صنم سعید بینکاک سے واپس آکر دوبارہ قید میں ہیں

مشہور پاکستانی اداکارہ صنم سعید ایک ماہ سے زائد عرصہ تک کرونا کے باعث بینکاک میں پھنسے رہنے کے بعد پاکستان تو پہنچ گئے ہیں لیکن ابھی ان کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں اور وہ اب تک اپنے گھر نہیں پہنچ پائیں ہیں۔
یاد رہے کہ لالی ووڈ فلم ’عشرت میڈ ان چائنا‘ کی شوٹنگ کےلیے تھائی لینڈ گئے ہوئے پاکستانی اداکار شمعون عباسی، محب مرزا، صنم سعید اور سارہ لورین ایک ماہ کے انتظار کے بعد جیسے تیسے کر کے وطن واپس تو آگئے تاہم وہ اب مزید مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان فنکاروں کو گھر جانے کی اجازت نہیں ملی اور انہیں اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں قرنطینہ کردیا گیا ہے جہاں پر وہ بالکل بھی خوش نہیں ہیں۔ مہنگے ٹکٹ خرید کر سفر کرنے کے بعد پاکستان پہنچنے پر ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے بےجا رقم کے مطالبے اور بلیک میلنگ نے ان کی پریشانیوں میں اضافہ کردیا ہے۔ وطن واپسی پر اداکارہ صنم سعید نے ٹوئٹر پر اپنی واپسی اور قرنطینہ میں منتقل ہونے کا ہولناک تجربہ مداحوں کے ساتھ شیئر کیا ہے۔
فلم کی کاسٹ تھائی لینڈ میں محب مرزا کی ہدایات میں بننے والی فلم ’عشرت میڈ ان چائنا‘ کی شوٹنگ میں مصروف تھی جب کرونا وائرس کے باعث کئی ممالک میں لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا جس کے باعث پاکستان میں بھی پروازیں معطل کردی گئیں۔ بعدازاں فلم کی ٹیم 20 دنوں کےلیے تھائی لینڈ میں ایک ہوٹل میں محصور رہی جب کہ اس دوران اداکاروں نے حکومت پاکستان سے انہیں واپس لانے کےلیے اپیل بھی کی۔ صنم سعید کے مطابق پاکستان پہنچنے کے بعد تمام مسافروں کو فوری طور پر تنہا کردیا گیا لیک ان سے روزانہ بھاری رقم کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔ اداکارہ نے ٹوئٹ میں بتایا کہ پاکستان واپسی آنے کےلیے صرف ایک طرف کا ٹکٹ ہی ایک لاکھ 11 ہزار روپے کا خریدنا پڑا۔ اس کے علاوہ ہوٹل میں ہر کھانے کے لیے ایک ہزار روپے علیحدہ سے چارج کئے جارہے ہیں۔ وہ مسافر، جو اس ہوٹل میں مقیم ہیں، انہیں پورے ہفتے کے پیسے ایک ساتھ جمع کرانے پر بھی مجبور کیا جارہا ہے اور ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے دھمکی بھی دی جا رہی یے کہ ایسا نہیں کیا گیا تو ہوٹل فوری طور پر چھوڑ کر جانا ہوگا۔
صنم سعید نے واضح کیا کہ مسافروں کو پہلے یہی کہا گیا تھا کہ ہوٹل میں ان کی رہائش مفت ہوگی لیکن جب ہوٹل میں منتقل کیا گیا تو پھر کرایہ بھی مانگ لیا گیا اور کھانے کے پیسے بھی چارج کیے جا رہے ہیں حالانکہ بہت سارے لوگ تھائی لینڈ میں طویل قیام کے باعث اپنی جیبیں خالی کر بیٹھے تھے۔ اداکارہ نے مزید کہا کہ مسافروں کو پہلے سے ہی بتانا چاہیے تھا کہ واپسی پر انہیں کس صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مذید کہا کہ سفارت خانوں کو بھی چاہیے تھا کہ وہ مسافروں کو پہلے سے آگاہ کریں تاکہ لوگ ذہنی، جسمانی اور مالی طور پر اس سب کےلیے تیار رہتے‘۔
اداکار شمعون عباسی نے بھی اس حوالے سے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے ہوٹل پر بھتہ خوری کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ’ایئرپورٹ پر ہمیں بتایا گیا کہ ہم رمادا ہوٹل میں رکیں گے، اس وقت نہ تو ہم نے ایسا کرنے کو کہا تھا اور نہ ہی ہم سے پوچھا گیا تھا، ہمیں بتایا گیا کہ اس دوران ہمیں کھانے پینے اور رہنے کی مفت سہولت فراہم کی جائے گی لیکن اب ہوٹل کی انتظامیہ ہمیں دھمکیاں دے رہی ہے کہ اگر ہم نے فوری طور پر معاوضہ ادا نہیں کیا تو ہمیں اسی وقت یہ ہوٹل چھوڑ کر جانا ہوگا‘۔ شمعون عباسی کا مزید کہنا تھا کہ ’ایسے کئی لوگ ہیں جو نہیں جانتے کہ اتنی بڑی رقم کیسے دیں گے کیوں کہ ہم سب پہلے ہی مہنگی ٹکٹیں اور لمبے قیام کے اخراجات بھگت کر یہاں تک پہنچے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایئرپورٹ پر مسافروں کو بتایا گیا کہ انہیں ہوٹل میں ایک رات کے لیے رہنا ہوگا جس کے بعد صبح کرونا کا ٹیسٹ کیا جائے گا جب کہ 6 گھنٹوں بعد اس کے نتائج بھی آجائیں گے اور اگر نتائج منفی ہوں تو پھر وہ گھر جاسکتے ہیں۔
اداکار کے مطابق بعدازاں انہیں مینجمنٹ نے کہا کہ وہ ہمارا ٹیسٹ نہیں کریں گے اور ہوٹل میں رہنے کےلیے ہمیں مزید پیسے دینے ہوں گے۔ شمعون عباسی نے مطالبہ کیا کہ ان کا اور دیگر مسافروں کو فوری ٹیسٹ کیا جائے کیوںکہ وہ بیرون ملک پہلے سے قرنطینہ میں تھے۔ اداکار نے حکام سے اس معاملے کی تحقیقات کی درخواست بھی کی۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس سلسلے میں اب کیا اقدامات اٹھاتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button