صرف سخت لاک ڈاؤن سے ہی کرونا کا پھیلاؤ روکا جا سکتا ہے

خواتین پر مشتمل ینگ ڈاکٹرز ایسوی ایشن نے کہا ہے کہ اگر حکومت لاک ڈاؤن پر 6 ہفتے تک سخت سے عملدرآمد کرادے تو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔
اس ضمن میں ڈاکٹر نگہت نے کہا کہ حکومت اپنے فرائض انجام دینے میں ناکام ہے اس لیے ڈاکٹروں مجبور ہوگئے کہ وہ حکومت کے کام کرے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹر احتیاطی تدابیر اختیار کیے جانے کو یقینی بنانے میں ناکام ہوگئے تو ڈاکٹرعلاج اور ویکسین تیار کرنے پر کام نہیں کرسکیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک کا صحت کا نظام بڑھتے ہوئے کیسز کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔ڈاکٹر نگہت نے کہا کہ ڈاکٹروں مجبور ہوگئے کہ انہوں نے لوگوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ’درخواستیں‘ کی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مذہب پیروکاروں کو بیماری کے سامنے آنے کا نہیں کہتا۔
اس موقع پر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی ڈاکٹر نصرت نے کہا کہ وائرس سے متاثرہ حاملہ خواتین کو بچانے میں ڈاکٹروں کو مشکل پیش آرہی ہے۔انہوں نے کہا کہ زیادہ تر خواتین اس وقت ہسپتال آتی گئیں جب وہ شدید بیمار ہوتی ہیں۔ڈاکٹر نصرت نے کہا وائرس نے ماں اور بچے دونوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا۔خواتین پر مشتمل ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ لوگ لاک ڈاؤن پر عمل پیرا ہوں۔انہوں نے کہا کہ اگر ملک ڈیڑھ ماہ تک سخت لاک ڈاؤن میں رہا تو وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
پریس کانفرنس میں موجود ڈاکٹر صفیہ نے کہا کہ لاک ڈاؤن جن دنوں سخت تھا تو کرونا کے کیسز قابو میں تھے، جیسے ہی لاک ڈاؤن میں نرمی ہوئی کورونا کیسز کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔پریس کانفرنس کے دوران احتیاط کی ہدایات دیتے ہوئے ڈاکٹر نصرت آبدیدہ ہوگئیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کو کچھ ہوا تو کون کورونا کے مریض سنبھالے گا؟انہوں نے کہا کہ اپنی جان کی تو پروا نہیں لیکن اپنی فیملی کی تو سب کو پروا ہوتی ہے، یہ نہ سمجھیں ڈاکٹر جان چھڑانا چاہ رہے ہیں، تاجر حضرات تھوڑا سا نقصان برداشت کرلیں، منافع بھول جائیں۔ڈاکٹرز نے کہا کہ جیسے ہی لاک ڈاؤن میں نرمی ہوئی کورونا کیسوں کی شرح میں اضافہ ہوگیا، حکومت لاک ڈاؤن کو مزید سخت اور مؤثر بنائے۔
واضح رہے کہ ملک میں پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ملک میں وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 11 ہزار 513 تک پہنچ چکی ہے جبکہ اس وائرس سے اب تک 242 افراد انتقال بھی کرچکے ہیں۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے ملک بھر میں کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن میں 9 مئی تک توسیع کردی ہے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے گزشتہ روز حکومت پر تنقید کی تھی کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کر کے وزیراعظم عمران خان نے لوگوں کی زندگیوں سے کھیلا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button