ٹویٹر پرشیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف مذمتی بیانات

تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کی گرفتاری حکومت، اپوزیشن ، صحافیوں اور تجریہ نگاروں کی جانب سے شدید مذمت کی گئی ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک پیغام میں شیریں مزاری کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہچیزیں تبدیل نہیں ہوئیں،شیریں مزاری میری پڑوسی اور اچھی دوست ہیں، ان کی گرفتاری شرم ناک اور بدترین سیاسی انتقام ہے۔ انکا کہنا تھا جو لوگ خود ماضی میں ان حالات سے گزرے ہوں اوراس کے خلاف بات کی ہو وہ کیسے یہ کریں گے اپنی آنکھیں بند کریں گے۔

پی پی رہنمانفیسہ شاہ نے ٹوئٹ کیا کہ شیریں مزاری ‘کی گرفتاری غلط ہے’ اور ان پر کوئی الزام نہیں تھا۔

پی ٹی آئی کی خاتون رہنما کی گرفتاری پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی سینئر رہنما شیریں مزاری کی گرفتاری اور بدتمیزی کی مذمت کرتے ہیں اور یہ واقعہ سیاسی انتقام کا شاخسانہ ہے۔

سینئر صحافی مظر عباس نے کہا کہ شیریں مزاری موجودہ حکومت کے تحت پہلی سیاسی قیدی ہیں، سیاسی رہنما اور حکومتیں ماضی سے سبق سیکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں، میں ان کے نکتہ نظر سے اتفاق نہیں کرتا لیکن ان کی گرفتاری اور ان کے ساتھ ہونے والے سلوک کی شدید مذمت کرتا ہوں۔

سینئر صحافی اور تجزیہ نگارعاصمہ شیرازی نے کہا کہ یہ عمل انتہائی قابل مذمت ہے اور ہراسانی ہے۔

اینکر پریسن اور سینئر صحافی حامد میر کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت کو اپنی پوزیشن واضح کردینی چاہیے۔

اینکر ابصا کومل کا کہنا تھا کہ شیریں مزاری کو 50 سال پرانے جائیداد کے مبہم مقدمے میں گرفتار کیا گیا جو قابل مذمت ہے۔

سینئر کالم نگار اورصحافی سلیم صافی نے بھی شیریں مزاری کی گرفتاری پر تنقید کی اور کہا کہ ‘قانون سے بالاتر کوئی نہیں لیکن کسی کے خلاف انتقامی کاروائی ہونی چاہئے اور نہ کسی کی چاردیواری کا تحفظ پامال ہونا چاہئے، شیریں مزاری سے لاکھ نظریاتی اختلاف سہی لیکن ان کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔

ایک اور صحافی احمد قریشی کا کہنا تھا کہ شیریں مزاری نے ‘میرے اوپر الزامات لگانے کی کوشش کی اور مجھے سابق وزیراعظم عمران خان کو ہٹانے کی سازش سے جوڑتے ہوئے اپنی سیاسی جماعت کے اندر انتہاپسندوں کو مشتعل کیا اور میرے خلاف اشتعال دیا، امید ہے شیریں مزاری کے ساتھ بہتر سلوک ہوگا اور ان کے کیس کو اچھے انداز میں حل کیا جائے گا۔

ادھر انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹ کی قانونی مشیر ریما عمر کا کہنا تھا کہ افسوس ناک، یہ غیرقانونی اقدام مکمل طور پر ہراسانی ہے اور بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بیرسٹر اسد رحیم خان کا کہنا تھا کہ خیال رہے کہ شیریں مزاری کو اس کیس کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا جو اس وقت درج ہوا تھا جب ان کی عمر 6 سال تھی اور نصف صدی بعد تحقیقات کی جارہی ہیں۔

عمار راشد جو کہ ایک سیاسی رہنما ہیں کا کہنا تھا کہ شیریں مزاری کے ساتھ سیاسی اختلافات ہیں لیکن یہ واضح ہے کہ ان کی گرفتاری اسٹیبلشمنٹ پر ان کی جانب سے کی جانے والی حالیہ تنقید ہے۔

دوسری طرف ولسن سینٹر واشنگٹن کے جنوبی ایشیائی امور کے اسکالر مائیکل کوگلمین نے نشان دہی کی کہ یہ گرفتاری نئی حکومت کو مزید کمزور کرے گی جو پہلے ہی عمران خان اور ان کی جماعت کے احتجاج کی وجہ سے پریشان ہے۔

Back to top button