شہباز گل کو گرفتاری سے بچانے کے لئے بغاوت کا مقدمہ درج

لاہور پولیس نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل پر بغاوت کا مقدمہ کیا درج کیا، ہر طرف شور مچ گیا کہ شاید پرویز الٰہی نے اپنے کپتان کے خلاف بغاوت کر دی ہے ورنہ ان کی موجودگی میں اس کیس کا اندراج کیسے ممکن تھا۔ لیکن جب تحقیق کی گئی تو کچھ اور ہی کہانی پتہ چلی اور بتایا گیا کہ اس کیس کو درج کرنے کا مقصد بنیادی طور پر شہباز گل کو گرفتاری سے بچانا ہے۔ یہ مقدمہ لاہور کے تھانہ مانگا منڈی میں ایک شہری کی درخواست پر درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق ایک شہری اشفاق نے درخواست دی تھی کہ انہوں نے 28 نومبر کو جب اپنا موبائل فون آن کیا تو انہیں شہباز گل راولپنڈی میں ایک جلسے سے خطاب کرتے نظر آئے۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق ’اس تقریر میں شہباز گل کے الفاظ تھے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ باجوہ صاحب کے احکامات کے بغیر کوئی مجھے اور اعظم سواتی کو ننگا کرے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کے احکامات کے بغیر ایک میجر جنرل رینک کا بندہ کچھ ایسا کرے۔‘ اس مقدمے کی ایف آئی آر میں مزید لکھا ہے کہ ان الفاظ سے شہباز گل نے عوام کو فوج کے چیف آف آرمی سٹاف کے خلاف بہکایا۔ اور فوج کے دیگر افسران کے خلاف بھی بہکایا۔ اس بیان سے نفرت اور دشمنی پھیلائی گئی ہے جبکہ ملزم کا بیان آرمی نیوی اور ایئر فورس کو بغاوت پر اکسانے کے مترادف ہے۔

درخواست پر کاروائی کرتے ہوئے لاہور پولیس نے ایف آئی آر میں لکھا ہے کہ درخواست کو بغور پڑھنے کے بعد اس کے متن سے اس کیس میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 131 ، 153A،505 اور 500 کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہ دفعات بغاوت پر اکسانے، عوام میں منافرت پھیلانے اور دھمکیاں دینے سے متعلق ہیں۔ خیال رہے کہ پنجاب میں اس وقت تحریک انصاف کی حکومت ہے اور ان کی اتحادی قاف لیگ کے چوہدری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ ہیں۔ اس مقدمے پر جب لاہور پولیس سے رابطہ کیا گیا تو ترجمان کا کہنا تھا ’ایف آئی آر ہی پولیس کا موقف ہے۔

یاد رہے کہ اس پہلے شہباز گل کو اسی سے ملتے جلتے ایک مقدمے میں اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا تھا جس میں وہ ضمانت پر ہیں۔ انہوں نے دوران حراست تشدد کا الزام عائد کیا تھا۔ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت ہونے کے باوجود چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وزیر آباد میں خود پر حملے ہونے کی ’اپنی مرضی‘ کی ایف آئی آر درج نہ ہونے کا شکوہ بھی کیا تھا۔ جبکہ اس ایف آئی آر کے اندراج پر ابھی تک تحریک انصاف کا باضابطہ موقف نہیں آیا۔ تاہم شہباز گل کے معاملے میں کہانی کچھ اور پتہ چلی ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ شہباز گل سینیٹر اعظم سواتی کی گرفتاری سے سخت پریشان ہیں کیونکہ پنڈی کی جس تقریر پر انہیں گرفتار کیا گیا ہے ویسی ہی ایک تقریر گل نے بھی کی تھی جس کے بعد انکے خلاف بلوچستان، سندھ اور اسلام آباد میں مقدمات درج کئے جا چکے ہیں۔ شہباز نے قانونی مشیروں سے مشورہ کیا تھا کہ گرفتاری سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ چنانچہ انہیں یہ نسخہ دیا گیا کہ وہ لاہور پولیس سے اپنے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کروائیں اور اس کے بعد لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت کروا لیں۔ جب ان کی بغاوت کیس میں لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت ہو جائے گی تو اسکی بنیاد پر وہ آسانی سے بلوچستان، سندھ اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھی ضمانت حاصل کر سکیں گے چونکہ سارے صوبوں میں ان پر لگنے والا الزام ایک ہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شہباز گل لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت کب حاصل کرتے ہیں؟

Back to top button