صدارتی ریفرنس کا ہتھکنڈا کپتان کو کیوں نہیں بچا پائے گا؟

حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کردہ صدارتی ریفرنس کو وزیر اعظم عمران خان کی بقا کا آخری ہتھکنڈا قرار دیا جا رہا ہے، تاہم آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ کپتان کے لئے اپنی وزارت عظمی بچانا ناممکن ہے کیونکہ سپریم کورٹ کے پاس آئین کی تشریح کا اختیار تو ہے مگر اس میں ترمیم کرنے کا اختیار نہیں۔ آئینی ماہرین کے مطابق آرٹیکل 63 وضاحت کے ساتھ بتاتا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کے دوران اگر منحرف ارکان اسکے حق میں ووٹ دیتے ہیں تو انہیں ہر صورت شمار کیا جائے گا اور سپیکر کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں کرے گا۔ آئین کی شق 63 (الف) بڑی واضح ہے کہ اس قانون کا اطلاق صرف تب ہو گا جب کوئی منحرف رکن اس کا ارتکاب کرے گا۔ لہذا صرف اندیشوں کی بنیاد پر کسی رکن اسمبلی کو ووٹ کاسٹ کرنے سے نہیں روکا جا سکتا اور نہ ہی اسے ایسا کرنے سے پہلے سزا دی جا سکتی ہے۔
آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ جسٹس فائز عیسی کی جانب سے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو لکھے گئے خط کے بعد اب ججوں کے پاس بھی اس معاملے میں ڈنڈی مارنے کی گنجائش باقی نہیں بچی۔ان کے خیال میں زیادہ امکان یہی ہے کہ اب سپریم کورٹ اب اس معاملے کی تشریح کرنے کا رسک نہیں لے گی۔ سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ عمران حکومت کا خاتمہ اب نوشتہ دیوار ہے لیکن وزیراعظم اس حقیقت سے نظریں چرانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ مہذب معاشروں میں جب ایسی صورتحال پیدا ہوجائے تو وزرائے اعظم باعزت طریقے سے مستعفی ہو جاتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان اگر اپنے باغی اراکین اسمبلی کو بزور بازو ووٹ ڈالنے سے روک بھی لیں تب بھی ان کی حکومت کا خاتمہ یقینی ہے کیونکہ ان کی اتحادی جماعتیں بھی ان کا ساتھ چھوڑ چکی ہیں اور صرف اعلان ہونا باقی ہے۔ ویسے بھی اگر پہ ٹی آئی کے باغی اراکین اسمبلی اپنی سیٹوں سے مستعفی ہو جائیں تو وزیراعظم قومی اسمبلی میں اکثریت کھو بیٹھیں گے اور انکی حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا۔
دوسری جانب آئینی ماہرین کہتے ہیں کہ جب صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے یہ واضح اعلان کر دیا کہ عدم اعتماد کی تحریک پر پارلیمان میں ہونے والی کارروائی میں مداخلت کا اختیار عدالت کے پاس نہیں تو پھر حکومت کے پاس عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کے علاوہ اور کوئی راستہ باقی نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قومی اسمبلی کا سپیکر چاہے بھی تو عدم اعتماد کی قرارداد پر ہونے والی ایوان کی کارروائی کو زیادہ دنوں تک مؤخر نہیں کر سکتا۔ پاکستان میں انتخابات اور پارلیمان پر گہری نظر رکھنے والے ادارے پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے رولز اینڈ پروسیجر کے مطابق عدم اعتماد کی قرارداد جمع ہونے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس 14 روز کے اندر اندر جب بھی بلایا جائے گا تو اجلاس کے پہلے دن کے ایجنڈے پر تحریک عدم اعتماد کی قرارداد بھی شامل ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی طرف سے جب قرارداد ایوان میں پیش کر دی جائے تو سپیکر پر یہ لازم ہوگا کہ اس پر ضابطہ کار کے مطابق کارروائی کرے۔
طریقہ کار بتاتے ہوئے احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ سپیکر قرارداد پیش ہونے کے بعد اس کی منظوری کے لیے ووٹنگ کروائے گا۔ ’اگر اس قرارداد کے حق میں زیادہ ووٹ آئے تو پھر اس قرارداد پر بحث کے لیے تین دن مقرر کیے جائیں گے جس میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے ارکان اس قرارداد کے خلاف اور حق میں اپنی تقاریر کریں گے۔‘
واضح رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے مطابق 25 مارچ کو ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس زیادہ دیر تک نہیں چل سکے گا کیونکہ یہ روایت رہی ہے کہ اگر قومی اسمبلی کا کوئی رکن وفات پا جائے تو فاتحہ خوانی کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا جاتا ہے۔ تاہم پلڈاٹ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ ایک روایت ضرور رہی ہے کہ اگر کوئی رکن قومی اسمبلی وفات پا جائے تو اس اجلاس فاتحہ خوانی کے بعد ملتوی کردیا جاتا ہے لیکن قانون یا قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط میں ایسی کسی بات کا ذکر نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر قومی اسمبلی کا سپیکر چاہے تو فاتحہ خوانی کے بعد بھی اسمبلی کی کارروائی کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے سپیکر پر یہ آئینی طور پر لازم ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پیش ہونے کے سات روز کے اندر اندر اس پر رائے شماری کروائے گا۔
ماہر قانون حامد خان اس معاملے پر کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے پاس آئین کی تشریح کا اختیار تو ہے لیکن وہ آئین میں ترمیم نہیں کر سکتی۔ حکومت نے سپریم کورٹ میں جو ریفرنس دائر کیا ہے اس میں وہ آئین میں ترمیم کا مطالبہ کرتی نظر آتی ہے جو ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دیکھا جائے تو سپریم کورٹ کی صدارتی ریفرنس پر جو بھی رائے ہو گی اس پر عمل درآمد کرنا لازمی نہیں ہے لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کسی معاملے کی تشریح کر دے تو اس پر اختلاف نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن انھوں نے کہا کہ اس صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے یہ واضح کیا ہے کہ کسی بھی رکن قومی اسمبلی کو ووٹ دینے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ حامد خان کا کہنا تھا کہ اگر کسی رکن کو ووٹ دینے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا تو قومی اسمبلی کے سپیکر کے پاس بھی یہ اختیار نہیں ہے کہ اگر کوئی منحرف رکن ووٹ کاسٹ کرے تو اس کا ووٹ شمار نہ کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ سپیکر کے استحقاق اور اختیارات میں بہت فرق ہے۔ حامد خان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کے سپیکر یا سینیٹ کے چیئرمین کا ایسا اقدام جو کہ آئین سے متصادم ہو، اسے عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ چیف جسٹس نے واضح الفاظ میں قرسر دیا ہے کہ کسی بھی رکن قومی اسمبلی کو ڈرا دھمکا کر تحریک عدم اعتماد میں ووٹ دینے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ لہذا ایوان میں اکثریت کھو دینے والے عمران خان کی فراغت یقینی ہے۔
