صوابی، تھانے میں دھماکہ،راہگیر بچہ جاں بحق، پولیس اہلکار شہید

خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی میں تھانے کے اندر ہونے والے زور دار دھماکے کے نتیجے میں عمارت زمین بوس ہوگئی، جبکہ ایک اہلکار شہید، ایک راہگیر بچہ جاں بحق جبکہ 33 افراد زخمی ہو گئے۔

دھماکے سے متعلق سینٹرل پولیس آفس کو موصول ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ دھماکا پولیس اسٹیشن کی پہلی منزل کے مال خانے کے کمرے میں دھماکا ہوا۔ابتدائی طور پر لگتا ہے کہ دھماکا شارٹ سرکٹ کے باعث ہوا۔رپورٹ کے مطابق دھماکے کے بعد پولیس اسٹیشن میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔

ضلعی پولیس آفیسر نے کہا ہے کہ دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جارہا ہے جبکہ اس کے باعث عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔ واقعے کے بعد جائے وقوعہ پر ریسکیو رضاکار اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں پہنچ گئی ہیں جبکہ سیکیورٹی کو ہائی الرٹ بھی کردیا گیا ہے۔جائے وقوعہ پر ریسکیو رضاکاروں نے امدادی کام شروع کرتے ہوئے زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی طلب کرلیا گیاہے۔

ڈی پی او صوابی ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ پولیس اسٹیشن دھماکے میں زخمی ہونے والا راہگیر بچہ دوران علاج دم توڑ گیا۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے میں زخمی 33 افراد مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

ایم ایس ڈی ایچ کیو صوابی ڈاکٹر آصف کے مطابق 26 زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال لایا گیا۔دوسری جانب ترجمان باچا خان میڈیکل کمپلیکس رحم خان نے بتایا کہ 8 زخمیوں کو بی ایم سی لایا گیا۔

ادھر وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈاپور نے صوابی کے تھانے میں ہونے والی دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے آئی جی پی اور چیف سیکرٹری کو فوری طور پر دھماکے کی جگہ پہنچنے کی ہدایت کردی۔ وزیراعلیٰ نے دھماکے کی نوعتی کا تعین کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔وزیر اعلی نے متعلقہ ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ کو فوری طور ریسکیو کاروائیاں شروع کرنے کی ہدایت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے ساتھ بروقت طبی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عمارت کے مال خانے میں دہشت گردوں سے برآمد ہونے والا بارودی مواد شارٹ سرکٹ کے باعث دھماکے سے پھٹ گیا اور متعدد دھماکے ہوئے ہیں۔

Back to top button