صحت مند پاکستانی مریض کے پلازما سے کرونا کا علاج شروع

دنیا بھر کی طرح پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لینے والے مہلک کرونا وائرس کے علاج کے حوالے سے امید کی ایک کرن اس وقت نظر آئی جب ملک میں کرونا کی پہلے صحتیاب مریض یحییٰ جعفری کے خون سے پلازمہ حاصل کرکے کرونا سے متاثرہ وینٹی لیٹر پر موجود دیگر مریضوں میں منتقل کیا گیا۔ طبی ماہرین توقع کر رہے ہیں کہ یہ پلازما نئے مریضوں کے جسم میں جاکر اینٹی باڈیز پیدا کرنے کے بعد انہیں کرونا کے مرض سے نجات دلائے گا۔
دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لینے والے مہلک کورونا وائرس کے علاج کے لئے اس مرض سے چھٹکارا حاصل کرنے والے صحتیاب مریضوں کے خون سے حاصل شدہ پلازمے کے حوالے سے یہ خوشخبری ملی ہے کہ اب کرونا وائرس کے مریض اس پلازمے کی مدد سے صحتیاب ہو سکیں گے اور اب پاکستان میں بھی اس طریقہ علاج کی باقاعدہ آزمائش شروع کردی گئی ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کا وہ پہلا شخص یحییٰ جعفری جس میں کرونا ٹیسٹ پارٹیوں آیا اور بعدازاں اس نے کرونا سے جنگ میں فتح حاصل کی، اسی کے خون میں سے پلازما حاصل کرکے اب کرونا وائرس کے نئے متاثرین میں منتقل کیا گیا ہے اور ماہرین امراض ہو بھرپور امید کر رہے ہیں کہ جس طرح چین نے اس طریقہ علاج سے کرونا کا مقابلہ کیا، پاکستان بھی اس سے مستفید ہوگا۔
کرونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے علاج کے لیے ماہرین کافی عرصے سے اس سے صحت یاب ہونے والے افراد کے خون سے پلازمہ حاصل کرکے اسے وائرس سے متاثرہ بیمار افراد کے علاج کے لئے آزمانے پرزور دے رہے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق میں اس طریقہ کار کے ابتدائی نتائج سامنے آئے ہیں جو بہت حوصلہ افزا ہیں۔ اب امراضِ خون کے سینئر ڈاکٹرز کرونا کے علاج کے لئے اسی طریقہ کار کو اپنانے کی سفارش کر رہے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک کووڈ 19 کے حوالے سے مخصوص ادویات اور ویکسین تیار نہیں ہو جاتی، یہ طریقہ کار اس وقت تک زندگیاں بچانے میں مدد دے سکے گا۔
خیال رہے کہ چین میں کئی قریب المرگ مریضوں پر یہ طریقہ کار آزمایا گیا اور تجرباتی بلڈ پلازمہ ٹرانسفیوژن کا تجربہ کیا گیا جس کے بعد ان کی حالت میں کافی بہتری دیکھی گئی ہے اور وہ تیزی سے صحت یابی کی طرف گامزن ہیں۔ اگرچہ یہ تحقیق محدود اور بہت چھوٹے پیمانے پر ہوئی اور حتمی طور پر کچھ طے کرنا مشکل ہے مگر نتائج سے اس طریقہ کار کی افادیت کے خیال کو مزید تقویت ملتی ہے۔
چین کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے امریکا میں کرونا کی بیماری سے سب سے زیادہ متاثرہ ریاست نیویارک میں بھی رواں ہفتے اس پلازما ٹرانسفیوژن کو سنگین کیسز کے لیے آزمانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ چین کے شینزن ہاسپٹل میں اس تحقیق کے لیے ڈاکٹروں نے 20 جنوری سے 25 مارچ تک 36 سے 73 سال کے 5 مریضوں پر بلڈپلازما استعمال کیا۔ ان مریضوں کو یہ پلازما ہسپتال میں داخل ہونے کے 10 سے 22 دن کے دوران دیا گیا۔ پلازما ٹرانسفیوژن کے بعد 3 دن کے اندر 5 میں سے 4 مریضوں کا جسمانی درجہ حرارت معمول پر آگیا، 5 میں 4 مریضوں میں 12 دن کے اندر سانس کی شدید تکلیف بھی ختم ہوگئی۔
چینی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کا طریقہ کار 2002 سارس وائرس کی وبا اور 2009 میں سوائن فلو کی وبا کے دوران بھی استعمال کیا گیا تھا۔ اس نئی تحقیق میں کووڈ 19 کے صحت یاب افراد سے خون کے عطیات حاصل کرکے یہ تجرباتی طریقہ کار آزمایا گیا تھا اور ان کے خون سے حاصل پلازما حاصل کرکے اسی روز سنگین حد تک بیمار مریضوں میں منتقل کیا گیا۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ طریقہ کار بڑے ہیمانے پر موثر ثابت ہوا تو اس کے لیے بڑا چیلنج صحت یاب افراد سے خون کے عطیات کا حصول ہوگا۔ ابھی رواں ہفتے امریکا کی واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی تحقیق میں بھی کہا گیا تھا کہ کووڈ 19 سے صحت یاب ہونے والے افراد کا خون سنگین حد تک بیمار مریضوں کے علاج بلکہ دیگر کو اس کا شکار ہونے سے بچا سکے گا۔ اس طریقہ کار کو 1918 کے اسپینش فلو کی وبا کے دوران ویکسین یا اینٹی وائرل ادویات کی دستیابی سے پہلے استعمال کیا گیا تھا۔
اس طریقہ کار میں اس حقیقت کو مدنظر رکھا جاتا ہے کہ صحت مند مریضوں کے خون میں ایسے طاقتور اینٹی باڈیز ہوتے ہیں جو وائرس کو لڑنے کی تربیت رکھتے ہیں۔ خیال رہے کہ اس وقت نئے نوول کورونا وائرس کا کوئی علاج موجود نہیں جبکہ ویکسین کی دستیابی اس سال کے آخر یا اگلے سال کی پہلی ششماہی تک ممکن نظر نہیں آتی۔
