شہباز حکومت کو ناکام کرنے کی سازش کون کر رہا ہے؟


معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار غریدہ فاروقی نے کہا ہے کہ پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ کُل پاکستان کے 70 فیصد ووٹوں پر مشتمل شہباز شریف کی مخلوط قومی حکومت کو مدت پوری کرنے دی جائے اور بھروسے کے فقدان کو سمیٹنے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات کیے جاتے تاکہ سیاستدانوں کو بھی یقین ہو جائے کہ اس بار فوجی اسٹیبلشمنٹ واقعی نیوٹرل ہے اور کوئی سازش نہیں ہو رہی۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ حالات جس نہج پر جا رہے ہیں انہیں دیکھ کر تو غالب امکان یہی لگتا ہے کہ شہباز حکومت کو جون جولائی میں الیکشن کا اعلان کرنے پر مجبور کر دیا جائے گا۔ پھر اگلے تین ماہ نگران حکومت سے کام لیا جائے گا اور سال کے آخر میں انتخابات کروا دیے جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے جلسوں کا تسلسل ملتان میں مکمل ہو چکا جس میں توقع کی جا رہی تھی کہ لانگ مارچ کی تاریخ دی جائے گی لیکن ایسا ہو نہ سکا اور تاریخ دینے کے لیے اگلی تاریخ دے دی گئی۔سننے میں آ رہا ہے کہ عین ممکن ہے عمران خان لانگ مارچ کریں ہی نہ اور اسی دوران انتخابات کی یقین دہانی کروا دی جائے۔ یہ خبر اس حوالے سے بھی مضبوط معلوم ہوتی ہے کہ عمران خان نے اچانک لانگ مارچ کا اعلان کرنے سے یُوٹرن لیتے ہوئے مزید وقت مانگ لیا ہے۔

غریدہ فاروقی کے بقول میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں کہ عمران خان کو لانگ مارچ کا قطعاً کوئی فائدہ ہوتا نظر نہیں آتا۔ عمران کے ساتھ جو عوام ہیں ان کا خمیری مزاج انقلاب کے لیے گرمی، سردی، دھوپ، بارش، بھوک پیاس، دھکے کوڑے کھانے والا نہیں۔ یہ عوام چند گھنٹوں کے لیے جلسوں میں تو خوب رونق جماتی ہے مگر طویل مدتی آزمائش ان کے بس کی بات نہیں۔نیوں بھی 2014 کے آزادی مارچ کا آغاز اورانجام بھی ابھی یادداشتوں سے محو نہیں ہوا۔ بیس پچیس لاکھ بندہ تو بہت بڑی بات، عمران خان کے ساتھ پانچ ہزار لوگ بھی اسلام آباد آ جائیں تو ان کی رہائش، کھانے پینے، روزمرہ ضروریات اور حاجات کا بندوبست کرنا ایک بڑی مشکل ہو جائے گی۔ ان سب مشکلات اور رکاوٹوں کا عمران خان کو بھی بخوبی اندازہ ہے اسی لیے وہ فی الحال نفسیاتی اعتبار سے اپنے سیاسی مخالفین اور اسٹیبلشمنٹ کو بیک فُٹ پر ڈالنا چاہتے ہیں جن میں کم از کم ایک فریق کی حد تک عمران خان کامیاب بھی ہو رہے ہیں۔

اس وقت تک بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ عمران خان حکومت سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ کو دباؤ میں لانا چاہ رہے ہیں اور اسی کے نتیجے میں حکومت پر فوری الیکشن کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اول تو نیوٹرل ہونے کے دعوے کو برقرار رکھتے ہوئے حکومت سے الیکشن کا مطالبہ کرنا یا پریشر ڈالنا ہی بذاتِ خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ دوئم، ایک آئینی، جمہوری، پارلیمانی، صاف شفاف طریقے سے آئی حکومت کے لیے لازم ہےکہ اسے ہر حال میں مدت پوری کرنے دی جانی چاہیے۔ انکا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان ایک ایسی تجربہ گاہ بن چکا ہے جہاں اصل عوامی فارمولے سے ہٹ کر جس نے بھی زبردستی کے فارمولے سے کچھ نیا ایجاد کرنا چاہا، ناکامی اس کا مقدر بنی۔ 2018 کے تجربے کے بعد تو اصولی اعتبار سے عسکری تجربہ گاہ کو مکمل طور پر تالے لگا دینے چاہیے تھے لیکن لگتا ایسا ہے کہ تابکاری محلول کے اثرات تاحال زائل نہیں ہوئے۔ گذشتہ ساڑھے تین سال کی بدترین ناکامی کے جو داغ ملبوسِ خاک پر لگے ہیں وہ نہ تو کسی نیوٹرل کیموفلاج سے چھپ سکتے ہیں اور نہ ہی کسی خفیہ فارمولا ڈیٹرجنٹ سے دھوئے جا سکتے ہیں۔ لہٰذا بہتر یہی ہوتا کہ کُل پاکستان کے 70 فیصد ووٹوں پر مشتمل، نئی آنے والی قومی متحدہ حکومت کو مدت پوری کرنے دی جاتی اور بھروسے کے فقدان کو سمیٹنے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات کیے جاتے تاکہ سسٹم کو بھی یقین ہو جاتا کہ اس بار تبدیلی واقعی نیوٹرل ہے۔

بقول غریدہ فاروقی، اب بھی وقت ہے، سب سے اہم بات یہ ہے کہ وزارتِ عظمی پر ایک ایسا شخص موجود ہے جس کی ساکھ ہی کارکردگی ہے۔ بطور وزیر اعلیٰ پنجاب، شہباز شریف کی کامیابیوں کی گواہی تو ان کے بدترین مخالف بھی کھلے دل سے ادا کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ رہا کہ پنجاب میں شہباز شریف کو نہ صرف واضح مینڈیٹ بلکہ بِلاشرکت غیرے اختیار بھی حاصل رہا۔ بطور وزیر اعظم، شہباز شریف کے ہاتھ جہاں مخلوط حکومت کی مجبوریوں سے بندھے ہیں وہاں کئی ریاستی و ملکی معاملات میں دیگر اداروں کی لازم شراکت کے بھی پابند ہیں۔ ایسی صورت حال میں ریاستی اداروں کا بھی آئینی، قانونی، اخلاقی فرض ہے کہ وہ نہ صرف اپنی ذمہ داری پوری کریں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ آئینی حدود کی بھی حتی الامکان پابندی ملحوظِ خاطر رکھیں۔ فی الوقت پاکستان کے پاس ایک تاریخی موقع ہے کہ ماضی کی غلطیاں درست کر لی جائیں اور ایک نئی واضح مشترکہ سمت کی طرف گامزن ہوا جائے جس کا واحد مقصد عوامی فلاح اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی ہو، جس کے لیے متحدہ قومی حکومت ایک اہم کڑی ثابت ہو سکتی ہے۔ ریاستی اداروں کے ذریعے سے ریاست اور عوام کے مابین اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں اور ان میں تمام سیاسی جماعتوں بشمول پاکستان تحریکِ انصاف کو شامل کیا جائے۔ اس وقت بھروسے کی ایک بڑی خلیج ریاست، حکومت اور عوام کے درمیان موجود ہے اور اس خلیج کو پُر کرنے کی کوششوں کے بغیر اگر نظام پر زور زبردستی کرنے کی کوشش کی گئی تو خدانخواستہ ملک عوامی غیظ و غضب کا شکار ہو کر خونی حالات کی جانب بڑھ سکتا ہے۔

غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ چند بنیادی اصلاحات اور بہتریاں لائے بغیر اگر فوری الیکشن کی بچگانہ سوچ کے دباؤ میں آ کر نظام کے ساتھ زبردستی کی گئی تو پاکستان کی تاریخ کے انتہائی متنازع اور خاکم بدہن خونی انتخابات کے لیے ازخود راہ ہموار کی جائے گی۔ پاکستان میں حقیقی عوامی فیصلے نہ تسلیم کیے جانے کی خونی روایات ماضی کا تلخ حصہ ہیں اور اگر ایک بار پھر ایسی کوشش کی گئی تو 2018 کی تجربہ گاہ کے تمام محلول آپس میں گڈمڈ ہو کر زہریلے اثرات کے ساتھ پھٹ پڑیں گے جن سے تجرباتی سائنس دانوں کے چہرے سب سے پہلے مسخ ہونے کا خوفناک خدشہ موجود ہے۔ اس وقت سسٹم کی بہتری کے لیے سسٹم کا جاری رہنا ہی واحد موزوں اور دانش مند آپشن ہے جس کے ساتھ ساتھ متحارب فریقین کو بذریعہ ڈائیلاگ ہی آگے بڑھنے دیا جانا مناسب حل ہے اور اسی دوران نظام کی بہتری کی گنجائش بھی نکالی جا سکتی ہے۔

Back to top button