طالبان سے مذاکرات کے بلنڈر کا ذمہ دار کون تھا؟

جنرل عاصم منیر کے آرمی چیف بننے کے بعد فوجی اسٹیبلشمنٹ نے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی پالیسی کو ایک بلنڈر قرار دیتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ اب ریاست دشمن دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی اور اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا۔ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی فوجی قیادت اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ ماضی میں تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کی پالیسی نے طالبان کو دوبارہ سے منظم ہونے میں مدد دی جس کا نتیجہ آج دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

تحریکِ انصاف کی حکومت کے دوران کالعدم تحریکِ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی منظوری سابق وزیراعظم عمران خان نے دی تھی جس کے بعد سابق آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید نے ٹی ٹی پی کی قیادت کے ساتھ مذاکرات شروع کیے تھے۔ یہ مذاکرات افغان طالبان کی حکومت کے ذریعے افغانستان میں ہوئے۔ اس دوران ٹی ٹی پی کے مطالبے پر پاکستان میں قید درجنوں طالبان جنگجوؤں کو رہا کیا گیا جنہوں نے ملک واپس آکر اپنی دہشت گرد کاروائیوں کا دوبارہ سے آغاز کر دیا۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گزشتہ حکومت کی غلط پالیسی تھی جس سے شدت پسند گروپ کو منظم ہونے کا موقع ملا۔ دوسری جانب عمران خان سمیت پی ٹی آئی رہنما اب بھی اس پالیسی کا دفاع کر رہے ہیں۔

12 جنوری کو تحریکِ انصاف کے زیرِ اہتمام ہونے والی سیکیورٹی کانفرنس میں عمران خان نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ صرف اُن کا نہیں بلکہ تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول فوجی قیادت کا تھا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ فوجی آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ بات چیت کے ذریعے ہی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔سابق وزیرِ اعظم نے خبردار کیا کہ اگر دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے اپنی جنگ شروع کی تو پھر یہ چلتی جائے گی۔

اس سیمینار سے خطاب کے دوران وزیرِ اعلٰی خیبرپختونخوا نے بھی کہا کہ سلامتی سے متعلق اہم اجلاسوں میں اُنہیں مدعو نہیں کیا جاتا۔ حالاں کہ اُن کا صوبہ شدت پسندی سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ انہوں نے حکمران اتحاد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ شدت پسندی کی یہ آگ صرف خیبر پختوںخوا اور سابق قبائلی علاقوں تک ہی محدود نہیں رہے گی بلکہ یہ پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے گی۔ اس لیے تمام سٹیک ہولڈرز کو دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے مل کر ایک جامع حکمتِ عملی مرتب کرنا ہو گی۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت کے وزرا تحریکِ انصاف پر یہ تنقید کرتے رہے ہیں کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف حکومت کے ساتھ مل بیٹھنے کے بجائے سابق وزیرِ اعظم عمران خان ریاستی اداروں پر صرف نکتہ چینی کرتے ہیں۔ وزرا کا یہ بھی مؤقف رہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلٰی اپنے صوبے میں سیکیورٹی صورتِ حال پر توجہ دینے کے بجائے لاہور میں عمران خان کی رہائش گاہ میں زیادہ نظر آتے ہیں۔

اسلام آباد میں فاٹا ریسرچ سینٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر منصور خان محسود کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو افغان باشندوں کی حمایت حاصل ہے اورپاکستان میں ہونے والے حالیہ بعض حملوں میں افغان باشندوں کے ملوث ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔ منصور خان نے کہا کہ اگر ٹی ٹی پی کے خلاف افغانستان میں کسی بھی قسم کی کارروائی کی گئی تو اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں اور یہ صورتِ حال پاکستان کی مشکلات میں اضافے کا سبب بنے گی۔ ان کے بقول، "افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد سے پاکستان میں ٹی ٹی پی اور بلوچ شدت پسندوں کی کارروائیوں میں تیزی آ گئی ہےاور اس ضمن میں حکومتِ پاکستان نے متعدد بار افغان طالبان سے بات کی ہے لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔”

سیکیورٹی امور کے ماہرین کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب افغان طالبان کی حکومت کو عالمی سطح پر کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا، افغان طالبان ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کے ذریعے پاکستان کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ان کی حکومت کو تسلیم کیا جا سکے۔ لیکن انسٹی ٹیوٹ آٖف پالیسی اسٹیڈیز سے منسلک دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) سید نذیر کہتے ہیں کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کا یہ دعویٰ درست ہے کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر ریاستی ادارے آن بورڈ تھے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس وقت کے آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور کابل میں پاکستانی سفیر مذاکرات میں پیش پیش تھے اور معاملے کو پارلیمنٹ میں بھی زیرِ بحث لایا گیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں کامیابی کا کریڈٹ لینے تو ہر کوئی آ جاتا ہے لیکن ناکامی کی صورت میں تمام ادارے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اب جبکہ پاکستان کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے مذاکرات کی پالیسی ترک کر کے تحریک طالبان کے خلاف فوجی ایکشن کی منظوری دے دی ہے تو اس میں دیر نہیں کرنی چاہئے۔

Back to top button