صحافیوں کو گرفتار کرنے والے FIA افسران کے خلاف ایکشن کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ہاتھوں سینئر صحافیوں عامر میر اور عمران شفقت کو گرفتار کرنے اور ہراساں کرنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے حکم جاری کیا ہے کہ ان کی گرفتاری میں ملوث ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ لاہور بابر بخت اور دیگر متعلقہ افسران کے خلاف فوری کاروائی کی جائے اور اس بار عدالت کو آگاہ کیا جائے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے یہ احکامات یکم ستمبر کے روز جاری کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بار بار کے عدالتی احکامات کے باوجود ایف آئی اے کی سائبر کرائم ونگ حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں کو ہراساں کرنے سے باز نہیں آ رہی جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔ انہوں نے کہا کہ ایک عام شہری کو ڈرانے کے لیے ایف آئی اے کا ایک نوٹس ہی کافی ہوتا ہے لیکن یہاں بار بار صحافیوں کو گرفتار کرنے کے بعد ہراساں بھی کیا جا رہا ہے جس کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز موجود نہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیوں نہ احتساب کے مشیر شہزاد اکبر سے پوچھا جائے کہ اس عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کیوں نہیں ہو رہا اور صحافیوں کے خلاف کارروائیاں کیوں نہیں روکی جا رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ایک آئینی عدالت ہے اور اسکے احکامات کے ساتھ کھیلنے کی اجازت کسی ادارے کو نہیں دی جائے گی۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ایف آئی اے کے کنڈکٹ سے صحافیوں کے الزامات درست ثابت ہوئے ہیں اور عدالت اس معاملے کو آگے چلائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے نے اس عدالت کو مس لیڈ کیا ہے لہذا حکومت بتائے کہ ایف آئی اے کے جس افسر نے عدالت کے طے کردہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کی اس کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر لاہور سے دو سینئر صحافیوں کی گرفتاری کے واقعہ میں ملوث ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا تو اسکے لیے کون جوابدہ ہے؟ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ سوسائٹی آئین کے تحت چل رہی ہے، جب عدالت نے حکم دیا تھا کہ یہ تاثر ختم کیا جائے کہ انتقامی کارروائیاں صرف صحافیوں کے خلاف ہورہی ہیں، تو پھر اس پر عمل کیوں نہیں کیا گیا بلکہ اس کی خلاف ورزی کی گئی۔ انہوں نے کہا کی ایف آئی اے لاہور کے ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ کے خلاف عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر حکومت فوری ایکشن لے ورنہ عدالت کوئی حکم نامہ جاری کرے گی۔ اس موقع پر حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودود نے عدالت سے کہا کہ انہیں ایک چانس دیا جائے تاکہ وہ اس واقعہ میں ملوث افسران کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ تیار کر سکیں۔ اطہر من اللہ نے حکومتی لا آفیسر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جن افسران نے لاہور میں دو سینئر صحافیوں کو گرفتار کیا ان کے خلاف ایکشن لیکر ایک مثال قائم کی جائے تاکہ نہ تو مستقبل میں ایف آئی اے عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کر سکے اور نہ ہی صحافیوں کو بے جا گرفتار کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان افسران کے خلاف ایکشن لیکر ایک مثال نہیں بنائی جاتی تو متاثرہ صحافیوں کے خدشات درست ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے کو چاہیے تھا کہ وہ اب تک لاہور واقعہ میں ملوث افسران کو مثال بناچکے ہوتے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے سینئر صحافیوں عامر میر اور عمران شفقت کو گرفتار کرنے پر سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے ڈی جی ایف آئی اے کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کیا تھا لیکن یہ کیس عدالتی سیاست کا شکار ہوگیا اور قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے قاضی عیسی کا بنچ توڑ کر جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں ایک تین رکنی بینچ بنا دیا تھا۔
تاہم صحافیوں نے اس بینچ پر عدم اعتماد کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں دائر کردہ اپنی آئینی پٹیشن واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ عدالت سے اپنا کیس واپس لیتے ہوئے عامر میر کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ یہ بنچ انہیں انصاف دے پائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کی عدالت میں دائر کردہ ان کی درخواست کو جس طرح فٹ بال بنا کر اس کے ساتھ کھیلا گیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے خلاف انتقامی کاروائیاں کرنے والے خفیہ عناصر عدالت سے زیادہ طاقتور ہیں۔ عامر میر کا کہنا تھا کہ ان کو ہراساں کرنے اور گرفتار کرنے کے واقعات میں ایف آئی اے کو غیر مرئی عناصر استعمال کر رہے ہیں اس لیے وہ نہیں سمجھتے کہ عدالت ان کا احتساب کر پائے گی لہذا وہ اپنا فیصلہ اللہ پر چھوڑتے ہیں۔
یاد رہے کہ عامر میر اور عمران شفقت کی گرفتاری سے کچھ ہفتے پہلے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ایف آئی اے کو حکم دیا تھا کہ وہ کسی بھی صحافی کو قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گرفتار نہیں کرے گی اور اس بات کو ملحوظ خاطر رکھے گی کہ صحافیوں کے خلاف درخواست دینے والا شکایت کنندہ خود متاثر ہو نہ کہ کسی پراکسی شکایت کنندہ کی درخواست پر کاروائی کی جائے۔ لیکن عامر میر اور عمران شفقت کو ایک نامعلوم شخص کی درخواست پر گرفتار کیا گیا یا جس نے ان پر ریاست دشمن اور فوج مخالف ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ یکم ستمبر کو بھی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے یہ سوال کیا کہ کیا اگر کوئی راہ جاتا وزیر اعظم کے خلاف شکایت کردے تو ایف آئی اے وزیراعظم کو بھی گرفتار کر لے گی؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر شخص کو آزادی اظہار کا حق حاصل ہے اور کسی بھی صحافی کو اپنی رائے کا اظہار کرنے پر گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔
اطہر من اللہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی ایک ایجنسی صحافیوں کے گھروں میں گھس کر نا صرف انہیں ہراساں کر رہی ہے بلکہ گرفتار بھی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور سے گرفتار ہونے والے صحافیوں کا معاملہ ایک ٹیسٹ کیس ہے جس میں ایف آئی اے کی جانب سے اختیارات کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے۔
اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سپریم کورٹ نے اس کیس کا ریکارڈ منگوا لیا ہے لہذا تھوڑا انتظار کر لیں۔ جواب میں جسٹس اطہر نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ نے اس عدالت کو منع کیا ہوتا تو ہم یہ پروسیڈنگ نہ کرتے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ یہ آئینی عدالت ہے اور ہمیں سپریم کورٹ کا احترام بھی ہے لہذا کارروائی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر مرتبہ عدالتی سماعت کے بعد ایف آئی اے صحافیوں کے خلاف کوئی نئی واردات ڈال دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے لاہور کے جس ڈائریکٹر نے دو صحافیوں کو گرفتار کر کے اس عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے اس کو سزا دے کر عدالت کو آگاہ کیا جائے۔
