صبا قمر فتوؤں کی زد میں: مسجد وزیر خان میں ڈانس مہنگا پڑ گیا

ہمیشہ تنازعات میں گھری رہنے والی پاکستانی اداکارہ صبا قمر اکثر خبروں میں رہتی ہیں جس کی وجہ کبھی انکی کھلی ڈلی گفتگو بنتی یے اور کبھی ان کا نیا یوٹیوب چینل۔ بے باک انداز میں حساس موضوعات پر بات کرنے والی صبا قمر کچھ دنوں سے دوبارہ خبروں میں ہیں اور سوشل میڈیا پر صارفین کی تنقید کی زد میں ہیں۔ لیکن اس بار معاملہ بطور اداکارہ اور ڈائریکٹر ایک گانے کی شوٹنگ کا ہے جس میں ان کے ساتھ گلوکار بلال سعید بھی شامل ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو میں صبا قمر کو لاہور کی تاریخی وزیر خان مسجد میں گلوکار بلال سعید کے ساتھ رقص کا ایک سٹیپ لیتے دیکھا جا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کا اعتراض یہ ہے کہ آخر مسجد میں رقص فلمانے کی ضرورت کیا تھی۔ پنجاب حکومت نے اس معاملے پر پہلے ہی ایک انکوائری شروع کر کے مسجد وزیر خان کے انچارج کو معطل کر دیا ہے۔ دوسری طرف سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی اور سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین نے مسجد میں گانا گانے اور فلمانے میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے اور سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
شدید عوامی ردِعمل کے نتیجے میں صبا قمر اور بلال سعید کو معافی مانگنا پڑ گئی ہے۔ معافی میں کہا گیا ہے کہ ’پردے کے پیچھے عکس بندی کی جو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے وہ صرف ’قبول ہے‘ کے پوسٹر بنانے کے لیے محض چند سیکنڈ کا ایک کلک تھا جس کا مقصد نکاح کے بعد شادی شدہ جوڑے کی خوشی دکھانا تھا۔ کسی کو تکلیف دینا یا ناراض کرنا یا کسی مقدس مقام کی بے حرمتی کرنا ہمارے لیے اتنا ہی ناقابل فہم اور ناقابل قبول ہے جتنا کسی بھی اچھے انسان کے لیے۔ لیکن اس کے باوجود اگر ہم نے انجانے میں کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے تو ہم تہہِ دل سے آپ سے معافی مانگتے ہیں۔‘ تاہم سوشل میڈیا صارفین ہیں کہ صبا قمر اور بلال سعید کو معاف کرنے کے موڈ میں نظر ہی نہیں آتے اور مسلسل ان پر تنقید کے نشتر برسائے چلے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب پنجاب کے صوبائی وزیر برائے اوقاف و مذہبی امور سید پیر سعید الحسن کا کہنا ہے کہ مساجد میں اس طرح کا شوٹ یا کسی بھی قسم کی عکس بندی قطعی طور پر غیر قانونی ہے اور اس کی بالکل اجازت نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے مسجد وزیر خان میں مبینہ طور پر گانے کی عکس بندی کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی انکوائری رپورٹ تین دن کے اندر طلب کر لی ہے اور ان کی ہدایت کے پیشِ نظر سیکرٹری اوقاف ارشاد احمد نے منیجر اوقاف سرکل نمبر 4 کو فرائض سے غفلت برتنے پر ملازمت سے معطل کردیا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ’قبول ہے‘ گانے کا ٹیزر شئیر کرتے ہوئے صبا قمر کا کہنا تھا کہ یہ وہ واحد حصہ ہے جو تاریخی وزیر خان مسجد میں فلمایا گیا تھا۔ یہ میوزک ویڈیو کا تعارفی حصہ ہے جس میں نکاح کا منظر پیش کیا گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسے نہ تو کسی طرح کے پلے بیک میوزک کے ساتھ فلمایا گیا تھا اور اور نہ ہی بعد میں اس منظر پر کوئی موسیقی شامل کی گئی ہے۔ اس حوالے سے گلوگار بلال سعید نے اپنے انسٹاگرام پر لکھا ہے کہ فلم بندی کے وقت مسجد کی انتظامیہ بھی موجود تھی اور وہ گواہ ہیں کہ وہاں کسی قسم کی کوئی موسیقی نہیں چلائی گئی۔ بلال کہتے ہیں کہ گانے ’پوری ویڈیو 11 اگست کو کی سامنے آرہی ہے۔ آپ لوگ کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے براہ کرم ویڈیو دیکھیں۔ اور سمجھیں کہ ہم سب ایک ہی صفحے پر ہیں۔ہم سب مسلمان ہیں۔ ہمارے دل میں بھی اپنے مذہب اسلام کے لیےاتنی ہی محبت اور احترام ہے جتنا آپ سب کے دل میں ہےاور کبھی بھی اس کی توہین کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں۔‘
حالیہ واقعے کے بعد ٹویٹر پر اداکارہ صبا قمر کے نام سے بنائے گئے اکاؤنٹ سے کی گئی ایک ٹویٹ بھی وائرل ہے جس میں ان کے گھر پر حملے کی خبر دی گئی ہے۔ صبا قمر سے منسوب ٹویٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’رات میرے گھر پر کچھ لوگ حملہ آور ہوئے۔ خدارا میں نے کوئی گناہ کبیرا نہیں کیا جو مجھے پورے ملک میں ٹارگٹ بنا دیا گیا ہے یہاں تک کہ لوگ مجھے جان سے مارنے پر بنے ہوئے ہیں میں ایک سچی مسلمان ہوں اور مجھ سے جو غلطی ہوئی ہے اپنے رب کے ساتھ آپ لوگوں سے بھی بار بار معافی مانگتی ہوں۔‘
تاہم جب اس بارے میں صبا قمر سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ اکاؤنٹ جعلی ہے اور ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ البتہ انھوں نے یہ کہتے ہوئے مزید بات کرنے سے انکار کر دیا کہ ابھی وہ اپنے وکیل کے ساتھ ایک میٹنگ میں مصروف ہیں اور بعد میں بات کریں گی۔ پاکستان میں حالیہ چند برسوں کے دوران نکاح اور شادی کی تصاویر اور ویڈیوز بنوانے کے لیے جوڑے اکثر کسی پرانی مسجد کا رخ کرتے ہیں۔ ایسے ہی شوٹس کے لیے لاہور میں واقع بادشاہی اور وزیر خان مساجد پسندیدہ مقام تصور کی جاتی ہیں۔ بادشاہی مسجد میں تو پچھلے کئی برسوں سے پیسوں کے عوض جوڑے اپنی تصاویر بنواتے ہیں اور نکاح کا فوٹو شوٹ کرواتے تھے۔
تاہم حالیہ چند مہینوں میں کچھ شکایات کے بعد بادشاہی مسجد میں نکاح پر پروفیشنل فوٹوگرافی یا ایک سے زیادہ کیمروں کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس سب تنازعے کے دوران سوشل میڈیا پر صوبائی محکمہ اوقاف و مذہبی امور کا ایک اجازت نامہ بھی گردش کر رہا ہے جس کے مطابق مورخہ 28 جولائی کو محکمے کے اسسٹنسٹ ڈائریکٹر برائے تبلیغ و تربیت نے 30 ہزار فیس کی ادائیگی کے بعد کچھ شرائط کے ساتھ مسجد وزیر خان میں ’ریکارڈنگ‘ کی اجازت دی تھی۔
پنجاب کے وزیر برائے اوقاف و مذہبی امور سید پیر سعید الحسن نے اس اجازت نامے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ’مساجد میں اس طرح کا شوٹ یا کسی بھی قسم کی عکس بندی قطعی طور پر غیر قانونی ہے اور اس کی بالکل اجازت نہیں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مسجد میں ’صرف اور صرف مسجد سے متعلق ڈاکومینٹری بنانے کی اجازت ہے۔‘ سید پیر سعید الحسن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مساجد کی حرمت اور ان کا تقدس اولین ترجیع ہے اور ایسی کوئی چیز بالکل برداشت نہیں کی جا سکتی جس میں مساجد کا تقدس پامال ہو۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ تفصیلی انکوائری رپورٹ آنے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے اور اس شوٹنگ کی اجازت دینے والے افسران سزا سے نہیں بچ پائیں گے۔ اس حوالے سے میڈیا کوارڈینیٹر وزیر اوقاف و مذہبی امور پنجاب، مہران لیاقت کا کہنا تھا کہ بادشاہی مسجد اور مسجد وزیر خان میں صرف نکاح کی اجازت ہے۔
’اس کیس میں شوٹنگ کی اجازت ’کلچرل پروگرام‘ کا کہہ کر لی گئی تھی اور 30 ہزار روپے پروگرام کے دوران عمارت کے استعمال کی فیس تھی۔‘
صبا قمر اور بلال سعید کا مسجد وزیر خان میں فلمایا گیا کلپ سامنے آنے کے بعد پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین انھیں شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایک صارف فاروق جمیل کہتے ہیں کہ اگر کسی کو اپنے گانے کی ویڈیو میں عقیدتاً کوئی متبرک مقام یا مسجد دکھانی ہے تو پوری دنیا میں اصول رائج ہیں کہ ایسی شوٹنگ کے لیے ڈمی سیٹ لگائے جاتے ہیں۔ باقاعدہ مساجد میں جاکر بیہودگی نہیں کی جاتی۔
فاروق کا۔کہنا تھا کہ بلال سعید اور صبا قمر اور اس فلم پراجیکٹ کو ایسی قبیح حرکت کرنے پر سخت سزا دی جانی چاہئے۔
کئی سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ایسے ہی مناظر بادشاہی مسجد، فیصل مسجد اسلام آباد میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ وہ سوال کرتے نظر آئے کہ آخر ان چیزوں کو کوئی روکنے والا کیوں نہیں ہے اور متعلقہ ادارے مسجد جیسے مقدس ادارے میں ایسے کام کرنے کی اجازت کیسے دے دیتے ہیں؟ اسی جانب اشارہ کرتے لودھی نامی صارف کہتی ہیں ’ریاستی ادارے کہاں ہیں ؟ پتہ نہیں نئے پاکستان میں اور کیا کیا دیکھنے کو ملے گا۔‘
زوہیب خٹک کہتے ہیں ’پاکستان بھر میں سینکڑوں تاریخی نقش و نگار والے سیاحتی مقامات موجود ہیں۔ صبا قمر اور بلال سعید اپنا آرٹ کلچر وہاں پیش کر سکتے تھے لیکن مسجد میں شوٹنگ کر کے ہمیں بتایا گیا کہ یہ پاکستان ہے یہاں پیسہ پھینک تماشہ دیکھ۔ زرا تم دام تو بدلو یہاں ایمان بکتے ہیں۔‘
لیکن جہاں کئی افراد صبا قمر اور بلال پر تنقید کر رہے ہیں وہیں کچھ صارفین کا ماننا ہے کہ یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں جس پر اتنا ہنگامہ کیا جائے۔ صبا پر تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے ماجد علی غدیر کہتے ہیں کہ مسجد میں نکاح کے بعد صبا قمر نے اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہو کر ہلکا سا جھوم کے گھوم لیا تو کون سی قیامت آ گٸی؟
صبا قمر اور بلال سعید پر کی جانے والی تنقید کو بے جا قرار دیتے ہوئے وحید احمد انصاری کہتے ہیں کہ کیا کبھی ہم نے یہ بھی سوچنے کی زحمت کی کہ ہم اللہ اور اُسکے نبی کے بتائے ہوئے احکامات کے مُطابق ان مسجدوں کو کتنا آباد کیا ہے ؟؟ان کا کہنا تھا کہ جب صبا قمر اور بلال سعید نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے عوام سے معافی مانگ لی تو پھر اس معاملے کو بڑھاوا دینے کی بجائے ختم کرنا بہتر ہے۔
