شہباز کی رہائی اور مریم کے باہر جانے کی افواہیں

باخبر حکومتی ذرائع یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کچھ ہفتوں میں جیل سے باہر آنے والے ہیں جس کے بعد مریم نواز کو بھی نواز شریف کی طرح علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت مل جائے گی۔ لیگی ذرائع اس افواہ کی سختی سے تردید کر رہے ہیں لیکن حکومتی ذرائع کا اصرار ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کا مزاحمتی بیانیہ چونکہ مطلوبی نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اس لیے اب اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ شہباز شریف چند ہفتوں میں جیل سے باہر آ کر اپنا مفاہمتی بیانیہ دوبارہ سے آگے بڑھانا شروع کر دیں اس سے پہلے کہ پیپلزپارٹی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر اس کا پتہ کاٹ دے۔ حکومتی ذرائع یاد دلواتے ہیں کہ مریم نواز اپنی بیماری کے حوالے سے خود میڈیا کو بتا چکی ہیں جس کے بعد حالیہ دنوں لیگی رہنما رانا ثناءاللہ نے بھی اس امکان کا اظہار کیا تھا کہ مریم علاج کی خاطر بیرون ملک جا سکتی ہیں۔ تاہم مریم نواز کے قریبی ذرائع ان افواہوں کی سختی سے تردید کر رہے ہیں اور یاد دلاتے ہیں کہ مریم حالیہ دنوں بڑے واضح انداز میں کہہ چکی ہیں کہ اگر حکومت ان کی منت بھی کرے گی تو وہ بیرون ملک نہیں جائیں گی۔
دوسری جانب پاکستان کے بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے میں واضح نظر آرہا ہے کہ یوسف رضا گیلانی کی سینیٹ میں بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کے ساتھ ہی نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان جاری رومانس اپنی اختتامی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ کپتان حکومت گرانے کے لئے اسمبلیوں سے استعفوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے دو ٹوک انکار کے نتیجے میں پی ڈی ایم اتحاد میں پیدا ہونے والے اختلافات کے بعد ن لیگ اور جے یو آئی ف کی جارحانہ حکمت عملی نے اپوزیشن اتحاد کو گہرے بحران کا شکار کردیا ہے۔ دونوں جماعتوں کی جانب سے سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر تسلیم کرنے سے انکار کے بعد پیپلزپارٹی نے بھی قومی اسمبلی میں شہباز شریف کو قائد حزبِ اختلاف ماننے سے انکار کردیا ہے جس کے بعد اپوزیشن جماعتوں کا یہ اتحاد خاتمے کی جانب گامزن دکھائی دیتا ہے۔
واضح رہے کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ چونکہ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ہے اس لیے وہاں ن لیگ کا اپوزیشن لیڈر بنایا گیا تھا اور 3 مارچ 2021 کو ہونے والے سینیٹ انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی چونکہ سینیٹ میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت بن کر ابھری تھی اس لئے قائد حزب اختلاف کی نشست ان کا حق تھا جسے انہوں نے حاصل کیا۔ لہذا پیپلز پارٹی کا موقف یے کہ مسلم لیگ ن جمعیت علماء اسلام ف یا اپوزیشن کی کسی دوسری جماعت کو یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر ماننے سے انکار نہیں کرنا چاہئے۔ پیپلز پارٹی کہتی ہے کہ اگر اپوزیشن اس ضد پر قائم رہے گی کہ وہ یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں اپوزیشن کا متفق رہنما نہیں مانتی تو وہ بھی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا عہدہ رکھنے والے شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر تسلیم کرنے سے انکار کر دیں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پی ڈی ایم کے بگڑتے ہوئے حالات سے لگتا ہے کہ لڑائی کے بعد اب پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں حلالہ کرنا بھی ممکن نہیں رہا ہے۔ خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) نے سینیٹ میں اتحادیوں کے ساتھ مل کر اپنا قائد حزب اختلاف لانے کا فیصلہ کرتے ہوئے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں سے مشاورت شروع کردی ہے۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کا اپوزیشن لیڈر پی ڈی ایم کے اصولوں کے خلاف بنا، اس لیے پی پی پی، اے این پی اور بلوچستان عوامی پارٹی کے بنائے گئے اپوزیشن لیڈر کو مسلم لیگ (ن) نہیں مانتی۔ مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کی 8 جماعتوں کو آئندہ کے لائحہ عمل میں شامل کیا جائے گا، اور سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) 27 اراکین کی حمایت یافتہ اپوزیشن لیڈر کا اعلان کرے گی۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے سینیٹ میں فعال اپوزیشن کے نام پر الگ دھڑا بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور سینیٹ میں ہم خیال جماعتیں مل کر اپوزیشن کریں گی۔ اپوزیشن کے اس اتحاد میں پی پی پی اور اے این پی کو شامل نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما و سابق وفاقی وزیر نوید قمر نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر (ن) لیگ اور جے یو آئی سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کو نہ ماننے کا فیصلہ کریں گی تو ہم بھی قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کو نہ ماننے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے تمام اہم فیصلے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے مکمل اتفاق رائے سے ہونے چاہیئں، اگر مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی نے تمام فیصلے خود کرنے ہیں تو اپوزیشن اتحاد کا کوئی فائدہ نہیں۔ نوید قمر نے کہا کہ (ن) لیگ اور جے یو آئی لانگ مارچ سے استعفوں کو نتھی کر کے پہلے ہی پی ڈی ایم کو بڑا دھچکا پہنچا چکے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں اس حوالے سے شروع ہونے والی کھینچا تانی کے بعد نہ تو سینٹ میں قائد حزب اختلاف مقرر ہونے والے یوسف رضا گیلانی نے عزت کمائی ہے اور نہ ہی اپوزیشن راہنماؤں کا بھرم باقی رہا ہے۔ سینیٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں قائد حزبِ اختلاف کی نشست کے لئے اس طرح آپس میں گتھم گتھا نظر آرہی ہے۔ واضح رہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو ایک پریس کانفرنس میں کہہ چکے ہیں کہ پیپلز پارٹی کو نون لیگ کی جانب سے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے لئے نامزد اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ پر یہ اعتراض تھا کہ وہ ماضی میں بےنظیر بھٹو شہید کے قتل میں ملوث اعلی پولیس افسران کے وکیل رہ چکے ہیں۔ بلاول بھٹو نے واشگاف انداز میں کہا کہ چونکہ پیپلزپارٹی سینیٹ میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ہے اس لئے قائد حزب اختلاف کی نشست ہمارا حق ہے لہذا عددی اکثریت ثابت کر کے ہم نے یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر مقرر کروایا ہے جس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ اگر دونوں پارٹیوں کی قیادت نے معاملہ فہمی سے کام نہ لیا تو بات مذید بگڑ سکتی ہے اور اپوزیشن اتحاد کی تمام جدوجہد پر پانی پھرنے کا امکان ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال میں نون لیگ اپنے مہروں میں ردو بدل کرے کیوں کہ وہ کھیل سے باہر رہنے کی متحمل ہرگز نہیں ہو سکتی۔ اگر شہباز شریف ضمانت پر رہا ہو کر باہر آ جاتے ہیں تو اس صورت میں وہ پارلیمنٹ کے اندر رہ کر اپنا کردار ادا کرنے کے خواہاں ہوں گے کیوں کہ وہ روز اول سے ہی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکراؤ کی سیاست کے مخالف رہے ہیں۔ نون لیگ کا ایک بڑا دھڑا جو پارلیمنٹ چھوڑنے کا مخالف ہے، وہ بھی شہباز شریف کا ساتھ دینے کا خواہش مند ہوگا۔ ماضی میں شہباز شریف اپنے بڑے بھائی کی مرضی اور منشا کے مطابق پارٹی کو چلاتے آئے ہیں اور اب بھی وہ ایسا ہی کرنا چاہیں گے۔
لیکن پیپلز پارٹی کی موجودہ سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے نون لیگ کے پاس آپشن بہت کم رہ گئے ہیں۔ لہذا یہ بھی امکان ہے کہ اب نواز لیگ شہباز شریف کی مفاہمت پر مبنی پالیسی کو اپنا کر مستقبل کی سیاست میں قدم جمانے کی کوشش کرے گی۔ لیگی ذرائع کا۔کہنا یے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ آنے والوں دنوں میں مریم نواز بیرون ملک چلی جائیں اور پارٹی کی کمان اپنے چچا اور حمزہ شہباز کے سپرد کر دیں خصوصاً جب ان کا مزاحمتی بیانیہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
دوسری طرف پیپلز پارٹی کی قیادت ہر حال میں پنجاب میں اپنے قدم جمانا چاہتی ہے۔ بلاول بھٹو نے پچھلے دنوں حمزہ شہباز سے بزدار حکومت کی تبدیلی کے آپشن پر بات کی تھی۔ بعد میں وہ چوہدری برادران سے بھی ملے تھے۔ مگر نواز شریف نے پنجاب حکومت کی تبدیلی کی کوششوں کی حمایت کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ دراصل وہ آصف زرداری کی چال کو بھانپ چکے تھے۔ ایسا صاف دکھائی دے رہا تھا۔ کہ پیپلز پارٹی چوہدرری پرویز الہی کی مدد سے پنجاب کی حد تک نون لیگ کے قلعے میں شگاف ڈالنا چاہتی ہے۔ مبصرین کے مطابق عثمان بزدار کی تخت پنجاب پر موجودگی سے نون لیگ کے پارٹی ٹکٹ کا ریٹ دنوں کے حساب سے بڑھ رہا ہے۔ نون لیگ کے ایک راہنما کے مطابق بزدار نون لیگ کی انشورنس پالیسی ہیں۔ اسی لئے شریف برادران عثمان بزدار کی تبدیلی نہیں چاہتے۔ اس کے علاوہ حمزہ شہباز بھی اس وقت جب کہ پنجاب کی صورت حال بہت خراب ہو چکی ہے۔ اقتدار سنبھالنے سے گریزاں ہیں۔ شریف برادارن کو بخوبی علم ہے کہ ان کے لئے موجودہ حالات میں پرفارم کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہوگا۔ جہاں تک پی ڈی ایم کا تعلق ہے۔ 16 مارچ کے سربراہی اجلاس کے بعد اب وہ بیک فٹ پر جا چکی ہے۔ بلندی سے پستی کے سفر کے بعد دوبارہ اس کا اٹھنا اور اپنے اہداف کی طرف بڑھنا ایک انہونی سے کم نہیں ہوگا۔ پاکستان کے عوام بھی حیران اور پریشان ہیں۔ کہ ایسا کیا غلط ہوا کہ پی ڈی ایم ریت کے محل کی طرح دھڑام سے نیچے آگری ہے۔ اصلی جمہوری حکومت کے قیام کا سفر جو بہت نزدیک دکھائی دے رہا تھا۔ اب وہ ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ اپوزیشن کے حلقے پی ڈی ایم اتحاد کے برقرار رہنے کی پیشن گوئی تو کر رہے ہیں مگر استعفوں کا ہتھیار استعمال کرنے کے معاملے پر تمام پارٹیوں کا یک زبان ہونا بڑا مشکل دکھائی دیتا ہے۔اب جب کہ حمزہ شہباز جیل سے باہر آ چکے ہیں اور شہباز شریف کی رہائی بھی دنوں کی بات لگتی ہے، اس بات کا امکان ہے کہ نواز لیگ کا مفاہمتی دھڑا پی ڈی ایم میں شامل رہ کر ایک نئی حکمت عملی کے ساتھ ملکی سیاست میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button