ضمانت سے انکار کے بعد نواز شریف کی سزا بحال ہو چکی؟

حکومت پنجاب کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی ضمانت میں مزید توسیع نہ کرنے کے فیصلے کے بعد اگر عدالت نے بھی سابق وزیراعظم کی علاج کیلئے ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کردی تو قانونی طور پر ان کی العزیزیہ کیس میں سنائی گئی سزا بحال ہو جائے گی اور ان کا سٹیٹس ایک اشتہاری ملزم کا ہوجائے گا۔
یاد رہے کہ حکومت پنجاب نے نواز شریف کی درخواست ضمانت میں مزید توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو بھی خط لکھ دیا ہے۔ وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد لاہور میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت پنجاب نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کیس میں سزا پانے والے نواز شریف کی درخواست ضمانت میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ راجہ بشارت نے کہا کہ نواز شریف کو عدالت کی جانب سے علاج کے لیے آٹھ ہفتوں کی ضمانت دی گئی تھی لیکن 16 ہفتے گزرنے کے باوجود نواز شریف تو ابھی تک کسی ہسپتال میں بھی داخل نہیں ہوئے۔
تاہم حکومت پنجاب کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے شہباز شریف نے اسے حکمرانوں کی کم ظرفی اور سیاسی انتقام کا ثبوت قرار دیا ہے، شہبازشریف نے کہا کہ پنجاب حکومت کا یہ جھوٹ بھی قابل مذمت ہے کہ نوازشریف کا علاج پاکستان میں ممکن تھا، انہوں نے کہا کہ علاج کسی بھی انسان کا بنیادی انسانی اورقانونی حق ہے، نوازشریف کو زندہ رہنے کے حق سے محروم کیاجارہا ہے، ہم نوازشریف کے علاج پر سمجھوتہ نہیں کریں گے اور ڈاکٹرز کی ہدایات کے مطابق ان کا علاج جاری رکھیں گے.
یاد رہے کہ نوازشریف کی العزیزیہ کیس میں عدالت سے سزا معطلی کا دورانیہ 29 دسمبر 2019 کو ختم ہو گیا تھا جس کے بعد اب مزید آٹھ ہفتے گزر چکے ہیں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی طرف سے نواز شریف کی ضمانت میں مزید توسیع سے انکار کے بعد قانونی طور پر میاں صاحب کی سزا بحال ہوچکی ہے اور اگر عدالت نے بھی ان کی مزید ضمانت کی درخواست مسترد کردی تو ان کا سٹیٹس ایک اشتہاری کا ہوجائے گا۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 29 اکتوبر کو آٹھ ہفتوں کے لیے نواز شریف کی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اپنے فیصلے میں عدالت نے مقدمہ نمٹاتے ہوئے درخواست گزار کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس معاملے پر آئندہ پنجاب حکومت سے رابطہ کریں کیونکہ ضابطہ فوجداری کے تحت کوئی بھی صوبائی حکومت کسی بھی مجرم کی سزا معطلی کا اختیار رکھتی ہے اور اس کے لیے عدالت آنے کی ضرورت نہیں۔تاہم دسمبر کے دوسرے ہفتے میں مسلم لیگ ن نے وکیل خواجہ حارث کے ذریعے پنجاب حکومت کو درخواست دی تھی کہ نواز شریف کی صحت بحال نہیں ہو سکی لہذا ان کی سزا معطلی کا دورانیہ بڑھایا جائے جو 29 دسمبر کو ختم ہو رہا ہے ۔ تاہم حکومت پنجاب نے اس درخواست کا فیصلہ کرنے میں مزید آٹھ ہفتے ضائع کر دئیے اور اب نواز شریف کی ضمانت میں مزید توسیع دینے سے انکار کر دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button