شہباز شریف نے اپوزیشن کی آرمی چیف سے ملاقات کی تصدیق کردی

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے حزب اختلاف کی آل پارٹیز کانفرنس سے قبل آرمی چیف سے ملاقات کی تصدیق کردی۔ لاہور میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس بات سے انکار نہیں کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات آل پارٹیز کانفرنس سے پہلے ہوئی، اِس ملاقات میں گلگت بلتستان اور قومی سلامتی سے متعلق امور پر بات چیت ہوئی۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا کہ اب جب کہ خبر سامنے آگئی ہے تو میں انکار نہیں کرتا کہ اپوزیشن کی اے پی سے سے ایک رات قبل آرمی چیف سے ملاقات ہوئی تھی، جس میں دیگر پارلیمانی لیڈرز بھی موجود تھے جہاں میں بھی شریک تھا۔قائد حزب اختلاف نے مزید کہا کہ ہماری جماعت مسلم لیگ ن کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے، میں جیل میں رہوں یا باہر اے پی سی میں ہونے والے فیصلوں پر عملدرآمد ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے جھوٹے وعدوں سے عوام تنگ آچکے ہیں، اقتدار ملا تو پھر عوام کی خدمت کریں گے، نوازشریف کی قیادت میں ہماری پارٹی متحد ہے، انہوں نے اپنے دور حکومت میں ہمیشہ عوام کی خدمت کی۔لیگی صدر کا اپوزیشن کی اے پی سی سے متعلق کا کہنا تھا کہ عمران خان حکومت کی عوام دشمن پالیسوں پر اپوزیشن کا اکھٹا ہونا ضروری ہے، آل پارٹیز کانفرنس کے نتائج مثبت آئیں گے، اسمبلیوں سے استعفوں کا آپشن موجود ہے، اے پی سی کے فیصلوں پر بہر صورت عمل ہوگا۔لیگی صدر کا کہنا تھا کہ جبر کیا جا رہا ہے، گندا انتقام لیاجا رہا ہے، نیب نیازی گٹھ جوڑ اور اندھے انتقام کی پیاس نہیں بجھ رہی۔
خیال رہے کہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے اگلے روز خبر سامنے آئی تھی جس کے مطابق عسکری قیادت اور پارلیمانی پارٹی کے رہنماؤں کی گزشتہ ہفتے ملاقات ہوئی ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے ملکی سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے گذشتہ ہفتے ملاقات کی ہے۔رپورٹ کے مطابق ملاقات میں عسکری قیادت نے فوج کو سیاسی معاملات سے دور رکھنے پر زور دیا ہے۔ملاقات میں عسکری قیادت نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر فوج ہمیشہ سول انتظامیہ کی مدد کرتی رہے گی تاہم فوج کاملک میں کسی بھی سیاسی عمل سے براہ راست یا بالواسطہ تعلق نہیں اور اس کے علاوہ الیکشن ریفارمز، نیب، سیاسی معاملات میں فوج کا کوئی عمل دخل نہیں، یہ کام سیاسی قیادت نے خود کرنا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button