صدر علوی اور اسحاق ڈار کی ملاقاتوں کا ایجنڈا نیاالیکشن نہیں

حکومتی حلقوں نے صدر عارف علوی اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے مابین ہونے والی ملاقاتوں کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ ان کا ایجنڈا نہ تو نئے الیکشن کا انعقاد ہے اور نہ ہی عمران کو صوبائی اسمبلیاں توڑنے سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت واضح طور پر بتا چکی ہے کہ اگلے الیکشن اپنے مقررہ وقت پر اگست 2023 کے بعد ہوں گے اور اگر عمران اس سے پہلے پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں توڑنا چاہیں تو شوق سے ایسا کریں تا کہ وہاں فوری نئے انتخابات کروائے جا سکیں۔ حکومتی ذرائع نے بتایا کہ اسحاق ڈار سے ملاقاتوں میں صدر علوی نے نئے الیکشن کے حوالے سے بات کی تو اسحاق ڈار نے حکومتی موقف دہرایا کہ الیکشن وقت پر ہوں گے تا کہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کر سکے۔ تاہم وزیر خزانہ نے یہ پیشکش کی کہ اگر عمران اسمبلیاں توڑنے کا ارادہ ملتوی کر کے قومی اسمبلی میں واپس آنا چاہیں تو انکا راستہ نہیں روکا جائے گا۔ یاد رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ مسلسل یہ حکومتی موقف دہرا رہے ہیں کہ عمران دھمکیاں دینے کی بجائے فوری طور پر صوبائی اسمبلیاں توڑیں تاکہ وہاں نئے انتخابات کرائے جاسکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان خود کشی کرنے کے لئے چھت پر چڑھ ہی گئے ہیں تو چلانگ لگائیں بجائے کے بہانے تراشتے رہیں۔

صدر عارف علوی اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے درمیان ملاقاتوں کا ایجنڈا بیان کرتے ہوئے حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کا بنیادی ایجنڈا ملکی معیشت سنبھالنے کے لیے کچھ مجوزہ اقدامات پر اتفاق رائے کرنا اور صدر کو اعتماد میں لینا ہے۔ اس دوران صدر کی جانب سے عمران کے لیے بعض رعایات طلب کی گئی ہیں جنہیں کہ "این آر او” بھی کہا جا سکتا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ وہ عمران کو فیس سیونگ تو فراہم کر سکتی ہے لیکن ان کا کوئی غیر آئینی مطالبہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ حکومتی سائڈ کا موقف ہے کہ عمران نے لانگ مارچ بھی کر کے دیکھ لیا اور تحریک بھی چلا لی لیکن اگر اب بھی انکی تسلی نہیں ہوئی تو وہ ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر نکلنے کا شوق پورا کر لیں۔ یاد رہے صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کے اعلان پر عملدرآمد میں مسلسل ناکامی نے عمران کو گزشتہ چار برس کے حکومتی اور اپوزیشن ادوار میں اب تک کی کمزور ترین پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے اور وہ خود کو بے بس محسوس کر رہے ہیں۔ ایک طرف پنجاب میں بظاہر ان کی محبت کا دم بھرنے والے اتحادی وزیر اعلی پرویز الہی اسمبلی کی تحلیل سے تقریبا” انکار کر چکے ہیں اور انہوں نے اعلانیہ طور پر کہہ دیا ہے میں نے عمران کو مارچ تک اسمبلی نہ توڑنے پر قائل کر لیا ہے۔ دوسری طرف خیبر پختونخواہ اسمبلی میں بھی عمران کے فیصلے کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے ،جس کا اظہار صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے کسی لگی لپٹی کے بغیر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے پنجاب اسمبلی توڑی جائے جس کے بعد ہی خیبر پختونخوا کی اسمبلی توڑی جا سکتی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق عمران سب سے بڑے صوبے پنجاب سمیت خیبر پختون خوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حکومتیں اپنے ہاتھ میں ہونے کے باوجود خود کو تہی دامن محسوس کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جہاں ایک طرف سے عمران کو اسمبلیوں کی تحلیل کے معاملے میں ناکامی کا سامنا ہے ، وہاں دوسری طرف وہ مختلف کیسز اور سکینڈلز کے باعث خود کو شدید دباؤ میں محسوس کر رہے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ کسی ایک کیس میں  بھی نااہلی کی صورت میں وہ سیاست سے مائنس ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اگرچہ عمران کو توشہ خانہ ریفرنس اور فارن فنڈنگ کیس میں ممکنہ نااہلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تاہم اس وقت ان کے لیے سب سے زیادہ اہمیت انکی ناجائز بیٹی ٹیریان کا کیس اختیار کر گیا ہے، یہ کیس لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اور اس میں انہیں غلط بیانی کے الزام کے تحت نااہلی کا سامنا ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ ماضی میں عدالتین اس کیس کو غیر سنجیدہ قرار دے کر مسترد کر چکی ہے تاہم اس بار کیلی فورنیا کی عدالت میں عمران خان کی جانب سے جمع کرائے گئے بیان حلفی کو عدالتی  ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے اور اس کی مصدقہ کاپی جمع کرائی گئی ہے۔ عدالت میں پیش کیے جانے والے بیان حلفی میں عمران خان نے یہ تسلیم کر رکھا ہے کے ٹیریان وائٹ ان کی بیٹی ہے، جسے اس کی خواہش کے مطابق اس کی والدہ کیرولینا وائیٹ کی سرپرستی میں دیا جا رہا ہے۔ اس بیان حلفی کے حوالے سے پٹیشنر محمد ساجد نے اپنے وکیل کے ذریعے عدالت سے استدعا کی ہے کہ چونکہ عمران نے الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں صرف اپنے دو بیٹوں کا ذکر کیا ہے اور تیسری بیٹی کا حوالہ نہیں دیا لہذاغلط بیانی پر انہیں نااہل قرار دیا جائے۔ عدالت نے عمران کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتے کا وقت دیا ہے جس کے بعد پٹیشن کے قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر ملکی عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویز کی بنیاد پر اگر عمران کو سزا سنائی جاتی ہے تو ان کے لیے حکومت یا عدالت پر جانبداری کا الزام لگانا آسان نہیں ہوگا۔

Back to top button