ضیا اور مشرف: آئین شکن امریکی پٹھووں کا موازنہ


پاکستان کی سیاسی تاریخ کے تیسرے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق اور چوتھے آمر جنرل پرویز مشرف میں یہ ایک حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے کہ دونوں ہی اگست کے مہینے میں پیدا ہوئے اور اسی مہینے اقتدار سے رخصت بھی ہوئے۔ تاہم اتنا ضرور ہے کہ اگست 1988 میں ضیاء الحق کے اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ہی طیارہ حادثے میں ان کی زندگی کا بھی خاتمہ ہوگیا جبکہ اگست 2008 میں جنرل مشرف کے اقتدار کا خاتمہ تو ہو گیا لیکن وہ عدالت سے آئین شکنی کے جرم میں سزائے موت پانے کے باوجود ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ دونوں میں ایک قدر مشترک یہ بھی ہے کہ دونوں امریکی اشاروں پر چلے اور ملکی مفاد کو امریکہ کے ہاتھ گروی رکھ دیا جس کا خمیازہ پاکستان آج تک بھگت رہا ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں شاید اگست سے زیادہ کسی مہینے کی اہمیت نہیں۔ ناصرف پاکستان اسی ماہ کی چودہ تاریخ کو وجود میں آیا بلکہ ملکی تاریخ کے کئی اہم ترین واقعات اسی ماہ میں ہوئے۔ پاکستان کی تاریخ کے دو بڑے فوجی آمروں جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف کا بھی اگست کے مہینے سے گہرا تعلق ہے۔ ناصرف دونوں کی تاریخ پیدائش اسی ماہ کی ہے بلکہ دلچسپ طور پر دونوں کی اقتدار سے رخصتی بھی اگست ہی کے مہینے میں ہوئی۔
سینئر صحافی وسیم عباسی کی اردو نیوز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے آئین کے خالق ذوالفقارعلی بھٹو کو بزور طاقت ہٹا کر اقتدار سنبھالنے والے جنرل ضیا الحق 12 اگست 1924 کو پیدا ہوئے اور 17 اگست 1988 کو طیارہ حادثے میں جان گنوانے کے بعد ان کا اقتدار اختتام کو پہنچا۔
وزیراعظم نواز شریف کو ایک فوجی انقلاب میں ہٹا کر اقتدار میں آنے والے جنرل پرویز مشرف 11 اگست 1943 کو پیدا ہوئے اور  18اگست 2008 کو ان کے اقتدار کا سورج استعفے کی شکل میں غروب ہو گیا۔اگرچہ جنرل ضیا الحق نے ملک میں اسلامی نظام لانے کی بات کی اور جنرل پرویز مشرف نے روشن خیال اعتدال پسندی کا نعرہ لگایا مگر دونوں میں کئی قدریں مشترک بھی تھیں جن میں ایک امریکہ کے ساتھ مل کر افغانستان کی جنگ میں حصہ لینا بھی تھا۔
دونوں آرمی چیف تھے اور مارشل لا کے نتیجے میں صدر بنے تھے۔ دونوں نے اپنے آمرانہ اقتدار کو قانونی تحفظ دینے کی خاطر متنازعہ ریفرنڈم کرائے اور دھاندلی کی۔ دونوں نے اپنی پسند کی مسلم لیگ قائم کی اور الیکشن کے ذریعے اسے اقتدار بھی دلوایا۔
دونوں فوجی صدور میں کیا مختلف تھا کیا مشترک اس حوالے سے وسیم عباسی نے دو ایسے صحافیوں سے گفتگو کی ہے جنہوں نے بطور صحافی دونوں ادوار قریب سے دیکھے تھے۔ ڈان اخبار کے سابق ریزیڈنٹ ایڈیٹر ضیا الدین کے مطابق ضیا الحق اور مشرف میں زیادہ فرق نہیں کیونکہ دونوں آئین شکنی تھے۔ ’پاکستان کا فوجی خاص کر جنرل ایک خاص سانچے میں ڈھل جاتا ہے۔ گو بظاہر جنرل ضیا الحق اسلام کی بات کرتے تھے اور جنرل مشرف روشن خیالی کی مگر نہ ضیا اصل میں اسلام چاہتے تھے اور نہ مشرف روشن خیالی کے نظریے سے مخلص تھے بلکہ دونوں نے اسے اقتدار کی سیڑھی اور دوام کے لیے استعمال کیا‘۔
ضیا الدین کے مطابق ’جنرل ضیا الحق چونکہ ذوالفقار علی بھٹو کو ہٹا کر آئے تھے جنہیں پاکستان کے میڈیا اور اسٹیبشلمنٹ نے  بہت گناہ گار مشہور کر دیا تھا اسلیے انہوں نے خود کو مذہبی بنا کر پیش کیا مگر حقیقت میں وہ خود کلین شیو تھے حالانکہ انکے والد ایک امام مسجد تھے۔ ’اسی طرح جو اسلامی بینکاری جنرل ضیا نے متعارف کروائی وہ عام بینکاری ہی تھی بس انگریزی اصطلاحات کا اردو یا عربی ترجمہ کر دیا گیا تھا۔ سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ ضیا الحق  کے دور میں اسلام کے نام کے بے جا استعمال سے بہت خرابیاں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے نہ صرف قرارداد مقاصد کو آئین کا حصہ بنا دیا بلکہ اسلام کے نام پر ایک فراڈ ریفرنڈم کا بھی انعقاد کروا دیا۔‘
ضیا الدین کے مطابق ایسے ہی پرویز مشرف کی روشن خیالی بھی ڈھکوسلہ تھا کیونکہ جب ستمبر گیارہ کے حملوں کے بعد امریکی دباو پر مشرف نے افغان طالبان کے خلاف کارروائی کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا تو جنگ احد کا حوالہ دیا اور مذہب کو استعمال بھی کیا۔ دونوں سابق صدور کے درمیان قدر مشترک کے حوالے سے سوال پر ضیا الدین کا کہنا تھا کہ ’ضیا الحق کو گیارہ سال ملے اور مشرف کو نو سال مگر  دونوں ڈکٹیٹرز نے آئین کو پامال کیا غیر قانونی طور پر اقتدار پر قبضہ کیا۔ دونوں امریکی اشاروں پر چلے اور ملکی مفاد کو امریکہ کے ہاتھ گروی رکھ دیا ۔دونوں خود کو عقل کل سمجھتے تھے۔‘
سینئر صحافی اور روزنامہ پاکستان کے ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی کے مطابق دونوں فوجی سربراہوں کا موازنہ نہیں بنتا کیونکہ دونوں کی شخصیات میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ جنرل ضیا اسلام کی بات کرتے تھے۔ انہوں نے سودیت یونین کے خلاف مزاحمت کی اور مجاہدین کو منظم کیا اور تاریخ کا رخ بدلا۔ دوسری جانب جنرل مشرف نے طالبان کی حکومت ختم کرنے میں عوامی جذبات کے برعکس امریکہ کا ساتھ دیا تھا جس کے نتیجے میں ساری قوم کو نقصان اٹھانا پڑا۔ معیشت کا نقصان ہوا۔
تاہم مجیب الرحمن شامی کے مطابق لاابالی طبعیت کے باجود جنرل مشرف میں کچھ شخصی خوبیاں موجود تھیں۔ ان میں حوصلہ تھا کہ دوسرے کی بات سن سکیں اور بعض اوقات وہ دوسروں کی سن کر اپنی رائے تبدیل بھی کر دیا کرتے تھے جو کہ اچھی بات تھی۔ شامی کے مطابق دونوں کی قدر مشترک یہ تھی کہ دونوں نے اپنے اقتدار کو قانونی حثییت دینے کے لیے متنازع ریفرنڈم کروایا جس کے بعد ضیا پر بھی سوال اٹھے اور مشرف پر بھی۔ مشرف نے دو دفعہ آئین معطل کیا اور دوسری بار انہیں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جو ان کے استعفے پر منتج ہوا۔ لیکن تاریخ میں دونوں کو آئین شکن ڈکٹیٹرز کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور جنرل مشرف کو تو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ وہ پاکستان کے پہلے سند یافتہ غدار وطن قرار پائے۔

Back to top button