صدرعلوی اورعمران کیخلاف آئین شکنی کا ریفرنس تیار

اطلاعات ہیں کہ شہباز شریف حکومت نے صدر عارف علوی اور عمران خان سمیت کئی سابقہ حکومتی شخصیات کے خلاف آئین شکنی کے الزام پر آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ کارروائی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی بنیاد پر کی جائے گی جس میں ڈپٹی سپیکر کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے کا فیصلہ غیر آئینی قرار دیا گیا تھا اور وزیراعظم کی ایڈوائس پر توڑی گئی قومی اسمبلی بحال کر دی گئی تھی۔
ذرائع نے دعوی ٰکیا ہے کہ حکومت نے صدر عارف علوی، سابق وزیر اعظم عمران خان، قاسم سوری اور عمر سرفراز چیمہ کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے دستور پاکستان پر عمل درآمد سے متعلق بڑا فیصلہ کرتے ہوئے آئین شکنی کے جرم میں سابق حکومت کی اہم شخصیات کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزرات قانون وانصاف اور وزرات داخلہ نے ریفرنس کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے عمل میں واضح آئین شکنی کی گئی، صدر عارف علوی، ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے عمران خان کے ایماء پر آئین شکنی کی، دستور کوسبوتاژ کیا، پنجاب اسمبلی میں آئینی عمل کو سبوتاژ کیا گیا اور گورنر نے آئین شکنی کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر عارف علوی نے پارٹی چیئرمین کے حکم پر آئین پاکستان قربان کر دیا، ان شخصیات پر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے آئین پر عمل درآمد کرنے کے واضح احکامات کی نفی کا جرم بھی عائد کیا جائے گا۔ ان لوگوں کے بیانات کا ریکارڈ قومی اور پنجاب اسمبلی سے حاصل کرنے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا گیا ہے جسے شواہد کے طور پر ریفرنس کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ قانون کے تحت آرٹیکل 6 کی کارروائی کرنے کی مجاز وفاقی حکومت ہے، قانون کے تحت وفاقی حکومت ریفرنس تیار کرکے دائر کرتی ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ قائم مقام سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی جانب سے تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے اور ووٹنگ کرائے بغیر اجلاس ملتوی کرنے اور عمران خان کی جانب سے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کی موجودگی کے باوجود قومی اسمبلی توڑنے کی ایڈوانس دینے اور صدر علوی کی جانب سے اس پر عمل کرنے کے اقدامات واضح طور پر آئین شکنی کے زمرے میں آتے ہیں جنکی زیادہ سے زیادہ سزا آرٹیکل 6 کے تحت موت ہے۔ پاکستانی سیاسی تاریخ میں آج دن تک صرف جنرل پرویز مشرف پر آئین شکنی کے تحت کیس چلا تھا اور اسے سزائے موت سنائی گئی تھی جس سے بچنے کے لیے سابق فوجی آمر بیرون ملک فرار ہوگیا۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ عمران خان اور ان کے اسپیکر نے جو حرکت کی ہے اس کے بعد ان دونوں کے خلاف بھی آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا قوی امکان موجود ہے۔ اگر ایسا ہوا تو عمران خان پہلے سویلین حکمران ہوں گے جن کو آئین شکنی کے الزام کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یاد رہے کہ قاسم سوری نے یہ کہہ کر وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد مسترد کی تھی کہ یہ تحریک ایک بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے اور آئین اور قومی مختاری و آزادی سے منافی ہے۔ لہٰذا یہ تحریک رولز اور ضابطے کے خلاف ہے اور میں اسے مسترد کرنے کی رولنگ دیتا ہوں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قاسم سوری نے جو رولنگ دی وہ تحریری شکل میں موجود تھی اور وہ اسے کاغذ سے پڑھ رہے تھے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ روانی میں اسد قیصر کا نام بھی پڑھ گئے جنہوں نے کہ اجلاس کی صدارت کرنا تھی، لیکن ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر کر دی گئی تھی۔ ڈپٹی سپیکر کی جانب سے آئین شکنی کے فوراً بعد عمران خان نے قوم کو ایک ریکارڈ شدہ خطاب میں مبارکباد پیش کرتے ہوئے بتایا تھا کہ انہوں نے صدر علوی کو قومی اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس دے دی ہے۔
آئینی ماہرین کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد پر فیصلہ لازمی تھا اور ویسے بھی وزیراعظم اپنے خلاف تحریک داخل ہونے کے بعد اسمبلی توڑنے کا آئینی اختیار کھو چکے تھے۔ لہٰذا ان کی جانب سے اسمبلی توڑنے کا فیصلہ بھی غیر آئینی تھا۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ عمران خان اور قاسم سوری نے آئین شکنی کی جو غداری کے زمرے میں آتی ہے اور اس کی سزا موت ہے۔ آئینِ کا آرٹیکل 6 کہتا ہے کہ ’ہر وہ شخص غدار ہے جو طاقت کے استعمال یا کسی بھی غیر آئینی طریقے سے آئینِ پاکستان کو منسوخ، تحلیل، معطل یا عارضی طور پر بھی معطل کرتا ہے یا ایسا کرنے کی کوشش بھی کرتا یا ایسا کرنے کی سازش میں شریک ہوتا ہے۔‘ یہ آئینی تعریف کی وہ شکل ہے جو آئین میں 18ویں ترمیم کے بعد سامنے آتی ہے۔
