صحافیوں پر حملے کرنے والوں کا نام لیتے رہیں گے

ریاستی دباؤ کے تحت جیو ٹی وی سے آف ایئر کر دیے جانے والے سینئیر صحافی حامد میر نے ایک مرتبہ پھر سے اپنا پرانا موقف دہراتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں پر حملے کروانے والے پکڑے نہ گے تو ہم لوگ ان کا نام لینے پر مجبور ہوں گے۔
اسلام آباد میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام عامر میر اور عمران شفقت کی حالیہ گرفتاریوں کے خلاف کیے جانے والے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے حامد میر نے کہا ہے کہ پاکستان میں جب بھی کسی صحافی پر حملہ ہوتا ہے اسے انصاف نہیں مل پاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کے اغوا، انکی گرفتاریوں اور ان پر حملوں کا سلسلہ کوئی نیا نہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ موجودہ دور میں اس حوالے سے نئے ریکارڈ قائم ہوئے ہیں۔ حامد میر نے کہا کہ جب آپ صحافیوں کے گھروں میں گھس کر ان کو ماریں گے اور گرفتار کریں گے تو پھر ایسا کرنے والوں کا نام تو سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ اسد طور کے گھر میں گھس کر اسے مارنے والے کون لوگ تھے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ اسد طور پر حملے کے بعد یہ کہا گیا کہ اگلے 48 گھنٹوں میں ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ لیکن اب کئی ماہ گزر چکے ہیں اور مطیع اللہ جان اور ابصار عالم کے حملہ آوروں کی طرح اسد طور کے حملہ آور بھی نامعلوم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ ان صحافیوں پر حملہ کروانے والی طاقتیں کون سی ہیں اور میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ وقت سدا ایک جیسا نہیں رہتا۔ اقتدار اور طاقت ہمیشہ آپ کے پاس نہیں رہنی۔ وقت بدلنا ہے اور آپ نے بھی پرویز مشرف کی طرح کپڑے اتار کر ملک سے باہر بھاگنا ہے۔ حامد میر نے کہا کہ صحافیوں پر حملوں میں وہی لوگ ملوث ہیں جنہوں نے گن پوائنٹ پر میرا ٹی وی پروگرام بند کروایا۔
خیال رہے کہ حامد میر کو ‘جیو’ نے مئی میں ریاستی اداروں کے خلاف سخت زبان استل کرنے کے بعد آف ایئر کر دیا تھا۔ 9 اگست کو برطانوی نشریاتی ادارے ‘بی بی سی’ کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں دیے گئے انٹرویو میں حامد میر نے کہا کہ اُن پر پابندی کے ذمے دار وزیر اعظم عمران خان نہیں بلکہ وہ تو ان کے بقول خود ایک بے بس وزیرِ اعظم ہیں۔حامد میر کادعوی تھا کہ وہ پاکستان میں سنسر شپ کی زندہ مثال ہیں۔سینیئر صحافی کا کہنا تھا کہ "میرے نہ صرف ٹی وی پر آنے پر پابندی ہے بلکہ میں جس اخبار سے کئی برسوں سے منسلک ہوں وہاں میں کالم بھی نہیں لکھ سکتا۔”
خیال رہے کہ اس نوعیت کے الزامات کے جواب میں حکومت کا یہ مؤقف رہا ہے کہ پاکستان میں صحافیوں کو مکمل آزادی حاصل ہے اور حکومت کی جانب سے اُن پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا جاتا۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ جب پرویز مشرف اقتدار میں تھے "تو مجھے ٹی وی پر بین کر دیا گیا۔ لیکن اخبار میں لکھنے پر کوئی پابندی نہیں تھی، اب عمران خان وزیرِ اعظم ہیں اور مجھ پر لکھنے پر بھی پابندی ہے۔”
حامد میر نے کہا کہ "میں کئی حملوں میں بچ چکا ہوں لیکن کبھی انصاف نہیں ملا، کئی مرتبہ مقدمات درج ہوئے۔ میں ایک صحافی کے ساتھ کھڑا تھا۔ جب بھی صحافی پر حملہ ہوتا ہے قانون نافذ کرنے والے ادارے آج تک کسی کو نہیں پکڑ سکے۔” اُن کے بقول اگر یہ لوگ نہیں پکڑے جائیں گے تو وہ ان افراد کا نام لینے پر مجبور ہوں گے جن کے بارے میں وہ سوچتے ہیں کہ وہ حملہ آور ہیں۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ "مجھ پر کراچی میں جو قاتلانہ حملہ ہوا اس میں مجھے چھ گولیاں لگیں جن میں سے دو اب بھی میرے جسم میں موجود ہیں۔ اس وقت کی حکومت نے تین رکنی انکوائری کمیشن قائم کیا تھا۔ میں نے اس کمیشن کے سامنے ایک بارے نہیں دو بار اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔”
اُن کے بقول "میں نے زخمی ہونے کے باوجود اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ میں نے اس وقت ایک انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ کا نام لیا۔ جب کمیشن نے اس شخص کو بلوایا تو اس شخص نے کمیشن کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا۔ اسد طور نے بھی انٹیلی جنس ادارے کا نام لیا لیکن ان کو بھی کبھی نہیں بلایا گیا۔ ہم مطالبہ کر رہے تھے کہ اسد طور کے ساتھ انصاف کیا جائے۔”
صحافی اسٹیفن سیکر نے سوال کیا کہ کیا پاکستان میں انٹیلی جنس ادارے صحافیوں پر حملوں میں ملوث ہیں جس پر حامد میر نے کہا کہ عالمی اداروں کی رپورٹس موجود ہیں، انٹیلی جنس اداروں پر صحافیوں کے اغوا اور حملوں کا الزام لگایا گیا۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ میں عمر قید کی سزا کا سامنا کرنے کو بھی تیار ہوں کیوں کہ اگر وہ مجھے سزا دیتے ہیں تو پوری دنیا کو علم ہو جائے گا کہ کیا ہو رہا ہے۔ سب کو علم ہے کہ حامد میر کے ساتھ کیا ہوا، سب کو علم ہے کہ حامد میر پر پابندی کس وجہ سے لگی، پاکستان میں قانون کی بالادستی نہیں ہے۔
جیو اور جنگ گروپ کے بارے میں ایک سوال پر حامد میر نے کہا کہ میں مایوس ہوں لیکن اس گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمٰن لمبا عرصہ تک حراست میں رہے۔ ان کو سپریم کورٹ سے ضمانت ملی اور نام ای سی ایل پر ہے۔ میرے ادارے نے مجھ پر پابندی لگائی لیکن میں ان کی پوزیشن سمجھ سکتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان میں جمہوریت ہے لیکن کوئی جمہوریت نہیں، پاکستان میں آئین ہے لیکن کوئی آئیں نہیں اور میں پاکستان میں سینسر شپ کی زندہ مثال ہوں’۔

Back to top button