طالبات کی خفیہ ویڈیوز، مطالبات سینٹ کی قائمہ کمیٹی میں پیش

بلوچستان یونیورسٹی میں خفیہ کیمروں سے بنائی گئی ویڈیوز کے ذریعے طالبات کو بلیک میل کرنے کے معاملے کے پیش نظر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن(ڈی آر ایف)، سول سوسائٹی کے ارکان اور طالبات کے نمائندے شریک ہوئے ۔ اس موقع پر یونیورسٹی آف بلوچستان کے قائم مقام وائس چانسلر اور طالبات کے نمائندوں کو مطالبات پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران کمیٹی کو بتایا گیا کہ یونیورسٹی میں نگرانی کے لیے 92 کیمرے لگائے گئے تھے لیکن بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم پر ہونے والی تحقیقات کے دوران کُل آٹھ خفیہ کیمرے ملے، جن کے ذریعے طلبہ کی مرضی کے بغیر ان کی ریکارڈنگ کی گئی تھی۔ اس فوٹیج کے ذریعے انتظامیہ نے طالبات کو مبینہ طور پر بلیک میل کیا۔ سینیٹرز نے اس صورت حال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ بالخصوص وی سی ڈاکٹر اقبال جاوید سمیت ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ڈاکٹر اقبال جاوید مذکورہ کیس سامنے آنے کے بعد پہلے ہی مستعفی ہو چکے ہیں۔
اجلاس میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ بلوچستان یونیورسٹی میں کام کی جگہ پرہراسانی کے خلاف تحفظ ایکٹ اور پالیسی گائیڈلائن کے تحت کوئی کمیٹی نہیں بنائی گئی۔ ڈی آر ایف کی چیئر پرسن نگہت داد کہتی ہیں کہ یہ سکینڈل تو اب سامنے آیا ہے مگر ڈی آر ایف کافی عرصے سے اس بات پر زور دے رہی ہے کہ خفیہ کیمرے یا نگرانی کی دوسری ٹیکنالوجی کے استعمال اور پرائیویسی قائم رکھنے کے معاملے میں قواعدوضوابط کیا ہیں؟ انہوں نے کہا حال ہی میں سینما گھروں اور سیف سٹی پراجیکٹ کی ویڈیوز لیک ہوئیں۔ یہاں یہ ایک سوالیہ نشان ہے کہ آپ نے سی سی ٹی وی کیمرے تو لگا دیے لیکن ان سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی حفاظت کا نظام وضع نہیں کیا، کس کو اس ڈیٹا تک رسائی حاصل ہے؟ اس کو رئیل ٹائم میں کون دیکھتا ہے؟ کون ریکارڈ کرتا ہے؟ کچھ عرصے بعد اس ڈیٹا کو ضائع کرنے کے ایس او پیز کیا ہیں؟ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی 20 کروڑ کی آبادی ہے جہاں نجی اور حکومتی ادارے بغیر کسی پالیسی اور قانون کے، لوگوں کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرکے اس کا جائزہ لیتے ہیں اور پھر اپنی مرضی سے اسے استعمال کرتے ہیں۔ اس حوالے سے قانون آ بھی جائے تو کیا اس پر عمل درآمد کروایا جاسکےگا؟ ابھی جو بل سامنے آیا ہے اس میں صرف نجی اداروں کا ذکر ہے۔ نادرا اور سیف سٹی پراجیکٹ کو یہ کہہ کر نظرانداز کر دیا گیا کہ یہ ادارے قومی سلامتی سے متعلق ہیں اس لیے بل میں ان کا ذکر نہیں۔ انہوں نے کہا سوال یہ ہے کہ اگر حکومتی ادارے اس کے زمرے میں نہیں آتے تو پھر کون آتا ہے؟ آپ کا شناختی کارڈ بائیومیٹرک ہے آپ کو کچھ نہیں پتہ کہ آپ کا شناختی کارڈ نادرا میں کس کے پاس ہے؟
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بلوچستان یونیورسٹی کی دو طالبات بھی شریک تھیں۔ ایک طالبہ نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں بہت زیادہ کنٹرولڈ ماحول ہے، وہاں خوف و ہراس کی فضا ہے، جس کی وجہ سے اس طرح کے واقعات لمبے عرصہ تک سامنے نہیں آتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے معاملات میں ملوث تمام افراد کا احتساب ہونا چاہیے۔ یونیورسٹی کیمپس میں اسلحے پر پابندی لگائی جائے اور نگرانی والے کیمرے کیمپس کے بیرونی دروازوں تک محدود رکھے جائیں۔
کمیٹی کے اجلاس میں موجود تعلیمی اور سماجی شعبے کی کارکن عرفانہ ملاح نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں صنفی برابری کو مدنظر رکھا جائے۔ اجلاس میں شریک سینیٹرعائشہ رضا نے بلوچستان یونیورسٹی کی انتظامیہ کے اقدامات کو مجرمانہ غفلت قرار دیا۔ انہوں نے ہراسانی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے قائم کمیٹیوں میں صنفی برابری کی ضرورت پر زور دیا۔
