طالبان ترجمان نے فرار سے پہلے ایجنسیوں سے کیا معاہدہ کیا؟

ریاستی اداروں کی حراست سے پراسرار انداز میں فرار ہونے والے تحریک طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان اور حکومت کے مابین طے پانے والا ایک مبینہ معاہدہ سامنے آگیا ہے جس کے مطابق احسان اللہ احسان نے 2017 میں حکام کیساتھ معاملات طے کرنے کے بعد مشروط طور پر خود کو سرنڈر کیا تھا۔ طے شدہ معاہدے کی رو سے احسان اللہ کے خلاف درج شدہ قتل اور دہشت گردی کے تمام تر مقدمات ختم ہو جانے تھے اور اسے اپنے خاندان کے ساتھ بقیہ زندگی اچھے طریقے سے بسر کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے ایک کروڑ روپے بھی قسطوں میں ادا کیے جانے تھے ۔
سامنے آنے والے معاہدے میں حکومت پاکستان کو فریق اول قرار دیا گیا ہے جبکہ تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کو فریق دوئم قراردیا گیا ہے. معاہدے میں احسان اللہ احسان کا پورا نام لیاقت علی عرف احسان اللہ احسان اور ولدیت شیر افضل قوم صافی درج کی گئی ہے جبکہ احسان کو تحریک طالبان جماعت الاحرار کا سابقہ ترجمان قرار دیتے ہوئے اس کی سکونت ساگی بالا تحصیل صافی مہمند ایجنسی لکھی گئی ہے.
سامنے آنے والے مبینہ معاہدے کے مطابق احسان اللہ احسان کو حکومت کی جانب سے پابند کیا گیا تھا کہ وہ ہتھیار ڈالے گا اور پاکستان کے قانون اور آئین کی پاسداری کا وعدہ کرے گا اور اس بات کی بھی پابندی کرے گا کہ وہ پاکستان کے اندر اور باہر کسی قسم کی تخریبی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا اور نہ ہی ایسی کسی کارروائی کی حکمت عملی کا حصہ بنے گا.
حکومت اور احسان میں طے پانے والے معاہدے کے مطابق قانون اور آئین کی پاسداری کرنے اور پر امن رہنے کی شرط پر حکومت پاکستان کی طرف سے احسان اللہ احسان کے خلاف قبائلی علاقہ جات سمیت پورے ملک میں درج مقدمات قانون کے تحت ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی.
WhatsApp Image 2020 02 15 at 4.00.31 PM 1
احسان اللہ احسان کو حکام کی طرف سے یہ یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ اسے ہتھیار ڈال کر پاکستان آنے پر خوش آمدید کہا جائے گا اور کسی ٹارچر سیل یا جیل میں رکھنے کی بجائے محفوظ جگہ پر رہائش دی جائے گی. معاہدے کے مطابق حکومت پاکستان کی طرف سے احسان اللہ احسان کو گاؤں میں اپنا تباہ شدہ گھر دوبارہ تعمیر کروا کر دینے اور زندگی گزارنے کیلئے ایک کروڑ روپے اور سیکیورٹی فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ اسکے علاوہ احسان پر موبائل فون یا انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے کسی قسم کی پابندی عائد نہ کرنے کا بھی وعدہ کیا گیا تھا۔
جب اس معاہدے کی تصدیق کے لیے حکومتی ذرائع سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ پشاور آرمی پبلک سکول کے سانحے میں شہید ہونے والے سو سے زائد طالب علموں کے والدین پہلے ہی یہ الزام لگا رہے ہیں کہ احسان اللہ احسان ریاستی اداروں کی حراست سے فرار نہیں ہوا بلکہ اسے فرار کروایا گیا ہے۔
ریاستی اداروں کی جانب سے مطلوب ترین طالبان دہشتگرد کے پرسرار حالات میں فرار ہوجانے پر مسلسل حکومتی خاموشی کے بعد دسمبر 2014 کے پشاور آرمی پبلک سکول سانحہ میں شہید طالب علموں کے والدین نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد سے اس فرار کی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔ مقتول بچوں کے والدین نے مطالبہ کیا کہ چیف جسٹس تحقیقات کروائیں کہ کیا وہ واقعی فرار ہوا یا اسے کسی معاہدے کے تحت رہا کیا گیا؟
چیف جسٹس آف پاکستان کے نام لکھے گئے مشترکہ خط میں شہید بچوں کے والدین نے مزید کہا ہے کہ یہ بھی پتہ لگوایا جائے کہ آرمی پبلک اسکول پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے باوجود احسان کو کس معاہدے کے تحت تین سال تک عدالتی ٹرائل کے بغیر فوجی تحویل میں رکھا گیا جہاں سے بالآخر وہ فرار ہوگیا یا اسے فرار کروا دیا گیا۔
درخواست میں چیف جسٹس سے یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ احسان اللہ احسان کے فرار میں ذمہ دار لوگوں کو نوٹس جاری کر کے طلب کیا جائے اور وضاحت طلب کی جائے۔ شہید طلبا میں سے ایک طالبعلم آجون خان کے والد نے یہ درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروائی ہے۔
یاد رہے کہ نومبر 2017 میں ہتھیار ڈال دینے والا احسان اللہ احسان تقریبا تین سال بعد جنوری 2020 میں ایک سیف ہاؤس سے اپنے بال بچوں سمیت فرار ہوگیا تھا جس کے بعد اس نے ایک آڈیو ٹیپ میں اپنے فرار کا انکشاف کیا تھا۔
اہنے آڈیو پیغام میں احسان اللہ کا کہنا تھا کہ میں نے پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے سامنے 5 فروری 2017 کو ایک معاہدے کے تحت ہتھیار ڈال دئیے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میں نے اپنی طرف سے وعدوں کی پاسداری کی لیکن پاکستانی عہدیداروں پر اس کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اور میرے اہل خانہ کو قید میں رکھا گیا لہذا میں نے فرار ہونے کا فیصلہ کیا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ بہت جلد ریاستی اداروں کے کرتوتوں سے پردہ اٹھائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button