صبا قمر کے نہ ہو سکنے والے شوہر کے خواتین پر الزامات


اداکارہ صبا قمر سے شادی کے خواہش مند بلاگر عظیم خان نے حال ہی میں خود پر ہراسانی اور ریپ کی دھمکیاں دینے کے الزامات لگانے والی خواتین پر جوابی الزامات لگاتے ہوئے ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔ صبا قمر کی جانب سے شادی سے انکار کے بعد عظیم خان نے کہا ہے کہ مجھ پر الزام لگانے والی ایک خاتون ایک ایسے پرائیویٹ چیٹ گروپ کی ایڈمن تھیں جہاں لوگوں بارے گندے تبصرے کیے جاتے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دراصل وہ ان پرائیویٹ چیٹس گروپس کی پوسٹس سے اختلاف کرتے تھے اور سچ بولتے تھے، جس وجہ سے انہیں سزا دی گئی اور ان پر جنسی ہراسانی کے بے بنیاد الزامات لگائے گئے۔ عظیم خان نے صبا قمر کے حوالے سے کہا کہ وہ ان کی محبت ہیں اور وہ انہیں شادی کے لیے منائیں گے اور انکا انتظار کریں گے۔
یاد رہے کہ عظیم خان حال ہی میں اس وقت خبروں میں آئے جب اداکارہ صبا قمر نے ان سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ صبا نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ عظیم خان پاکستانی نژاد آسٹریلوی بلاگر و یوٹیوبر ہیں اور وہ دونوں مستقبل میں شادی کرنے جا رہے ہیں۔ صبا کی جانب سے عظیم سے شادی کا ارادہ ظاہر کیے جانے کے بعد بلاگر کے خلاف چند خواتین نے جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے دیے جسکے بعد صبا قمر نے عظیم سے شادی کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا۔
عظیم پر الزام لگانے والی خواتین میں اجالا نامی لڑکی بھی شامل تھی۔ اجالا نے صبا کے ساتھ دبئی میں کھنچوائی گئی ایک تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اداکارہ کو کہا تھا کہ وہ عظیم خان سے شادی کرنے سے قبل آنکھیں کھول کر ان کا کردار دیکھیں۔ اجالا نے دعویٰ کیا تھا کہ عظیم خان نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا اور اب انہیں قتل و ریپ کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔
اجالا کے دعوؤں کے بعد اگرچہ عظیم خان نے ایک ویڈیو بیان شیئر کیا تھا مگر اسے انہوں نے بعد میں ڈیلیٹ کردیا تھا۔ اب انہوں نے ایک اور ویڈیو میں خود پر لگائے گئے الزامات پر رد عمل دیتے ہوئے نیا پنڈورا باکس کھول دیا۔ عظیم خان نے انسٹاگرام پر 7 منٹ دورانیے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے خود پر الزام لگانے والی خواتین سے متعلق حیران کن انکشافات کیے اور بتایا کہ انہیں سچ بولنے کی سزا دی جا رہی ہے۔ عظیم نے دعویٰ کیا کہ دراصل وہ الزام لگانے والی خواتین کی جانب سے سوشل میڈیا پر بنائے گئے پرائیویٹ چیٹ گروپس کا حصہ تھے جن میں نہایت نامناسب باتیں ہوا کرتی تھیں۔ عظیم خان نے بتایا کہ ان پر الزام لگانے والی خواتین نے مکمل کہانی نہیں بتائی، انہوں نے صرف یہ الزام لگایا کہ انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے، انہیں ریپ کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ عظیم خان کے مطابق ان پر الزامات اس وقت لگنا شروع ہوئے جب انہوں نے پرائیوٹ چیٹ گروپس میں خواتین سے اختلاف کرنا شروع کیا اور وہاں سچ بولنے لگے۔
عظیم خان کا کہنا تھا کہ مذکورہ پرائیویٹ چیٹ گروپس میں لڑکوں کی سوشل میڈیا پروفائلز اور پوسٹس کو شیئر کرکے، ان پر نامناسب تبصرے کیے جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جس خاتون نے ان پر الزامات لگائے، وہ ایک ایسے گروپ چیٹ کی ایڈمن تھیں، جہاں صرف ان افراد کو ایڈ کیا جاتا تھا جو ہم جنس پرستی کی حمایت کرتے ہوں اور مولانا طارق جمیل کی پوسٹس سے اختلاف کرتے ہوں۔ ان کے مطابق ان چیٹ گروپس میں لاکھوں افراد شامل تھے اور ایسے ہی ایک گروپ میں ایک حاملہ خاتون اور ان کے خاندان سے متعلق نامناسب باتیں کی گئیں، جس پر مذکورہ خاتون کا حمل ضائع ہوگیا۔ عظیم خان کے مطابق ایک گروپ چیٹ میں خواتین پوسٹس کرتی تھیں کہ ان کے شوہر کی سالگرہ ہے اور وہ شوہر کو سالگرہ پر خاص تحفہ دینا چاہتی ہیں۔ پھر وہ دوسری خواتین سے تحفے کے بارے میں نامناسب رائے مانگا کرتی تھیں جس پر اختلاف ہوا۔
اپنی ویڈیو کے آخر میں عظیم خان نے صبا قمر کے حوالے سے کہا کہ وہ ان کی محبت ہیں، وہ انہیں منائیں گے اور انہیں منانے تک انکا انتظار کریں گے۔ عظیم خان نے دعویٰ کیا کہ صبا قمر کو ان پر لگائے گئے الزامات سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور جو کچھ بھی ہوا، اس کے وہ خود ذمہ دار ہیں، صبا قمر کا اس معاملے میں کوئی قصور نہیں۔ مذکورہ ویڈیو کے کیپشن میں عظیم خان نے لکھا کہ وہ یہ ویڈیو وضاحت کےلیے جاری نہیں کر رہے بلکہ خود پر لگے الزامات کے جوابات دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ سمجھ گئے ہیں کہ سچ بولنے کی کتنی بڑی سزا ملتی ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button