ معاشی بحران سے نمٹنا ہے لہذا اگر مذاکرات کا نتیجہ اچھا نہ رہا تو نون لیگ اتحادی جماعتوں سے رجوع کر کے حکومت چھوڑنے کا مشورہ دے گی جسکے بعد اتحادی حتمی فیصلہ کریں گے۔ تاہم پیپلز پارٹی اس تجویز کی سخت مخالفت کر رہی ہے کیونکہ اس کے خیال میں حکومت چھوڑنا سیاسی طور پر اتحادیوں کے لئے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کا ایک تگڑا دھڑا معاشی بحران سے نمٹنے میں حکومت کا ساتھ دینے کی بجائے اس پر فوری نئے الیکشن کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے کیونکہ کہ وہ نہیں چاہتا کے نئے آرمی چیف کا انتخاب شہباز شریف کریں اور عمران خان کے فیورٹ جرنیل فیض حمید کے فوجی سربراہ بننے کا چانس ختم ہو جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران کو نومبر سے پہلے اقتدار سے نکالنے کا ایک بڑا مقصد یہ بھی تھا کہ وہ فیض کو نیا آرمی چیف نہ بنا سکیں۔ لیکن اب اسٹیبلشمنٹ کا تگڑا دھڑا یہ چاہتا ہے کہ اگلے عام انتخابات کا انعقاد موجودہ آرمی چیف کے دور میں ہو اور نیا آرمی چیف بھی اگلی حکومت ہی لگائے۔ ان حالات میں حکومت دو محاذوں پر جنگ لڑ رہی ہے۔

دوسری جانب حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کے اندر بھی ایک بڑا دھڑا یہ چاہتا ہے کہ عمران خان حکومت کی ناکامیوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانے کی بجائے فوری نئے الیکشن کا اعلان کردیا جائے۔ نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز حالیہ دنوں کئی مرتبہ اپنے جلسوں میں خطاب کے دوران یہ تجویز دے چکی ہیں۔ تاہم آصف زرداری اور شہباز شریف اس تجویز کے مخالف ہیں اور نواز شریف کو بھی اپنا ہمنوا بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ان کے خیال میں اگر اس وقت حکومت نے سرنڈر کردیا تو اس کا سارا فائدہ عمران خان کو ہوگا اور آگے ان کے لیے مشکلات ہی مشکلات ہوں گی۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک جانب اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے مابین اعتماد کا فقدان ہے تو دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارے اور حکومت کے مابین بھی ایسی ہی صورتحال ہے آئی۔ ذرائع کہتے ہیں کہ ائی ایم ایف سے مذاکرات میں معاشی مسائل کے حوالے سے مجوزہ حل پر حوصلہ افزا جواب نہ ملا تو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلانے کا امکان ہے تاکہ فوجی قیادت کے ساتھ بھی مشورہ کیا جا سکے کیونکہ اس وقت ملکی معیشت پر سب سے بڑا بوجھ فوج کی تنخواہیں اور پینشن کی صورت میں ہے۔ لہٰذا حکومت یکطرفہ معاشی فیصلے نہیں کر سکتی جن میں مشکل ترین فیصلے بھی شامل ہیں کیونکہ ان کی بھاری سیاسی قیمت موجودہ اتحادی جماعتوں کو اگلے الیکشن میں چکانا پڑے گی۔ یہ بحث بھی جاری ہے کہ چونکہ اس وقت حکومت چھوڑنے کا مطلب پاکستان کے نقصان کے مترادف ہو گا لہٰذا حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بیٹھ کر متفقہ طور پر فیصلے کرے تاکہ ملکی معیشت بحال ہو سکے جو پہلے ہی دیوالیہ ہونے جا رہی ہے۔ ملکی معاشی صورت کی وجہ سے اسٹیک ہولڈرز بھی پریشان ہیں۔

سیاسی اور معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو نگراں حکومت کی بجائے ایک منتخب حکومت کے ساتھ معاملات طے کرنے کا موقع دینا چاہیئے کیوں کہ منتخب لوگ تو پھر عوام کو جواب دے ہوتے ہیں لیکن نگران حکومت ایک تو کمزور ہوتی ہے اور دوسرا کسی کو جوابدہ نہیں ہوتی۔ لہذا موجودہ حکومت کو کامیاب کروانے اور پاکستان کے معاشی مسائل حل کروانے کے لیے بین الاقوامی دنیا پر بھی ایک دباؤ ہے کیونکہ اگر ملک کے معاشی مسائل حل نہ ہوئے تو امپورٹڈ ہونے کے الزام کا سامنا کرنے والی حکومت کو سرنڈر کر کے گھر جانا پڑے گا۔

Back to top button