صدارتی آرڈیننس کے نفاذ کااختیارمحدود کرنے کا بل سینیٹ میں جمع

پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق چئیرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے صدر مملکت کی جانب سے آرڈیننس کے نفاذ کے اختیارات محدود کرنے کیلئے متعلقہ قانون میں ترمیم کی درخواست سینیٹ میں جمع کرا دی ہے۔
سینیٹر رضا ربانی نے سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کروائے گئے نجی رکن کے بل کے ذریعے آئین کی دفعہ 89 میں 2 شرائط شامل کرنے کی درخواست کی ہے۔ بل میں آئین کی دفعہ 89 کی شق 2 کے پیراگراف (a) کے ذیلی پیراگراف 1 میں یہ شرط شامل کرنے کی تجویز دی گئی کہ ’جب آرڈیننس نافذ کیا جائے تو اس کے بعد ہونے والے قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں اسے پیش کیا جائے اور اجلاس میں آرڈیننس پیش نہ کرنے پر اس کو منسوخ تصور کیا جائے.‘۔ اس کے ساتھ شق 2 کے پیراگراف (a) کے ذیلی پیراگراف 2 میں یہ شرط شامل کرنے کی تجویز دی گئی کہ ’آرڈیننس کے نفاذ کے بعد اسے پارلیمان کے دونوں میں سے کسی ایک ایوان کے پہلے اجلاس میں پیش کیا جائے اور اگر اجلاس میں پیش نہ کیا گیا تو منسوخ ہوجائے گا‘۔
اس سلسلے میں مقاصد اور وجوہات کے بیان میں کہا گیا کہ صدرکے آرڈیننس نافذ کرنے کے اختیار کے غلط استعمال کی ایک طویل تاریخ ہے۔ بل میں مزید کہا گیا کہ ’اس قسم کے صدارتی اختیارات سے پارلیمان کو شعوری طور پر بیڑیوں میں جکڑا جارہا ہے لیکن ناکامی کے ساتھ، ماضی قریب میں دفعہ 89 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پارلیمان کا اجلاس نہ ہونے کے وقت نافذ کیے گئے آرڈیننس کو ایوان میں پیش کرنے میں غیر معمولی تاخیر کی گئی‘۔ بل میں کہا گیا ہے کہ ’اس عمل نے قانون سازوں کو 1973 کے آئین کی دفعہ 89 کے تحت آرڈیننس نامنظور کرنے کے لیے قرارداد پیش کرنے کا اپنا قانونی اختیار استعمال کرنے سے روک دیا ہے‘۔ رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمان کو ناکارہ بنانے کے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ کوششیں کی گئیں۔
خیال رہے کہ آئین کی دفعہ 89 صدر مملکت کو اس صورت میں آرڈیننس نافذ کرنے کا اختیار دیتی ہے جب پارلیمان کے اجلاس منعقد نہ ہورہے ہوں یا کوئی ایسی سنگین صورتحال ہو کہ قانون سازی لازم ہوجائے۔
یاد رہے کہ سینیٹ کے گزشتہ اجلاس کے دوران آرڈیننس کے نفاذ پر اپوزیشن کی جانب سے قانون کے غلط استعمال کا معاملہ پوری شدو مد کے ساتھ اٹھایا گیا تھا۔ اپوزیشن اراکین نے حکومت پر اپوزیشن کی اکثریت کے حامل ایوان میں قرارداد کے مسترد ہونے کے ڈر سے جان بوجھ کر سینیٹ میں آرڈیننس پیش کرنے سے گریز کرنے کا الزام لگایا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button