صدارتی آرڈینینسز سے حکومت چلانے پر عدلیہ برہم

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے صدارتی آرڈیننسوں کے ذریعے حکومت چلانے کی روش کا سخت نوٹس لیے جانے کے بعد اٹارنی جنرل آف پاکستان نے عدالت کو یقین دلوایا ہے کہ حکومت اس سلسلے کو ختم کرنے جا رہی ہے۔ ہائی کورٹ میں ایک درخواست کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وزیر اعظم ملک پر پارلیمانی جمہوریت کے ذریعے حکمرانی کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور مستقبل میں صدارتی آرڈیننس جاری کرنے کی بجائے پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو وزیر اعظم کے ساتھ ہونے والی حالیہ ملاقات سے آگاہ کیا جس میں صدارتی آرڈیننسز پر تفصیل سے بات چیت کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے ماضی کے طریقہ کار کے بارے میں پوچھا اور آئینی شق کو انصاف کے ساتھ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ یاد رہے کہ کپتان حکومت مستقل قانون سازی کے بجائے عارضی قانون سازی یعنی آرڈیننس یا صدارتی حکم ناموں کے ذریعے حکومتی امور چلانے کو ترجیح دے رہی ہے۔ جب کہ حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت کے اس اقدام کو منتخب ایوان کی توہین قرار دے رہی ہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت گزشتہ ہفتے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں آٹھ نئے قوانین آرڈیننس کے ذریعے نافذ کرنے کی منظوری دی گئی تھی جس کے بعد سول سوسائٹی ٹی کی مختلف تنظیموں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا تاکہ صدارتی آرڈیننس جاری کرنے کے لامتناہی سلسلے کو روکا جا سکے۔
خیال رہے کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 89 کے مطابق صدر مملکت دو صورتوں میں، جب کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس نہ چل رہا ہو اور صورت حال فوری طور پر قانونی بل کے نفاذ کی متقاضی ہو تو آرڈیننس کی منظوری دے سکتے ہیں۔ لیکن کپتان حکومت کو اقتدار سنبھالنے کے بعد سے آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی کرنے پر اپوزیشن، قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔
دنیا کے زیادہ تر جمہوری ممالک میں حکم ناموں کے ذریعے قانون سازی کی قانون میں گنجائش نہیں ہے تاہم پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جن کے آئین میں صدارتی حکم نامے کے ذریعے قانون سازی کی جاسکتی ہے۔
خیال رہے کہ جولائی 2018 میں تحریک انصاف کے حکومت بنانے کے بعد سے وفاقی حکومت کے معمول کے امور چلانے کے لیے اب تک 100 سے زائد صدارتی آرڈیننسز نافذ کیے جاچکے ہیں۔ وزارت قانون کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی 2008 سے 2018 تک کی حکومتوں میں کل 156 آرڈیننس نافذ کیے گئے۔ سال 1947 میں پاکستان کی آزادی کے بعد سے اب تک آنے والی حکومتیں قانون سازی کے متبادل کے طور پر ڈھائی ہزار سے زائد آرڈیننسز نافذ کرچکی ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں 28 جولائی کو کیس کی سماعت کے دوران جب مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال نے بحیثیت قانون ساز اس معاملے پر بات کرنے کی اجازت چاہی تو چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل بینچ نے ان سے دریافت کیا کہ جب مسلم لیگ (ن) اقتدار میں تھی تو کتنے آرڈیننس نافذ کیے گئے؟ جس پر احسن اقبال نے کہا کہ ’دو غلط مل کر ایک صحیح نہیں بنا سکتے‘، ساتھ ہی انہوں نے اپنی حکومت کی غلطی کا اعتراف اور اس پر افسوس کا اظہار کیا۔ دوسری جانب کمرہ عدالت میں موجود سینئر وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ تقریباً ہر حکومت نے آرڈیننس نافذ کرنے کا اختیار استعمال کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر صدر کی جانب سے آرڈیننس نافذ کرنے کی ایک ہی وجہ فراہم کی گئی اور وہ پارلیمنٹ کا اجلاس نہ ہونا تھی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے انہیں یاد دلایا کہ پارلیمان یا قائمہ کمیٹی میں آئین کی دفعہ 89 میں دیے گئے اختیار کا جائزہ لینا ان کی ذمہ داری ہے۔
اس موقع پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وہ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ صدارتی آرڈی نینسز کے معاملے پر تفصیلی بات چیت کر چکے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ بقول وزیراعظم ان کی اتحادی حکومت سینیٹ میں اکثریت نہیں رکھتی اس لیے قانون سازی کی بجائے آرڈیننس لانے پڑتے ہیں۔
تاہم اس معاملے پر پیپلز پارٹی کے رہنما و سابق وزیرِ اعظم راجا پرویز اشرف کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اب تک جو آرڈیننس جاری کیے ان میں کوئی بھیی "قومی ہنگامی صورتحال” سے متعلق نہیں تھے جبکہ اس عرصے میں حکومت نے صرف چند قانونی بل پارلیمیںٹ میں پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان کی موجودگی میں آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی جمہوریت اور پارلیمانی روایات کے منافی ہے۔ اُن کے بقول، حکومت دانستہ طور پر پارلیمان کو غیر مؤثر بنانا چاہتی ہے اور یہ رجحان جمہوریت کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نے واضح کیا کہ وہ ملک و قوم کے مفاد میں قانون سازی کے لیے حکومت سے تعاون کرنے کو تیار ہیں لیکن حکومت پارلیمان کی نفی کرتے ہوئے ذاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہتی ہے اسلیے ڈلاک پیدا ہو جاتا ہے۔

Back to top button