شہباز شریف کے ہاتھ سے وزارت عظمیٰ کیسے نکلی؟

مسلم لیگ نون کے صدر اور سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے انکشاف کیا ہے کہ عام انتخابات سن 2018 سے قبل مقتدر حلقوں کے ساتھ یہ طے پایا جا چکا تھا کہ آئندہ وزیراعظم وہ خود یعنی شہبازشریف ہونگے حتی کہ کابینہ اراکین کے نام بھی فائنل کر لیے گئے تھے تاہم بعد ازاں میاں نواز شریف کے ووٹ کو عزت دو کے بیانیہ کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کو تحفظات لاحق ہوئے یوں مسلم لیگ نون کو اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا۔
میاں شہباز شریف نے ایڈیٹر روزنامہ جنگ سہیل وڑائچ کو دیئے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں یہ انکشاف کیا ہے کہ 2018 کے عام انتخابات سے قبل یہ کنفرم تھا کہ آئندہ اقتدار بھی مسلم لیگ نون کو ہی ملے گا تاہم صرف ایک مہینہ قبل حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ مقتدر حلقوں نے نون لیگ کو پنجاب اور مرکز میں اقتدار سے بے دخل کر کے تحریک انصاف کو حکومت دینے کا فیصلہ کرلیا۔ اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے میاں شہباز شریف نے بتایا کہ مقتدر حلقوں کو مجھ سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ تاہم میاں نواز شریف اور مریم کی جانب سے ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ آگے بڑھانے کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ سے دوریاں پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں ہمیں اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا۔
میاں شہباز شریف نے انٹرویو کے دوران یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں اور انہیں سو فیصد یقین ہے کہ آئندہ جب بھی الیکشن ہوئے مسلم لیگ نون بھاری مارجن سے جیت کر مرکز سمیت چاروں صوبوں میں حکومت بنائے گی۔ شہباز شریف نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ نون اور اسٹیبلشمنٹ میں تعلقات پہلے سے بہت اچھے ہو چکے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جنرل باجوہ کو توسیع دینے کے حوالے سے نون لیگ کا فیصلہ بہت اچھا تھا اس سے ن لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین بداعتمادی میں واضح کمی آئی ہے۔ شہباز شریف نے واضح انداز میں کہا کہ میں ایمان کی حد تک اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ اگر ملک کو چلانا ہے تو فوج اور سیاستدانوں کو مل کر کام کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ میں فوج کے ساتھ محاذ آرائی کا سخت مخالف اور فوج کے ساتھ بنا کر رکھنے کا قائل ہوں۔
شہباز شریف کا دعویٰ ہے کہ شریف فیملی میں اقتدار کے حوالے سے کوئی کشمکش نہیں جس وقت میاں نواز شریف کو پانامہ سکینڈل میں نااہل کیا گیا تو اس وقت انہوں نے مجھ سے وزارت عظمیٰ سنبھالنے کو کہا تھا تاہم میں نے بطور وزیراعلی اپنی مدت پوری کرنے پر اصرار کیا جس کے نتیجے میں شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم بنایا گیا۔ شہباز شریف نے دعویٰ کیا کہ 2018 کے عام انتخابات کے نتیجے میں اگر مسلم لیگ نون جیت جاتی تو میاں نواز شریف پہلے ہی انہیں وزیر اعظم نامزد کر چکے تھے۔
شہباز شریف کے مطابق انھوں نے نواز شریف سے درخواست کی ہے کہ مسلم لیگ نون کی مستقبل کی قیادت کے حوالے سے جلد از جلد کوئی فیصلہ کریں۔ کہتے ہیں کہ میں نے واضح طور پر اپنے بڑے بھائی سے کہا ہے کہ وہ بطور سربراہ فیصلہ کریں کہ ہماری جماعت میں مریم، حمزہ اور سلیمان کا کیا کردار ہوگا۔ شہباز شریف کے بقول اس پر نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ پاکستان واپسی پر یہ فیصلہ کردیں گے کہ آئندہ مسلم لیگ نون کی قیادت کون کرے گا اور دونوں کی اولادوں کا پارٹی میں کیا کردار ہوگا۔
پنجاب میں حکومت سازی کے حوالے سے مسلم لیگ نون اور چوہدری برادران کے مابین روابط سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ اس وقت شریف فیملی اور چوہدری برادران کے مابین مثالی تعلقات ہیں۔ ماضی کی تمام تلخیاں ختم ہوچکی ہیں۔ تاہم بزدار حکومت کو ہٹانے کے لئے نون لیگ اور مسلم لیگ قاف کوئی قدم اٹھانے کا ارادہ نہیں رکھتی۔
کئی مہینے اپنے بڑے بھائی کی تیمارداری کے لیے لندن میں قیام پذیر رہنے کے بعد شہباز شریف نے اچانک اپنی وطن واپسی کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان واپس آنا ان کا سیاسی فیصلہ نہیں تھا بلکہ وہ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اہل پاکستان کو تنہا چھوڑنے کے حق میں نہیں تھے، اس لیے بڑے بھائی نواز شریف اور والدہ سے اجازت لے کر پہلی فلائٹ پکڑی اور پاکستان پہنچ گئے۔
