شہباز شریف کو دوبارہ وزیر اعظم بنوانے میں زرداری کا ہاتھ ھے؟

سینئر صحافی اور کالم نگار نصرت جاوید نے کہا ھے کہ نواز شریف کو ’’جھانسہ‘‘ دیا جارہا تھا کہ عوام کی اکثریت ا نہیں چوتھی بار پاکستان کا وزیر اعظم دیکھنے کو بے چین ہے۔شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ پر واپسی انتخابات سے قبل ہی طے ہوچکی تھی۔ شہباز شریف کو وزیر اعظم بنوانے میں آصف علی زرداری نے اہم کردار ادا کیا ۔ وہ اگر اس کے عوض ایک بارپھر پاکستان کا صدر منتخب ھونا چاھتے ہیں تو مسلم لیگ (نون) ان کی خواہش رد کرنے کی قوت نہیں رکھتی ۔آصف علی زرداری نے مسلم لیگ (نون) کی مجبوری کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ اپنے ایک کالم میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی کے مابین حکومت سازی کے لئے اتفاق ہوگیا ہے۔ جو بندوبست طے ہوا ہے اس کے مطابق آصف علی زرداری ایک بار پھر وطن عزیز کا صدر منتخب ہوکر تاریخ بنائیں گے۔شہبازشریف بھی دوبارہ وزیر اعظم کا منصب سنبھال لیں گے۔ اس کے علاوہ حکومتی عہدوں کی بندر بانٹ بھی ہوئی ہے۔ اسے قابل قدر دکھانے کے لئے ’’کچھ لو۔ کچھ دو‘‘ کے الفاظ استعمال کیے جائیں گے۔ منگل کی رات جس ڈرامائی انداز میں مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی کے مابین مک مکا کا اعلان ہوا ہے اس نے حیران نہیں کیا یہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ بالآخر مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی کو مل کر ہی حکومت بنانا ہوگی۔

نصرت جاوید کے مطابق انتخابات کے انعقاد سے چار ماہ قبل ہی رپورٹر کی جبلت استعمال کرتے ہوئے اندازہ ہوگیا تھا کہ نواز شریف کے چوتھی بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر لوٹنے کے امکانات معدوم تر ہوتے جارہے ہیں۔ مسلم لیگ (نون) کے سرکردہ رہ نما اپنے قائد کو زمینی حقائق سے بے خبررکھے ہوئے تھے۔ ہمہ وقت خاندان کے چندافراد اور جی حضوری کرنے والے مصاحبین کے ’’حصار‘‘ میں رھنے والے نواز شریف کو نظر بظاہر ’’جھانسہ‘‘ دیا جارہا تھا کہ ہمارے عوام کی اکثریت ا نہیں چوتھی بار پاکستان کا وزیر اعظم دیکھنے کو بے چین ہے۔حقیقت مگر یہ ھے کہ شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ پر واپسی 8فروری2024ء کے انتخابات سے قبل ہی طے ہوچکی تھی۔ کسی کو اس ضمن میں شبہ ہے تو تھوڑی دیر کو تقریباََ روزانہ کی بنیاد پر پاس ہوئے ان قوانین کو یاد کرلے جن کے ذریعے اسٹیبلیشمنٹ کا وفاقی حکومت کیساتھ ’’ایک پیج‘‘ پر یکجا ہونا یقینی بنایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے شہباز شریف فرانس گئے تھے۔ وہاں ایک بین الاقوامی کانفرنس کے دوران وہ آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کی توجہ لینے کو بے چین رہے۔ ان کی بھرپور کاوشوں کی بدولت بالآخر عالمی معیشت کا نگہبان ادارہ اس امر پر رضا مند ہوا کہ پاکستان کی معیشت کو ’’ہنگامی طبی امداد‘‘ کی صورت 3ارب ڈالر کی رقم تین قسطوں میں فراہم کی جائے۔ مذکورہ رقم کی فراہمی کا جو بندوبست ہوا وہ انتخابات کا ا نعقاد یقینی بنانے کا سبب بھی ہوا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ شہباز شریف کے جو مذاکرات ہوئے ہیں ان میں چند ایسے اقدامات بھی طے کرلئے گئے ہیں جنہیں 8 فروری کے بعد ’’منتخب‘‘ کہلاتی حکومت کے ذریعے لاگو کرنا مقصودہے۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ کوئی پسند کرے یا نہیں شہباز شریف کو وزیر اعظم بنوانے میں آصف علی زرداری نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ اگر اس کے عوض ایک بارپھر پاکستان کا صدر منتخب ہوکر تاریخ بنانے کے خواہاں ہیں تو مسلم لیگ (نون) ان کی خواہش کو سختی سے رد کرنے کی قوت کی حامل نہیں تھی۔ پیپلز پارٹی کے ووٹوں کے بغیر شہباز شریف کا وزیر اعظم منتخب ہونا۔ ممکن ہی نہیں تھا۔ انتخابی نتائج اسے پیپلز پارٹی سے سمجھوتوں پر مجبور کرچکے ہیں۔ کائیاں سیاستدان ہوتے ہوئے آصف علی زرداری نے مسلم لیگ (نون) کی مجبوری کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔سیاست اپنی قوت کو بھرپور اور بروقت انداز میں استعمال کرنے کا نام ہی تو ہے۔ توقع کے عین مطابق پی ڈی ایم (2)کی حکومت کا آغاز ہونے والا ہے۔ خواتین وحضرات سیٹ بیلٹ باندھ لیں اور جہاز اڑجانے کے بعد بھی باندھے رکھیں۔ دوران پرواز آپ کو اکثر جھٹکے محسوس ہوتے رہیں گے۔

Back to top button