کیا شہباز شریف کھل کر اپوزیشن کرنے کو تیار ہیں؟

سیاسی بیانیے پر پائے جانے والے اندرونی اختلافات اور فوجی اسٹیبلشمنٹ سے لگی شہباز شریف کی امیدوں کی وجہ سے نواز لیگ متحدہ اپوزیشن کے ساتھ تاحال ایک پیج پر نہیں آرہی جس کا نقصان صرف ن لیگ کو ہی نہیں بلکہ اپوزیشن الائنس کو بھی ہو رہا ہے اور قومی سیاست پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں تحریک انصاف کے دو سالوں کی کارکردگی تو مایوس کن ہے ہی لیکن حزب اختلاف کی کارکردگی بھی کسی طور ستائش کی مستحق نہیں جس نے قدم قدم پر اپنے اصولوں پرکمپرومائز کیا ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں تحریک انصاف نے معاشی، سیاسی، خارجہ پالیسی محاذ پر خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کرنے کے باوجود جس مہارت کے ساتھ حزب اختلاف کو دیوار کے ساتھ لگا کے اور دفاعی پوزیشن میں ڈال رکھا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ شاید پہلی بار ہے کہ پیپلز پارٹی کے پانچ برسوں میں ہر چھ ماہ بعد حکومتی کارکردگی پر وائٹ اور بلیک پیپر جاری کرنے والی نون لیگ نے پاکستان کی ناکام ترین حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے کوئی ایک تنقیدی صفحہ بھی جاری نہیں کیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ شہباز شریف نے نیب کے احتساب سے بچنے کے لیے نون لیگ کی سیاست کو فریزر کی نذر کر دیا ہے۔ اپوزیشن اور پنجاب کی سب سے بڑی جماعت نون لیگ اپنی عددی طاقت تو برقرار رکھے ہوئے ہے تاہم ہر گزرتے دن کے ساتھ بظاہر غیر مقبول ہوتی حکومت کے خلاف پنجاب میں اپنا عوامی اثر و رسوخ استعمال نہیں کر پا رہی۔ نواز شریف پہلے ہی ملک سے باہر ہیں اور شہباز شریف ملک میں ہونے کے باوجود اپوزیشن کی سیاست کرنے سے گریزاں ہیں۔
ان حالات میں پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات میں سب یہی سوچ رہے ہیں کہ کیا اپوزیشن ایک متفقہ ایجنڈے پر اکٹھی ہو سکتی ہے؟ کیا حزب اختلاف کی تمام قیادت ایک جگہ بیٹھنے میں کامیاب ہو سکتی ہے؟ یہ ملین ڈالر سوال ہے اور جواب شاید اس میں چھپا ہے کہ اگر نون لیگی طاقت ور حلقوں کی خوشنودی کے حصول کے ایجنڈے سے ہٹ کر عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ لیں تو ایسا ممکن ہے۔
بلاول بھٹو نے اس ضمن میں مخلصانہ کوششیں کی ہیں، وہ کراچی سے لاہور آئے اور شہباز شریف سے ملاقات کی کوشش کی لیکن انہوں نے کرونا کے باعث طبیعت کی خرابی کا بہانہ کر دیا۔ تاہم بلاول بھٹو پھر بھی نون لیگ کی دوسرے درجے کی قیادت کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف اپوزیشن کی ایک متفقہ سٹریٹجی بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ مولانا فضل الرحمن بھی اپنے تئیں کوششوں میں مگن ہیں لیکن نون لیگ میں فیصلہ سازی کے کئی مراکز کا بن جانا اپوزیشن کے متفقہ ایجنڈے کی تشکیل کی راہ میں تاحال بڑی رکاوٹ ہے۔
تجزیہ نگاروں کے خیال میں حزب اختلاف کے پلڑے میں نون لیگ کا وزن حکومت پر دباؤ مزید بڑھا سکتا ہے۔ لیکن مڈ ٹرم انتخابات اور اس سے قبل انتخابی اصلاحات کے لیے جز وقتی تبدیلی کے فارمولے کی راہ میں بڑی رکاوٹ خود نون لیگ کا مشکوک کردار ہے جس کی نشاندہی پیپلز پارٹی کے لیڈر چوہدری اعتزاز احسن بار بار کر چکے ہیں اور ان کا یہ الزام ہے کہ نون لیگ حکومت کے ساتھ مل کر کھیل رہی ہے۔
حکومت خود بھی جانتی ہے کہ اپوزیشن کا ایک صفحہ پر اکٹھے ہونا نمبر گیم پلٹ سکتا ہے کیونکہ قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں اگر اپوزیشن کی جماعتیں اکٹھی ہوجائیں تو قاف لیگ کی مدد سے پی ٹی آئی کی دونوں حکومتوں کو گھر بھجوایا جا سکتا ہے۔ مرکز اور پنجاب کی طرح اسی طرح بلوچستان میں مولانا فضل الرحمن، بی این پی مینگل اور پیپلز پارٹی اے این پی کو ہمنوا بنا کر سیاسی معجزہ دکھانے کی پوزیشن میں ہیں۔ اسی لئے حکومت اپوزیشن رہنماؤں کو دبانے کے لئے قومی احتساب بیورو کا بے دریغ استعمال کیے جا رہی ہے۔
تجزیہ نگاروں کا بھی یہی خیال ہے کہ شہباز شریف نیب کے کیسز کی وجہ سے حکومت مخالف تحریک چلانے کے معاملے پر تذبذب کا شکار ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ شہباز شریف کا اپوزیشن کے ساتھ واضح ایجنڈے پر اکٹھا نہ ہونا سیاسی اور عوامی سطح پر خود شریفوں کی سیاست کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ نون لیگ کی جانب سے اس احتراز کی وجہ حالات کا تقاضا ہے یا اپنی شرائط پر وقت کا تعین۔۔۔ بہر حال کنفیوژن برقرار ہے۔ پہلے مریم نواز کی خاموشی قابل توجہ تھی تو اب شہباز شریف کی خاموشی بھی نون لیگ کے حلقوں میں زیر بحث رہتی ہے۔ بظاہر میاں نواز شریف لندن میں بیٹھ کر جماعت کی رہنمائی کر رہے ہیں تاہم مقامی حلقہ شہباز شریف کے پاس ہے اور دیگر سیاسی جماعتیں اپنے فیصلوں میں شہباز شریف کی عدم شمولیت یا عدم دلچسپی پر جُز بُز بھی ہیں اور پریشان بھی۔ ایسے میں سوالات تو اٹھتے ہیں کہ ن لیگ ایسا کیوں کر رہی ہے؟ لیگی حلقے کہتے یں کہ قصور شہباز شریف کا بھی نہیں۔ ایک طرف اُن کی صحت کے معاملات اور دوسری طرف قیادت کی کنفیوژن ہے۔ تاہم صورتحال جو بھی ہو اس وقت جماعت کے اندر واضح قیادت کا فقدان فیصلہ سازی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
