شیریں مزاری نے حکومت کے لیے شرمندگی کا ٹوکرا کیسے تیار کیا؟

حکومت کا یہ موقف سچ ثابت کرنے کیلئے کہ اپوزیشن وزیراعظم عمران خان کے خلاف ’بیرونی طاقتوں‘ کے ساتھ مل کر سازش کر رہی ہے، وفاقی وزیر شیریں مزاری نے سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کا لکھا ہوا ایک پرانا خط ٹویٹ کر کے پھنس گئیں کیونکہ یہ لیٹر جھوٹا تھا، لہذا پی ٹی آئی حکومت کے لیے شرمندگی کا ٹوکرا ثابت ہوا۔
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے خط ٹویٹ کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ یہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے امریکی سفارت کار پیٹر گلبرائتھ کو 1990 میں لکھا تھا۔ لیٹر کے مطابق بے نظیر بھٹو نے پاکستان کے جوہری پروگرام کو رکوانے کے لیے امریکہ کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ پاکستان کی امداد روک دیں۔ یہی نہیں بلکہ شیریں مزاری نے اس لیٹر کو بنیاد بنا کر حزب اختلاف کی جماعتوں پر بھی الزام عائد کر دیا کہ وہ بھی پاکستان کے خلاف بیرونی سازشوں کا حصہ ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے خلاف بیرونی قوتوںٗ کے ساتھ مل کر عدم اعتماد کا شاطرانہ کھیل کھیل رہی ہیں۔
اپنی ٹوئیٹ میں جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شیریں مزاری نے موقف اختیار کیا کہ ایک بار پھر پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور سازش کے لیے ہمشہ تیار رہنے والے مولانا فضل الرحمان اکٹھے ہوگئے ہیں اور بیرونی طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں تاکہ اقتدار حاصل کر سکیں۔
تاہم شیریں مزازی کو اپنے اس بے بنیاد ٹوئیٹ کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں بتایا گیا کہ جس خط کو بنیاد بنا کر وہ اپوزیشن پر سنگین الزامات عائد کر رہی ہیں وہ دراصل جعلی ہے۔ ڈان گروپ سے وابستہ معروف صحافی ضرار کھوڑو نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ ان کے سابقہ کولیگ اسامہ بن جاوید نے پیٹر گلبرائتھ سے اس خط سے متعلق پوچھا تھا جس پر انہوں نے خط کے جعلی ہونے کی تصدیق کی تھی۔ اس کے بعد اسامہ بن جاوید کی جانب سے بھی ایک ٹویٹ میں اس خط کے جعلی ہونے کی تصدیق کی گئی۔ انہوں نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حیران کن طور پر یہ خط تین دہائیوں بعد بھی گردش کر رہا ہے اور وفاقی وزیر شیریں مزاری کو بھی علم نہیں کہ وہ ایک جعلی خط آگے چلا رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے بعد وفاقی وزیر کو پتہ چلا کہ ان کا شیئر کیا گیا لیٹر جھوٹ پر مبنی ہے تو انہیں اپنا ٹوئیٹ ڈیلیٹ کرنا پڑا۔ شیریں مزاری نے بے نظیر بھٹو پر لگائے گئے الزامات سے متعلق ٹوئیٹ ڈیلیٹ کرنے کے بعد ایک اور ٹوئیٹ کیا جس میں انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف بھی کر لیا۔ واضح رہے کہ اسامہ بن جاوید نے 2011 میں پیٹر گلبرائتھ سے ایک ای میل کے ذریعے اس خط کی حقیقت کے حوالے سے دریافت کیا تھا جس کا پیٹر گلبرائتھ نے تفصیل سے جواب دیا تھا۔ پیٹر گلبرائتھ نے خط میں موجود غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں ان کے نام کی سپیلنگ غلط لکھے گئی ہے، ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کی ان کے ساتھ گہری دوستی تھی اور وہ ان کے خاندانی نام کو کبھی غلط نہیں لکھ سکتیں۔ گلبرائتھ نے کہا تھا کہ میں حیران ہوں کہ پاکستان میں اب بھی ایسے صحافی اور ایڈیٹرز موجود ہیں جو ایسی افواہوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تاہم پیٹر کو یہ نہیں معلوم تھا کہ موجودہ کپتان حکومت میں ایسے وفاقی وزراء بھی موجود ہیں جو جھوٹے خط کی بنیاد پر اپنا جھوٹا موقف سچ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
