شہباز نے قومی حکومت کے قیام کا مطالبہ کیوں کیا ہے؟


مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی جانب سے فوری طور پر ایک قومی حکومت بنائے جانے کے مطالبے نے نئی سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ لیگی حلقوں کے مطابق ایسا لگتا ہے جیسے ملک میں جلد کوئی سیاسی تبدیلی آنے والی ہے جبکہ پی ٹی آئی والے کہتے ہیں کہ دراصل شہباز سریف نے اسٹیبلشمنٹ کی منت کی ہے کہ ایک قومی حکومت بنا کر انہیں بھی اقتدار میں حصہ دار بنایا جائے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شہباز کے بیان نے اس عمومی تاثر کو مزید تقویت دی ہے کہ مسلم لیگ نواز میں مفاہمتی اور مزاحمتی بیانیے کی باہمی کشمکش تیز ہو چکی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے لیے زیادہ حیران کن ردعمل مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا ہے جنہوں نے پارٹی صدر کے بیان کو ان کی ‘ذاتی’ رائے اور ‘پاسنگ ریمارکس’ قرار دے دیا ہے۔ یاد رہے ک نواز شریف کا مسلسل یہ موقف رہا ہے کہ موجودہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے لہٰذا ملک میں نئے الیکشن کروائے جائیں تاکہ عوام کے حقیقی نمائندے اقتدار میں آ سکیں۔ دوسری جانب شہباز شریف کی جانب سے قومی حکومت کے قیام کا مطالبہ کرنے کی ٹائمنگ کے بارے سوال پر قومی اسمبلی میں دوسری بڑی اپوزیشن پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ یہ بیان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا اب کوئی وجود نہیں ہے اور اسی لیے اسکی قیادت ذہنی طور پر شکست کھانے کے بعد اب قومی حکومت کے قیام کا مطالبہ کر رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کا خیال ہے کہ یہ بیان مسلم لیگ (ن) کے صدر کی خود کو سیاسی طور پر زندہ رکھنے کی کوشش ہے۔
تحریک انصاف نے بھی شہباز کے بیان پر تنقید کی ہے اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ شہباز شریف کی قومی حکومت کے قیام کی تجویز خود کو نیب کے شکنجے بچانے کی آخری کوشش ہے۔ فواد کے مطابق شہباز شریف جانتے ہیں کہ اگر ان کے خلاف دائر کردہ نیب کیسز کی ریگولر سماعت شروع ہو جائے تو ان کو سزا سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ لہذا اب انھوں نے خود کو بچانے کے لئے قومی حکومت کے قیام کی تجویز دے دی ہے جبکہ قوم پہلے ہی پانچ سال کے لیے عمران خان کو وزیراعظم منتخب کر چکی ہے۔
تایم بظاہر سیاسی نقصان سے بچنے کی کوشش کے طور پر مسلم لیگ (ن) کی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے شہباز شریف کے مطالبے پر تبصرہ کرتے ہوئے ‘واضح’ کیا کہ پارٹی صدر نے کراچی میں صحافیوں سے ملاقات کے دوران اپنی ‘ذاتی’ رائے کی بنیاد پر ‘پاسنگ ریمارکس’ دیے۔ انہوں نے کہا کہ ‘قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے کہنے کا یہ مطلب تھا کہ اگر عوام نے اگلے انتخابات کے بعد (ن) لیگ کو ایک بار پھر حکمرانی کا موقع دیا تو ان کی ذاتی رائے یہ ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کو عمران خان کی حکومت کی جانب سے اپنے تباہ کن دور میں کھڑے کیے گئے بڑے بڑے تنازعات کے حل کے لیے کردار ادا کرنے کی دعوت دینے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘کسی میڈیا ادارے کی جانب سے اس سے ہٹ کر کوئی خبر پیش کرنا مسلم لیگ (ن) کے صدر کے بیان کی نفی اور غلط بیانی ہوگی’۔
یاد رہے کہ شہباز شریف نے اپنے تین روزہ دورہ کراچی کے آخری روز صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کہا تھا کہ خارجہ پالیسی سے لے کر معیشت اور سیاسی غیر یقینی کی صورتحال سے لے کر حقیقی جمہوری قوتوں کے لیے تیزی سے کم ہوتی جگہ تک پھیلے قومی مسائل کا حل متفقہ قومی حکومت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘حقیقت میں اگر میں آپ کو بتاؤں تو بعض دفعہ جب میں بڑے بڑے مسائل اور چیلنجز کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ انہیں حل کرنا کسی ایک جماعت کے بس کی بات نہیں ہے، اس کے لیے مشترکہ دانش اور کوششوں کی ضرورت ہے، اس لیے میرے خیال میں ان چیلنجز کو حل کرنے کے لیے قومی حکومت قائم ہونی چاہیے’۔
جب مسلم لیگ (ن) کے ایک عہدیدار سے پوچھا گیا کہ پارتی صدر کی میڈیا سے گفتگو کے دوران کسی رائے کو ‘ذاتی رائے’ کیسے سمجھا جاسکتا ہے تو انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ‘چونکہ قومی حکومت کی تشکیل کے معاملے پر پارٹی کے کسی فورم پر غور نہیں کیا گیا، اور نواز شریف کا اصل مطالبہ ملک میں نئے انتخابات کا ہے لہٰذا شہباز شریف کے بیان کو پارٹی پوزیشن نہیں سمجھا جاسکتا’۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شہباز کے بیان سے پارٹی میں بیانیے کی جنگ میں تیزی آنے کا تاثر مضبوط ہوا ہے جو آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی نظر آیا جب پارٹی کی انتخابی مہم مریم نے چلائی جبکہ شہباز شریف عوامی اجتماعات سے دور رہے۔
دوسری جانب تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے شہباز شریف کے بیان پر سخت تنقید کر رہے ہیں اور انکا کہنا ہے کہ انہوں نے اسیبلشمینٹ سے قومی حکومت کے ذریعے اقتدار تک رسائی کی بھیک مانگی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ قومی حکومت عام طور سے کسی انتہائی بحران کے دوران مختصر مدت کے لیے قائم ہوتی ہے لیکن اگر ملک میں جمہوری نظام کام کررہا ہو منتخب حکومت موجود ہو تو قومی حکومت نہیں بنا کرتی۔ ناقدین کہتے ہیں کہ شہباز شریف اگر واضح طور پر کہہ دیتے کہ وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان پارلیمنٹ میں ان کے ساتھ مشاورت سے کوئی ایسی حکومت قائم کرلیں جس میں وہ بھی شامل ہوں تو ذیادہ بہتر ہوتا۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ شہباز شریف کسی بھی طرح موجودہ سیٹ اپ سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ اگر فوری طور پر انہیں اقتدار نہیں بھی ملتا تو کسی نئے سیٹ اپ کا بہانہ بنا کر موجودہ حکومت کو کسی بھی طرح گھر بھیجا جائے۔ یعنی شہباز شریف بھی اس معاملے میں عمران خان کے خلاف اسی امپائر کی انگلی اٹھنے کا انتظار کررہے ہیں، جس کے انتظار میں عمران خان نے 2014 میں ملکی تاریخ کا طویل ترین دھرنا دیا تھا۔ امپائر کی انگلی نواز شریف کو گھر تو نہیں بھجوا سکی کیوں کہ پارلیمنٹ کی سب پارٹیاں ان کے پیچھے دیوار بن گئی تھیں لیکن اس انگلی کے اشارے پر ’تادم مرگ‘ دھرنے کا دعویٰ کرنے والے عمران خان ضرور بوریا بستر لپیٹنے پر آمادہ ہوگئے تھے۔ اب شہباز شریف اسی امپائر کو قومی حکومت کے نام سے ایک نئی اصطلاح یا بہانہ فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ کسی طرح اپنے خاندان کے خلاف جاری انتقامی ہتھکنڈوں سے نجات مل سکے۔ تاہم نئے الیکشن کی بجائے قومی حکومت کے قیام کا مطالبہ کرکے شہباز شریف نے نہ صرف اپنی بلکہ پارٹی کی ساکھ بھی داؤ پر لگا دی ہے۔

Back to top button