صوبائی اسمبلیاں توڑنے کا فائدہ PTI کو ہو گا یا PDM کو؟

عمران خان کی جانب سے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے اسمبلیاں توڑنے کے اعلان کے بعد سے یہ بحث جاری ہے کہ آیا اس فیصلے سے تحریک انصاف کو فائدہ ہو گا یا پھر حکمران اتحاد کو؟ بنیادی وجہ یہ ہے کہ اگر اسمبلیاں توڑنے کے باوجود وفاقی حکومت برقرار رہتی ہے اور دو دونوں صوبوں میں نئے الیکشن کروا کر پنجاب میں اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو عمران کی گیم الٹ جائے گی۔ ویسے بھی پی ٹی آئی کے اکثریتی اراکین اسمبلی چاہتے ہیں کہ اگلے الیکشن سے پہلے ان کے حلقوں میں ترقیاتی منصوبے مکمل ہو جائیں اور پھر نیا انتخاب ہو تاکہ وہ جیتنے کی پوزیشن میں ہوں۔
لیکن دوسری جانب تحریک انصاف کی جانب سے اعلان کیا جا چکا ہے کہ اگر حکومت 20 دسمبر تک عام انتخابات کا فارمولا نہیں لاتی تو دو صوبائی اسمبلیاں توڑ دی جائیں گی۔ عمران خان نے بھی ایک مرتبہ پھر واضح اعلان کر دیا یے کہ اسمبلیوں کی تحلیل کا فیصلہ اس ماہ ہو جائے گا۔
اس سیاسی صورتِ حال میں تبصرے کیے جارہے ہیں کہ کیا پی ٹی آئی اکثریت رکھنے والے دو صوبوں میں واقعی اسمبلیاں تحلیل کر کے 65 فیصد پاکستان میں اپنی حکمرانی ختم کر دے گی؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا حکمران اتحاد صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہونے کے باوجود قبل از وقت عام انتخابات کے بجائے صرف صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کرائے گا؟ پنجاب اور خیبر پختون خوا کی اسمبلیوں کی تحلیل بارے سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا یے کہ اس اقدام سے پی ٹی آئی کو سیاسی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ نقصان پہنچنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پنجاب اور خیبر پختون خوا اسمبلیوں کے تحلیل کے بعد انتخابات کرائے جاتے ہیں تو وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی اتحادی حکومت ہوگی جس کا فائدہ وہ اٹھائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی چاہے گی کہ وفاق اور صوبوں میں ایک ساتھ الیکشن ہوں۔ اس لیے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کرنے کا فیصلہ کن وار اسی وقت کیا جائے گا جب خان صاحب کو لگے گا کہ اس کے نتیجے میں پورے ملک میں ایک ساتھ انتخابات ہو جائیں گے۔
تجزیہ نگار افتخار احمد نے کہا کہ کہ اصولی طور پر حکمران اتحاد کا مؤقف ہے کہ انتخابات دباؤ کے تحت نہیں ہونے چاہیئں کیوں کہ اس طرح تو نظامِ حکومت چل ہی نہیں سکے گا اور آئے روز کوئی نہ کوئی گروہ انتخابات کا مطالبہ کرتا رہے گا۔ افتخار نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) انتخابات سے بچنا چاہتی تھی لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کی تحلیل کرنے کے بیانات پر اب حکمران جماعت بھی ان صوبوں میں انتخابات میں جانے کی بات کر رہی ہے۔
انتخابات اور انتخابی سیاسی کے حوالے سے وسیع تجربہ رکھنے والے افتخار احمد کہتے ہیں کہ پاکستان میں انتخابی سیاست اور جلسہ جلوس میں بہت فرق پایا جاتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ جو جماعت سڑکوں پر طاقت رکھتی ہے وہ کامیابی کے لیے درکار ووٹ بھی حاصل کرسکے۔ ان کے بقول انتخابی سیاست، حلقوں، برادریوں، امیدواروں کے انتخاب سمیت کئی عوامل پر منحصر ہوتی ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل پر حکمران اتحاد بھی واضح مؤقف کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ دو بڑی حکمران جماعتوں نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کی جانب سے عمران کو بار بار چیلنج کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے اعلان کے مطابق اسمبلیاں توڑیں تاکہ وفاقی حکومت دونوں صوبوں میں فوری نئے الیکشن کروا دے۔ پی ڈی ایم کی قیادت کا موقف یے کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں لیکن پارلیمان کو اپنی مدت مکمل کرنی چاہیے۔ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ اتحادی حکومت نے عمران مخالف عدم اعتماد کی تحریک کو کامیاب بنا کر تاریخ رقم کی ہے اور اب اگر پی ٹی آئی اسمبلیاں تحلیل کرتی ہے تو دو صوبوں میں انتخابات کرا کر نئی روایت قائم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں عام انتخابات وقت پر ہی ہوں گے۔ وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ کا بھی کہنا ہے کہ عمران سمبلیاں توڑنے کا اعلان کریں تو ہم 90 روز کے اندر ان اسمبلیوں میں دوبارہ انتخابات کرائیں گے۔
اس سے قبل حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے رہنما عمران کو صوبائی اسمبلیاں تحلیل نہ کرنے کا مشورہ دیتے تھے۔ مبصرین سمجھتے ہیں کہ حکومت فوری انتخابات نہیں چاہتی لیکن انتخابات سے گریز کے بیانات ان کی کمزوری کو ظاہر کریں گے لہٰذا اب حکومتی رہنما صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل پر مقابلے کی باتیں کر رہے ہیں۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ آئندہ سال چوں کہ انتخابات کا سال ہے تو مسلم لیگ (ن) بہر صورت اس سے بچ نہیں سکتی ہے لیکن اس کی حکمتِ عملی یہ ہوگی گی کہ عام انتخابات میں جس قدر تاخیر ہوسکے اس کے امکانات بنائی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت عمران کی مقبولیت کی لہر ہے تو مسلم لیگ (ن) انتخابات کے فوری انعقاد کو سیاسی طور پر موافق نہیں سمجھتی ہے۔ افتخار احمد سمجھتے ہیں کہ حکمران اتحاد نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ اگر پی ٹی آئی پنجاب و خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کرتی ہے تو عام انتخابات کی بجائے ان دو صوبوں میں انتخابات میں جائیں گے۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ ان کی نظر میں اسمبلیاں تحلیل ہونے نہیں جا رہیں۔
سہیل وڑائچ بھی سمجھتے ہیں کہ نئی سیاسی صورتِ حال میں مسلم لیگ (ن) اب انتخابات کی تیاری کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے اور انہیں لگتا ہے کہ نواز شریف واپس آکر ایسا بیانیہ بنائیں گے کہ انتخابات میں انہیں کامیابی حاصل ہوگی۔
