شہباز شریف نیب میں پیش نہ ہوئے،4 مئی کو پھر طلب

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے نیب کی جانب سے کرونا کے پیش نظر حفاظتی انتظامات کی یقین دہانی کے باوجود ایک مرتبہ پھر پیش ہونے سے معذرت کرلی ہے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے شہبازشریف کو منی لانڈرنگ کیس میں طلب کیا تھا تاہم وہ نیب میں پیش نہیں ہوئے جس پر انہوں نے کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن کو جواز بنایا ہے۔
ذرائع کے مطابق نیب کو شہبازشریف کا جواب موصول ہوگیا ہے جس پر نیب حکام نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ نیب ٹیم نے مشاورت کے بعد 4 مئی دن 12 بجے دوبارہ طلبی کا نوٹس بھیجا ہے لہٰذا ذاتی حیثیت میں تفتیشی ٹیم کے روبرو پیش ہوا جائے، نیب کو مطلوبہ معلومات بھی فراہم کی جائیں۔نیب ذرائع کا کہنا تھا کہ قانون سب کےلیے برابر ہے اور شہباز شریف اپنے خلاف تحقیقات میں قومی ادارے کے ساتھ تعاون کریں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل نیب کی طرف سے دو دفعہ شہباز شریف کو طلب کیا گیا ہے لیکن شہباز شریف پیشی سے معذرت کر چکے ہیں. بعد ازاں نیب کی طرف سے واضح کیا گیا تھا کہ اپوزیشن لیڈر تحقیقات میں نیب سے تعاون نہیں کر رہے عدم تعاون پر قانون اپنا راستہ بنائے گا. قومی احتساب بیورو ( نیب ) نے شہباز شریف کو وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف آمدن سے زائد اثاثے اور منی لانڈرنگ کیس میں نیب کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے، عدم تعاون پر قانونی راستہ اپنانے کا حق موجود ہے۔ اگر وہ 22 اپریل کو پیش نہ ہوئے تو قانون اپنا راستہ اپنائے گا.
واضح رہے کہ نیب نے شہباز شریف سے وارثت میں موصول ہونے والی جائیداد کی تفصیلات طلب کر رکھی ہیں۔ نیب کی جانب سے کہا گیا ہےکہ 1998 سے 2018 کے دوران آپ کی (شہبازشریف) فیملی کے اثاثے 23-367 ملین سے بڑھ کر-549 بلین ہوئے، آپ پبلک آفس ہولڈر ہونے کی حیثیت سے ان اثاثوں میں اضافے کی وضاحت دیں۔نیب نے سوال کیا ہےکہ شہبازشریف بیرون ملک اثاثوں اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات اور 2005 سے 2007کے دوران بارکلے بینک سے لیا جانے والے قرض کی تفصیلات فراہم کریں۔نیب کی جانب سے مزید پوچھا گیا ہےکہ فیملی کو دیے جانے والے اور موصول ہونے والے تمام تحائف کی تفصیلات فراہم کی جائیں، 2008 سے 2019کے دوران زرعی آمدنی کی تفصیلات فراہم کیں جائیں، بتایا جائے کہ ماڈل ٹاؤن 96 ایچ کتنے سال تک وزیراعلیٰ کیمپ آفس رہا۔
نیب نے منی لانڈرنگ کیس میں مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے کہا ہے کہ وہ اپنے غیر ملکی اثاثوں اور دیگر کاروبار کی مکمل تفصیلات نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے 17 اپریل کو پیش کریں۔
شہباز شریف کو بھیجے گئے سوالنامے میں نیب لاہور نے کہا کہ سوالنامے کے ساتھ انہیں متعدد کال اپ نوٹس بھی جاری کیے لیکن ان کے جوابات ’غیر اطمینان بخش، نامکمل اور مضحکہ خیز‘ تھے۔ مراسلے میں کہا گیا کہ اس سلسلے میں آپ (شہباز شریف) کو ایک مرتبہ پھر خاندانی تصفیہ کے نتیجے میں ملنے والے اثاثوں کی تفصیلات (قیمت، نوعیت، نام اور مقام) فراہم کرنے کی درخواست کی جاتی ہے۔ مراسلے کے مطابق کہ غیر ملکی اثاثوں کی بھی مکمل تفصیل فراہم کی جائے۔
بیورو نے شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز کو قصور میں تحفے میں ملنے والی اراضی کی تفصیلات تفصیلات طلب کرلی۔ علاوہ ازیں نیب نے شہباز شریف سے ان کے خاندان کے دیگر ممبروں کوملنے یا دینے والے تحائف کی بھی تفصیلات طلب کیں۔ نیب نے شہباز شریف سے زرعی آمدنی کی تفصیلات پیش کرنے کو بھی کہا ہے۔نیب نے شہباز شریف سے منی لانڈرنگ کیس میں 2 ملزمان علی احمد خان اور نثار احمد گل کے ساتھ ’تعلقات کی نوعیت‘ کی بھی وضاحت طلب کرلی۔علاوہ ازیں نیب نے 2008 اور 2019 کے دوران ٹیکس ادا کیے جانے سے متعلق ساری تفصیلات طلب کرلیں۔
اس کے علاوہ شہباز شریف سے کہا گیا کہ وہ اپنی کاروباری آمدنی کی مکمل تفصیلات فراہم کریں جیسا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سامنے دعوی کیا گیا اور اس مدت کے دوران ہونے والی سرمایہ کاری اور اس کے حجم اور اخراجات کی تفصیلات جب ان کی ماڈل ٹاؤن رہائش گاہ کو وزیر اعلی ہاؤس قرار دیا گیا۔ نیب نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما سے ’ان کے کنبہ کے ممبروں کے ذاتی بینک کھاتوں میں بڑے پیمانے پر نقد رقم جمع کرنے کے وسائل اور ان کے نام پر رکھے ہوئے کاروبار میں ’نامعلوم نقد رقم جمع‘ کے بارے میں دریافت کیا۔علاوہ ازیں شہباز شریف سے مکان نمبر 41-S، ڈی ایچ اے لاہور، اور کرایہ کی مدت کے کرایے کے معاہدے کی تفصیلات بھی طلب کررکھی ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ سے وضاحت طلب کی گئی ہے کہ 1998-2018 کے دوران ان کے اور اس کے کنبہ کے افراد کے اثاثے 2 کروڑ 37 لاکھ روپے سے بڑھ کر 3 ارب 50 کروڑ تک کیسے پہنچ گئے؟
