ضمانت میں عدم توسیع پر نواز شریف کا وطن واپسی کا فیصلہ

پنجاب حکومت کی جانب سے لندن میں علاج کی غرض سے مقیم نواز شریف کے قیام میں توسیع کی اجازت نہ دینے اور فوری ملک واپس نہ آنے پر انہیں عدالت کے ذریعے اشتہاری قرار دلوانے کے اعلان کے بعد میاں صاحب نے جلد ملک واپسی کا ارادہ کر لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف کی والدہ اور بچے چاہتے ہیں کہ وہ علاج مکمل کروائے بغیر پاکستان نہ جائیں۔ ان کی بھرپور کوشش ہے کہ کسی طرح عدالت سے ریلیف حاصل کرکے نواز شریف کو برطانیہ میں قیام بڑھانے پر قائل کیا جائے۔ تاہم میاں صاحب کا یہ کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ان کے خلاف جس طرح کا زہریلا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے وہ ان کی سیاسی ساکھ کے لیے زہر قاتل ہے لہذا بہتر یہی ہے کہ وہ آپریشن کرواتے ہی ملک واپس آجائیں تاکہ ان کے ہمدردوں کو یقین ہوجائے کہ وہ جیل سے نہیں بھاگ رہے۔
واقفان حال کا کہنا ہے کہ گزشتہ سولہ ہفتوں سے علاج کی غرض سے برطانیہ میں مقیم نواز شریف حکومت کے رویے پر سخت دلبرداشتہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کپتان اینڈ کمپنی نے میری بیماری پر سیاست شروع کر دی ہے اور یہ پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ نواز شریف جھوٹ موٹ بیمار ہونے کا ڈرامہ کر رہا ہے لہذا اب میں لندن میں لمبا قیام نہیں کرسکتا۔ لیگی ذرائع نے بتایا ہے کہ میاں نواز شریف نے اپنی والدہ، صاحبزادوں اوربیٹی مریم نواز سے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ جلد از جلد پاکستان واپس آنا چاہتے ہیں چاہے وطن واپسی پر دوبارہ سے جیل میں کیوں نہ ڈال دیا جائے لیکن وہ حکومت کو ان کی بیماری پر سیاست کرنے کی قطعی اجازت نہیں دیں گے۔
واقفان حال کا مزید کہنا ہے کہ شریف فیملی بالخصوص نواز شریف کی والدہ اور انکے صاحبزادے چاہتے ہیں کہ وہ عدالت کے ذریعے قیام میں توسیع حاصل کرکے علاج جاری رکھیں۔ تاہم نواز شریف بضد ہیں کہ چونکہ ان کی بیماری کو متنازعہ بنایا جارہا ہے اور یہ ان کی سیاسی ساکھ کا سوال ہے اس لیے وہ آپریشن کے بعد برطانیہ میں مزید قیام نہیں کریں گے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے اپنے بھائی شہباز شریف سے کہہ دیا ہے کہ وہ آپریشن کے بعد فوری طور پر ان کی وطن واپسی کا انتظام کریں۔ انہیں کوئی پرواہ نہیں چاہے انہیں پاکستان واپسی پر دوبارہ جیل بھیج دیا جائے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے نواز شریف کے برطانیہ قیام میں توسیع نہ کرنے اور انہیں اشتہاری قرار دلوانے کی کارروائی پر نواز شریف سخت دل گرفتہ ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کے لئے فورا وطن واپس آئیں۔
تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ نواز شریف کی وطن واپسی سے نون لیگ کی سیاست میں ایک نئی جان پڑ جائے گی کیونکہ جب انہیں علاج کےلئے برطانیہ بھجوایا گیا تھا تو اس وقت دوسرے درجے کی لیگی لیڈرشپ جس میں شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال اور رانا ثناء اللہ خان شامل ہیں، سب جیل میں تھے۔ تاہم اب یہ تینوں مرکزی رہنما جیل سے باہر آ چکے ہیں۔ دوسری جانب مریم نواز شریف بھی سزا معطلی کے بعد رائیونڈ میں اپنے گھر پر مقیم ہیں۔ ایسے میں اگر نوازشریف بیماری کے باوجود وطن واپس آتے ہیں اور انہیں جیل میں ڈال دیا جاتا ہے تو مریم نواز اور نون لیگ کے دیگر رہنما حکومت مخالف تحریک شروع سکتے ہیں جو کہ کپتان حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں اب ہواؤں کا رخ بدل چکا ہے اور اگر ن لیگ نے کوئی بڑی مزاحمتی تحریک شروع کر دی اور مریم نواز سڑکوں پر آگئیں تو اسٹیبلشمنٹ بھی کپتان کی حکومت کا کھل کر ساتھ نہیں دے گی کیونکہ آرمی چیف کی توسیع کے بعد سے اسٹیبلشمنٹ اور حکومت میں پہلے والی مثالی ورکنگ ریلیشن شپ برقرار نہیں رہی۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا اور شریف فیملی کے بڑوں کی بھرپور کوشش ہے کہ نواز شریف کو فی الحال برطانیہ میں ہی روکا جائے۔ اس حوالے سے نون لیگ نے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا ہے تاکہ نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کروائی جا سکے تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کیا نواز شریف اپنی بات پر قائم رہتے ہیں یا اپنے والدہ اور بچوں کی خواہش پر پاکستان واپسی کا فیصلہ ترک کر دیتے ہیں۔
