شہبازبکری ہوگئے، لانگ مارچ میں شرکت مشکوک

مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف نے ملکی اسٹیبلشمنٹ کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر اپنے بڑے بھائی نواز شریف کے اصرار کے باوجود 27اکتوبر کے لانگ مارچ میں شرکت سے معذرت کرلی ہے اور یہ عذر پیش کیا ہے کہ ان کے گرتی ہوئی صحت انہیں ایسی کسی سرگرمی میں شرکت کی اجازت نہیں دیتی۔ یاد رہے کہ شہباز شریف قومی احتساب بیورو کی جانب سے قائم کردہ کرپشن کے کئی مقدمات میں ضمانت پر ہیں جبکہ ان کے بڑے بھائی نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز اس وقت کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں۔ ان حالات میں نواز شریف کی تمام تر امیدوں کامرکز مولانا فضل الرحمان کا لانگ مارچ تھا جس میں اپنی جماعت کی شرکت کا اعلان وہ ایک ہفتہ پہلے ہی کرچکے ہیں لیکن اس ایک ہفتے کے دوران چھوٹے میاں بکری ہوگئے تھے اور نواز شریف پر مسلسل یہ دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ نون لیگ کی جانب سے مولانا کے دھرنے میں شرکت کا اعلان واپس لے لیں اور انہیں قائل کیا جائے کہ لانگ مارچ کو کم از کم ایک ماہ کے لیے موخر کر دیا جائے۔ تاہم نواز شریف یہ بات ماننے پر تیار نہیں تھے چنانچہ شہباز شریف نے آخری لمحے میں اپنا پلا اسٹیبلشمنٹ کے کھاتے میں ڈالتے ہوئے لانگ مارچ میں شرکت سے معذرت کرلی ہے۔ یاد رہے کہ جب الیکشن 2018 سے پہلے نواز شریف اپنی اہلیہ کو بستر مرگ پر چھوڑ کر پاکستان واپس پہنچے تھے تو شہباز شریف نے تب بھی آخری لمحات میں انہیں دھوکا دے دیاتھا اور لاہور ایئرپورٹ ہی نہ پہنچے جہاں سے نواز شریف کو مریم سمیت گرفتار کر لیا گیا۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شہباز شریف نے تین اکتوبر کے روز نوازشریف سے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات کر کے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔ شہباز شریف نے آزادی مارچ میں پارٹی کی قیادت کرنے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میری صحت اجازت نہیں دیتی کہ میں یہ سخت کام کر سکوں، ڈاکٹرز نے آرام کا مشورہ دیا ہے۔ جس پر نواز شریف نے چھوٹے میاں سے کہا کہ اللہ آپ کو صحت دے۔ آپ کا آرام کرنا ہی بنتا ہے۔ اس موقع پر نواز شریف نے شہباز شریف کی عدم موجودگی میں احسن اقبال کو پارٹی کی قیادت کی ہدایت کر دی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے بلاول بھٹو کو یہ پیغام بھیجا ہے کہ عوام حکومت سے مایوس ہو چکے ہیں اس لئے اپوزیشن جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے اس حکومت سے عوام کی جان چھڑائیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو کو کہا جائے کہ وہ آزادی مارچ میں ضرورشریک ہوں۔ اسی طرح نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کے لیے پیغام بھیجا ہے کہ مہنگائی نے عام آدمی کا جینا مشکل کر رکھا ہے، حکومت عوام کو ریلیف دینے میں مکمل ناکام ہے، آزادی مارچ کا ایجنڈا مہنگائی کے خلاف احتجاج رکھا جائے.
دوسری طرف مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پر جے یو آئی ف کے وفد نے سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف سے جیل میں ملاقات کے لیے محکمہ داخلہ پنجاب کو درخواست دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات کی اجازت ملتے ہی جے یو آئی کا وفد کوٹ لکھپت جیل میں مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف سے ملاقات کرے گا اور مولانا فضل الرحمان کا پیغام لیگی قائد تک پہنچائے گا۔۔ جمعیت علمائے اسلام ( ف) کی جانب سے سیکرٹری داخلہ پنجاب کو خط لکھا گیا ہے.میاں نواز شریف سے ملاقات کرنے والوں میں جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا اسعد محمود اور اکرم درانی شامل ہوں گے.
