ضیاء نے کیسے عرب شیخوں کے لئے تلور کے شکار کی راہ ہموار کی؟

پاکستان میں معدومیت کے خطرے سے دوچار نایاب پرندے تلور کے شکار کی روایت نے 1980 کی دھائی میں جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں فروغ پایا جب پاکستان کے فوجی حکمران نے سعودی شیخوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے بلوچستان میں شکار کے خلاف مقامی افراد کی جانب سے کی جانے والی مزاحمت کو سختی کے ساتھ کچل دیا۔ ضیاء جنتا کے اس سخت ایکشن کے بعد گزرنے والی چار دہائیوں کے دوران بلوچستان میں شیخوں کی جانب سے تلور کے مسلسل شکار سے اب اس پرندے کی تعداد چند ہزار تک محدود ہو گئی یے لیکن تلور کا شکار اب بھی جاری ہے۔
بتانے والے کہتے ہیں کہ پاکستان میں عرب شیخوں کے ہاتھوں تلور کے شکار کی باقاعدہ شروعات 1970 کی دہائی کے اواخر اور 1980 کی دہائی کے آغاز میں ہوئی جب جنرل ضیا حکمران تھا۔ یہی وہ وقت تھا جب باقاعدہ طور پر تلور کے شکار کے لیے خلیجی ممالک سے عرب شیخ اور حکمران خاندانوں نے پاکستان آنا شروع کر دیا۔ ان دوروں کو نجی دوروں کا نام دیا گیا، جسے ضیا نے اپنے ذاتی تعلقات استوار کرنے کے لیے بھی استعمال کیا۔ اسی دہائی میں خلیجی ممالک میں تیل کی پیداوار کے نتیجے میں بے پناہ دولت آئی تھی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے شیخ نجی دوروں کے لیے زیادہ سے زیادہ پاکستان آنے لگے۔ دوسری طرف علاقے کے لوگوں نے عرب شیخوں کی بلوچستان آمد اور وسیع پیمانے پر شکار کے خلاف آواز بلند کرنا شروع کر دی۔ بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں نے بھی عرب شیوخ کو شکار گاہیں الاٹ کرنے کی مخالفت شروع کر دی۔
اسی دوران 1980 کی دہائی میں ایک واقعہ پیش آ گیا جب تلور کے شکار کی غرض سے سعودی شہزادے سلطان بن عبد العزیز نے بلوچستان کے ضلع چاغی میں ڈیرے ڈالے اور شکار مخالف مقامی افراد نے ان کے قافلے پر حملہ کردیا۔ اس واقعہ کے بعد تب کے فوجی حکمران جنرل ضیاالحق نے سعودی شہزادے کو مطمئن کرنے کےلیے ان سے ملاقات کی بہت کوشش کی لیکن انہوں نے ملنے سے انکار کردیا۔ تاہم اس کے باوجود جنرل ضیا زبردستی شہزادے کے پاس ملاقات کے لیے پہنچ گئے۔ اس ’زبردستی‘ کی ملاقات کا تذکرہ بلوچستان کے سابق چیف سیکریٹری میر احمد بخش لہڑی نے اپنی کتاب ‘آن دی مڈ ٹریک’ میں کیا ہے۔
یاد رہے کہ ضلع چاغی میں دالبندین کا علاقہ اب بھی شکار کے لیے سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے عیاش شہزادوں کے تلور کے شکار کے لئے مختص ہے۔ اس دور میں یہ علاقہ سعودی عرب کے تب کے سیکنڈ کراؤن پرنس اور وزیر دفاع شہزادہ سلطان بن عبد العزیز کو الاٹ کیا گیا تھا۔ سابق چیف سیکرٹری لکھتے ہیں کہ سنہ 1982-83 کی سردیوں میں جب ہجرت کرنے والے پرندے چاغی پہنچے تو سلطان بن عبد العزیز بھی دالبندین پہنچ گئے۔
وہ چند گاڑیوں اور لوگوں کے ساتھ نہیں آئے تھے بلکہ ان کے ہمراہ دو سے تین سو گاڑیوں کا ایک قافلہ تھا۔ یہ گاڑیاں اور خیمے سی ون 30 طیاروں کے ذریعے سعودی عرب سے پاکستان پہنچائے گئے تھے۔
کتاب کے مصنف کے بقول شکار کے حوالے سے غیرملکیوں کو شکار گاہیں الاٹ کرنے پر مقامی آبادی کی رائے منقسم تھی۔ بعض لوگوں کی یہ رائے تھی کہ ان کو شکار کےلیے علاقے الاٹ نہیں کرنے چاہییں کیوں کہ اس سے ان کی زرعی اراضی اور فصلوں کو نقصان پہنچتا تھا جب کہ ماحولیات کے تحفظ کے حامی تلور کے شکار کے مخالف گروہوں اور افراد کا کہنا تھا کہ اس سے یہ پرندہ مکمل معدومی کے خطرے سے دوچار ہو جائے گا۔ تاہم اس وقت بھی بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ ایک ہجرت کرنے والا پرندہ ہے اگر اسے یہاں شکار نہیں کیا گیا تو دوسرے علاقوں میں اسے شکار کیا جائے گا، اس لیے ہمیں اپنے خلیجی دوستوں کو زیرِ احسان رکھنے کےلیے ان کو شکار کی اجازت دینی چاہیے۔ ان لوگوں کی یہ بھی رائے تھی کہ غیر ملکیوں کی آمد سے یہاں معاشی سرگرمیوں کا آغاز ہوگا اور لوگوں کو روزگار ملے گا۔
مصنف کے مطابق اس منقسم رائے کے تناظر میں چند مخالفت کرنے والے مقامی لوگوں نے سعودی شہزادے کی شکار پارٹی پر حملہ کر دیا۔
حکومت پاکستان سعودی حکام کو اس واقعے کے بعد شہزادہ سلطان بن عبد العزیز کے ذریعے مطمئن کرنا چاہتی تھی، جن کی حیثیت حکمران خاندان میں تیسرے نمبر پر تھی۔ مصنف کے مطابق سابق صدر جنرل ضیا الحق اس مقصد کےلیے شہزادہ سلطان سے ملنا چاہتے تھے لیکن وہ تذبذب کا شکار تھے۔ ایوان صدر سے متعدد فون کالز آنے کے باوجود وہ بات نہیں کر رہے تھے۔ ایک رات دیر سے سابق صدر کے ملٹری سیکریٹری کا انہیں فون آیا اور بتایا کہ وہ ذاتی طور پر شہزادہ سلطان بن عبد العزیز سے ملیں اور ان سے ضیا الحق کی ملاقات کےلیے وقت لیں۔
سابق چیف سیکریٹری کے مطابق صدر کے ملٹری سیکریٹری کے کہنے پر جب اگلے روز وہ شام کو شہزادہ سلطان بن عبد العزیز سے پاس گئے اور ان سے وقت دینے کےلیے کہا تو انہوں نے شائستہ انداز میں ان کی درخواست کو مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ تعطیلات پر ہیں اور صدر ضیا سے ان کی ملاقات بڑے پیمانے پر پبلسٹی کا باعث بنے گی۔ تاہم شہزادے نے کہا کہ ان کے یہاں قیام کے خاتمے کے بعد صدر ان سے کوئٹہ یا کراچی میں ملاقات کر سکتے ہیں۔
احمد بخش لہڑی لکھتے ہیں کہ میں نے اس بات سے ایوان صدر کو آگاہ کیا لیکن اس کے بعد مجھے کہا گیا کہ صدر کے دورے کےلیے دو ہیلی پیڈز کی تعمیر کےلیے جگہ کی نشاندہی کی جائے، جس پر میں نے دالبندین ایئر اسٹرپ کے قریب ہیلی پیڈ بنانے کےلیے جگہ کا انتخاب کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی اہلکاروں نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا کہ صدر کو کہیں کہ وہ دورہ منسوخ کریں کیوں کہ شہزادہ سلطان بن عبد العزیز ان کا استقبال نہیں کریں گے جس سے سفارتی اور پروٹوکول کی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ سعودی اہلکاروں کے کہنے پر میں نے ایوان صدر میں حکام سے رابطہ کیا اور انہیں اس صورت حال سے آگاہ کیا۔ لیکن اگلے دن مجھے معلوم ہوا کہ پاکستان ورکس ڈپارٹمنٹ یعنی پی ڈبلیو ڈی کو یہ ہدایات جاری کی گئی تھیں کی وہ شہزادے کے کیمپ کے قریب صدر کے دورے کی مناسبت سے دو ہیلی پیڈ تعمیر کر دیں۔
سابق چیف سیکریٹری کے مطابق جلد ہی جنرل ضیا الحق ایک وفد کے ہمراہ دالبندین پہنچ گئے۔ تاہم شہزادے کی بجائے نچلے درجے کے سعودی اہلکاروں نے اُن کا استقبال کیا۔ ’جنرل ضیا الحق وہاں پہنچتے ہی شہزادے کے اس خیمے میں چلے گئے جو کہ کھانے پینے اور لوگوں سے ملاقات کےلیے لگایا گیا تھا۔‘ ’جنرل ضیا پہلے اکیلے خیمے کے اندر داخل ہوئے جہاں سعودی شہزادے کے عملے کے لوگ بھی وہاں موجود تھے۔ سعودی شہزادے نے صدر کو کہا کہ وہ اپنے ساتھ دوسرے لوگوں کو بھی اندر آنے کےلیے کہیں جس پر صدر کے ساتھ آنے والے اہلکاروں کو بھی وہاں بلا لیا گیا۔ اس طرح انہوں نے کامیابی سے صدر کے ساتھ اکیلے ملاقات سے گریز کیا۔‘ اس ملاقات میں دونوں کے درمیان بات چیت کا محور علاقے میں شکار کی صلاحیت بنا رہا۔
اس موقع پر جنرل ضیا الحق نے شہزدے کو تحائف پیش کیے تو جواب میں شہزادے نے بھی صدر کوگفٹس کا ایک پیکٹ تھما دیا جس میں 27 سٹیزن گھڑیوں کے علاوہ ایک راڈو گھڑی بھی تھی۔ اس قیمتی تحفے کو وصول کرنے کے بعد جنرل ضیاء الحق نے صوبائی انتظامیہ کو ہدایت کردی کہ آج کے بعد کوئی مقامی شخص غیر ملکی شہزادوں کے شکار میں خلل ڈالے تو اسے نشان عبرت بنا دیا جائے۔ وہ دن اور آج کا دن، بلوچستان میں عرب شیوخ کے ہاتھوں لاکھوں تلور شکار ہوچکے ہیں اور اب صورت حال یہ ہے کہ اس نایاب پرندے کی نسل معدومیت کے خطرے سے دوچار ہو چکی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button